بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 15 hadith
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن قاسم سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ نبی ﷺ کی بیوی سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کے سفروں میں سے کسی ایک سفر میں نکلے۔ جب بَيْدَاء يا ذاتُ الْجَيْش مقام میں پہنچے تو میرا ایک ہار ٹوٹ کر گر گیا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے ڈھونڈنے کے لیے ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے اور وہ پانی کے نزدیک نہ تھے۔ اس پر لوگ حضرت ابو بکر صدیق کے پاس آئے اور کہا: کیا آپ نہیں دیکھتے کہ حضرت عائشہ نے کیا کیا؟ رسول اللہ ﷺ اور لوگوں کو ٹھہرا دیا اور وہ پانی کے نزدیک نہیں ہیں اور نہ اُن کے ساتھ پانی ہے۔ اس پر حضرت ابو بکر آئے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر میری ران پر رکھا ہوا تھا۔ آپ سو گئے تھے۔ کہنے لگے تم نے رسول اللہ ﷺ اور لوگوں کو روک دیا ہے اور وہ پانی کے نزدیک نہیں ہیں اور نہ ان کے ساتھ پانی ہے۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ حضرت ابو بکر مجھے ملامت کرنے لگے اور جو اللہ نے کہلانا چاہا، انہوں نے کہا۔ اور میرے پہلو میں اپنے ہاتھ سے مجھے چوک دینے لگے اور ہلنے جلنے سے صرف یہی بات مجھے روکتی تھی کہ نبیؐ میری ران پر آرام کر رہے تھے۔ جب صبح ہوئی تو آپ اُٹھے مگر پانی نہ تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل کی اور لوگوں نے تیمم کیا۔ اُسید بن حضیر نے کہا: اے ابو بکر کی اولاد تمہاری برکتوں میں سے یہ کوئی پہلی برکت نہیں۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہم نے وہ ہار اُس کے نیچے پایا۔
The wife of the Prophet (sa), ʿĀʾishah (r.a), narrated: ‘We accompanied the Messenger of Allāh (sa) on one of his journeys. When we reached al-Baidāʾ, or Dhāt al-Jaish, my necklace broke [and fell]. The Messenger of Allāh (sa) stopped to search for it. The people stopped with him, but they were not near water. People came to Abū Bakr (r.a) and said: “Do you not see what ʿĀʾishah (r.a) has done? She has made the Messenger of Allāh (sa) and the people stop [at a place] where they are not near water, nor do they have any water with them.” So Abū Bakr (r.a) came and found the Messenger of Allāh (sa) resting his head on my thigh. He had fallen asleep. He said: “You have held the Messenger of Allāh (sa) and the people back [at a place] where they are not near water, nor do they have any water with them”.’ ʿĀʾishah (r.a) said: ‘Abū Bakr (r.a) admonished me, said whatever Allāh willed him to say and began nudging me in my side with his hand. The only thing that kept me from moving was that the Messenger of Allāh (sa) was [resting] on my thigh. Then, when the Messenger of Allāh (sa) rose in the morning and there was no water, Allāh revealed the verse regarding tayammum, and so everyone performed it.’ Usaid ibn al-Ḥuḍair said: ‘This is not your first blessing, O family of Abū Bakr (r.a).’ ʿĀʾishah (r.a) added that when they lifted the camel on which she was sitting, they located the necklace underneath it.
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا کہا: بشیم نے ہم سے بیان کیا۔ نیز (ابوعبداللہ بخاری) نے کہا کہ مجھ سے سعید بن نضر نے بیان کیا کہا: بشیم نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: ہمیں سیار نے بتلایا کہا: یزید فقیر نے، جو کہ صہیب کے بیٹے ہیں، ہم سے بیان کیا کہتے تھے: حضرت جابر بن عبداللہ نے ہمیں بتلایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: پانچ ایسی باتیں مجھے دی گئی ہیں کہ مجھ سے پہلے وہ کسی کو بھی نہیں دی گئیں۔ رعب سے میری مدد کی گئی ہے جو مہینہ بھر کی مسافت تک اثر کرتا ہے اور ساری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے۔ پس میری امت میں سے جس شخص کو بھی (جہاں بھی) نماز کا وقت آجائے وہ وہیں پڑھ لے اور میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھیں اور مجھے سفارش کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور نبی پہلے محض اپنی قوم کی طرف ہی بھیجا جاتا تھا اور میں تمام لوگوں کے لئے بھیجا گیا ہوں۔
(تشریح)Jābir (r.a) ibn ʿAbd Allāh narrated that the Prophet (sa) said: ‘I have been given five things no-one has ever been given before me: [1] I have been granted awe [which extends as far as] the distance [one can travel in] a month. [2] The earth has been made a mosque for me and a means of purification, so if the time for Prayer arrives for any man of my nation, [wherever he may be] he can offer Prayer. [3] Spoils of war have been made lawful for me, whereas they were not made lawful for anyone before me. [4] I have been given the [authority of] intercession. [5] Whereas, beforehand, a Prophet would be sent only to his own people; I have been sent to all of mankind.’
ہم سے زکریا بن بیٹی نے بیان کیا کہا: عبد اللہ بن تمیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہشام بن عروہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت اسماء سے گلے کا ہار عاریہ لیا وہ (ہار) گم ہو گیا تو رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو بھیجا اور اس نے وہ ڈھونڈ لیا۔ اسی اثناء میں ان کو نماز کا وقت بھی آ گیا اور ان کے ساتھ پانی نہ تھا۔ انہوں نے نماز پڑھ لی اور رسول اللہﷺ کے پاس اس کی شکایت کی۔ اس پر اللہ تعالی نے تیم کی آیت نازل فرمائی۔ اور اسید بن حضیر نے حضرت عائشہ سے کہا: اللہ آپ کو بہتر بدلہ دے۔ بخدا آپ کے ساتھ کوئی وقوعہ بھی ایسا نہیں ہوا، جسے آپ نے برا منایا ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کے لیے اور مسلمانوں کے لیے بھلائی نہ رکھی ہو۔
(تشریح)ʿĀʾishah (r.a) narrated that she borrowed a necklace from Asmāʾ and it went missing. The Messenger of Allāh (sa) sent a man [to look for it], who recovered it. Then, the time came for the people to offer Prayer, but they had no water. They offered Prayer and later mentioned this matter to the Messenger of Allāh (sa). So Allāh revealed the verse regarding tayammum. Usaid ibn Ḥuḍair said to ʿĀʾishah (r.a): ‘May Allāh grant you a good reward, as I swear by Allāh, whenever something you dislike happens to you, Allāh places some goodness in it for you and for the Muslims.’
ہم سے یحیی بن بکیر نے بیان کیا کہا: لیٹ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، جعفر نے اعرج سے روایت کی کہ میں نے حضرت ابن عباس کے غلام عمیر سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں اور نبی ﷺ کی بیوی حضرت میمونہ کے (آزاد کرده) غلام عبداللہ بن سیار آئے اور ہم حضرت ابو جہیم بن حارث بن صمہ انصاری کے پاس اندر گئے تو حضرت ابو جہیم نے کہا کہ نبی ﷺ پیر جمل کی طرف سے آ رہے تھے کہ ایک شخص آپ سے ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا۔ نبی ﷺ نے اس کو جواب نہیں دیا۔ آپ سامنے دیوار کی طرف آئے اور اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا اور پھر آپ نے اس کو سلام کا جواب دیا۔
(تشریح)The freed slave of Ibn ʿAbbās (r.a), ʿUmair, narrated: ‘I departed with the freed slave of Maimūnah (r.a), wife of the Prophet (sa), ʿAbd Allāh ibn Yasār, [and continued] until we reached Abū Juhaim ibn al-Ḥārith ibn al-Ṣimmah al-Anṣārī. Abū Juhaim recounted that the Prophet (sa) approached from the direction of Biʾr Jamal when a man met him and greeted him with peace [i.e. said ‘assalāmu-ʿalaikum’], but the Prophet (sa) did not reply. He moved towards a wall, wiped his face and hands and then returned the greeting of peace.
ہم سے آدم نے بیان کیا کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا: ) حکم نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ذر سے، ذر نے سعید بن عبدالرحمن بن ابزگی سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب کے پاس آیا اور کہنے لگا میں جنبی ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا تو حضرت عمار بن یاسر نے حضرت عمر بن خطاب سے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ ہم یعنی میں اور آپ ایک سفر میں تھے۔ آپ نے تو نماز نہ پڑھی اور میں تو مٹی میں (جانور کی طرح) لوٹا تھا اور نماز پڑھ لی تھی۔ میں نے نبی ﷺ کے پاس اس کا ذکر کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: تم کو صرف اس طرح کافی تھا اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر اُن میں پھونکا اور اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔
(تشریح)ʿAbd al-Raḥmān ibn Abzá narrated that a man came to ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (r.a) and said: ‘I was in a state of major ritual impurity (janābah) and could not find water.’ ʿAmmār ibn Yāsir then reminded ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (r.a): ‘Do you not recall when we were once on a journey? You did not offer Prayer, but I rolled [in dust] and [then] prayed. I mentioned this to the Prophet (sa) and he remarked: “Doing this was enough”, and he struck his hands against the earth, blew in them and used them to wipe his face and hands.’
ہم سے حجاج نے بیان کیا کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے ذر سے، ذر نے سعید بن عبد الرحمن بن ابزیؒ سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عمارؓ نے یہی کہا: اور شعبہ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور پھر اپنے منہ کے نزدیک کئے پھر اپنے منہ اور اپنے ہاتھوں کا مسح کیا۔ اور نضر کہتے تھے کہ شعبہ نے حکم روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ کہا کہ میں نے ذرّ کو ابن عبد الرحمن بن ابزیؒ سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ حکم کہتے تھے کہ میں نے ابن عبد الرحمان بن ابزیؒ سے سنا۔ وہ اپنے باپ سے روایت کرتے تھے کہ حضرت عمارؓ نے کہا: { پاکیزہ مٹی مسلمان کے لیے وضو (کی قائم مقام) ہے جو اس کی پانی کی ضرورت کو پورا کر دیتی ہے۔ }
ʿAbd al-Raḥmān ibn Abzá narrated that ʿAmmār said the same [as the previous narration]. And Shuʿbah struck his hands against the earth, brought them close to his mouth and rubbed his face and hands. Al-Naḍr stated: ‘Shuʿbah narrated to us via Al-Ḥakam: “I heard Dharr relating [this ḥadīth] from ʿAbd al-Raḥmān ibn Abzá.”’ Al-Ḥakam said: ‘I heard ʿAbd al-Raḥmān recount from his father that ʿAmmār said: “Pure earth [suffices] the ablution of a Muslim and serves as water for him”.’
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے ذر سے، ذر نے ابن عبد الرحمان بن ابری سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ وہ حضرت عمرؓ کے پاس حاضر ہوئے اور حضرت عمار نے انہیں کہا: ہم ایک دستہ فوج میں تھے اور ہم جنبی ہوئے تھے اور انہوں نے بجائے ”تَفَلَ فِيهِمَا“ کے ”نَفَخَ فِيهِمَا“ کہا۔ یعنی (آپ نے) اُن دونوں (ہاتھوں) میں زور سے پھونکا۔
ʿAbd al-Raḥmān ibn Abzá narrated that he was with ʿUmar (r.a) when ʿAmmār (r.a) said to him: ‘We were on an expedition and fell into a state of major ritual impurity’. [Instead of saying ‘nafakha fīhimā’ as reported in Ḥadīth 338,] he said ‘tafala fīhimā’ [he blew on them].
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے ذرّ سے، ذرّ نے ابن عبد الرحمن بن ابزگی سے روایت کی۔ انہوں نے (اپنے باپ) عبدالرحمن سے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمار نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ میں مٹی میں لوٹا تھا اور پھر نبیﷺ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: منہ اور ہاتھوں کا مسح کرنا ہی تمہارے لئے کافی ہے۔
ʿAbd al-Raḥmān ibn Abzá narrated that ʿAmmār (r.a) said to ʿUmar (r.a): ‘I rolled in the dust and came to the Prophet (sa), and he said: “The face and the hands would have sufficed”.’
ہم سے مسلم (بن ابراہیم) نے بیان کیا (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے ذر سے، ذر نے ابن عبد الرحمن (بن ابزگی) سے، انہوں نے عبدالرحمن سے روایت کی۔ کہتے تھے کہ میں حضرت عمر کے پاس حاضر ہوا اور اُن کو حضرت عمار نے کہا۔۔۔۔۔اور پھر ساری حدیث بیان کی۔
ʿAbd al-Raḥmān ibn Abzá narrated: ‘I was present with ʿUmar (r.a) when ʿAmmār (r.a) said to him…’. And he conveyed the whole ḥadīth.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا: غندر نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے ذر سے، ذر نے ابن عبدالرحمن بن ابر علی سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ کہتے تھے کہ حضرت عمار نے کہا: نبی ﷺ نے زمین پر اپنا ہاتھ مارا اور پھر اپنے منہ اور اپنے دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔
(تشریح)ʿAbd al-Raḥmān ibn Abzá narrated: ‘ʿAmmār said that the Prophet (sa) struck the ground with his hands and wiped his face and hands.’