بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 27 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: یزید بن ابی حبیب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوالخیر سے، ابوالخیر نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے زیادہ مستحق شرطیں کہ جن کو تم پورا کرو، وہ ہیں جن کے ذریعہ سے تم نے (عورتوں کی) شرم گاہوں کو (اپنے لئے) حلال سمجھا ہے۔
(تشریح)مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: میں نے حنظلہ زُرَقی سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ تمام انصار میں سے ہمارے کھیت زیادہ تھے اور ہم زمین کو کرایہ پر دیا کرتے تھے۔ کبھی یہ (زمین) پیدا کرتی اور وہ (زمین) پیدا نہ کرتی۔ اس لئے ہمیں بٹائی پر زمین دینے کی ممانعت کی گئی اور روپے کے بدلے میں (زمین کا ٹھیکہ دینے سے) ممانعت نہیں کی گئی۔
(تشریح)مسدد نے ہمیں بتایا۔ یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سعید (بن مسیب) سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: بستی والا دیہاتی کے لئے نہ بیچے؛ اور تم آپس میں فریب دہی نہ کیا کرو اور نہ کبھی کوئی اپنے بھائی کی خرید و فروخت پر بڑھائے؛ اور نہ اس کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجے؛ اور نہ کوئی عورت اپنی سوکن کو طلاق دینے کے لئے کہے تاکہ اس کے برتن کو بھی (اپنے برتن میں) اُنڈیل لے۔
(تشریح)قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ان دونوں نے کہا کہ بدویوں میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اُس نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپؐ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کی کتاب کے مطابق میرا فیصلہ فرمائیں۔ اور اُس کے حریف نے بھی کہا اور وہ اُس سے زیادہ سمجھدار تھا۔ ہاں آپؐ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے (بیان کرنے کی) اجازت دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیان کرو۔ اُس نے کہا: میرا بیٹا اس کے پاس نوکر تھا اور اُس نے اِس کی بیوی سے زنا کیا اور مجھے بتایا گیا کہ میرا بیٹا سنگسار ہوگا۔ میں نے ایک سو بکری اور ایک لونڈی دے کر اُس کو چھڑا لیا۔ پھر میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو تو صرف ایک سو کوڑے پڑنا تھے اور ایک سال کی جلا وطنی، اور اس (شخص) کی بیوی کو سنگسار کرنا تھا۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اُسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا۔ وہ لونڈی اور بکریاں تو واپس کی جائیں اور تمہارے بیٹے کو ایک سو کوڑا لگایا جائے اور وہ ایک سال کے لئے جِلا وطن کردیا جائے۔ اُنیس! کل اس کی بیوی کے پاس جائو۔ اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کرو۔ (حضرت ابوہریرہؓ نے) کہا: چنانچہ اُنیس دوسرے دن صبح اس کے پاس گئے۔ اُس نے اقرار کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی نسبت فیصلہ فرمایا۔ وہ سنگسار کی گئی۔
(تشریح)قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبید اللہ نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ان دونوں نے کہا کہ بدویوں میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اُس نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپؐ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کی کتاب کے مطابق میرا فیصلہ فرمائیں۔ اور اُس کے حریف نے بھی کہا اور وہ اُس سے زیادہ سمجھدار تھا۔ ہاں آپؐ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے (بیان کرنے کی) اجازت دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیان کرو۔ اُس نے کہا: میرا بیٹا اس کے پاس نوکر تھا اور اُس نے اِس کی بیوی سے زنا کیا اور مجھے بتایا گیا کہ میرا بیٹا سنگسار ہوگا۔ میں نے ایک سو بکری اور ایک لونڈی دے کر اُس کو چھڑا لیا۔ پھر میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو تو صرف ایک سو کوڑے پڑنا تھے اور ایک سال کی جلا وطنی، اور اس (شخص) کی بیوی کو سنگسار کرنا تھا۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اُسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا۔ وہ لونڈی اور بکریاں تو واپس کی جائیں اور تمہارے بیٹے کو ایک سو کوڑا لگایا جائے اور وہ ایک سال کے لئے جِلا وطن کر دیا جائے۔ اُنیس! کل اس کی بیوی کے پاس جائو۔ اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کرو۔ (حضرت ابوہریرہؓ نے) کہا: چنانچہ اُنیس دوسرے دن صبح اس کے پاس گئے۔ اُس نے اقرار کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی نسبت فیصلہ فرمایا۔ وہ سنگسار کی گئی۔
(تشریح)خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد بن ایمن مکی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا۔ کہتی تھیں کہ بریرہؓ میرے پاس آئی اور وہ مکاتَبہ تھی۔ اس نے کہا: امّ المومنین! آپؓ مجھے خرید لیں کیونکہ میرے مالک مجھے بیچتے ہیں۔ پھر آپؓ مجھ کو آزاد کردیں۔ (حضرت عائشہؓ نے) کہا: اچھا۔ بریرہؓ نے کہا: میرے مالک مجھے نہیں بیچتے جب تک میرے حق وراثت کو اپنے لئے مشروط نہ کر لیں۔ (یہ سن کر حضرت عائشہؓ نے) کہا: مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ نے سنی؛ یا آپؐ کو پہنچی تو آپؐ نے (حضرت عائشہ سے) پوچھا کہ بریرہؓ کا کیا معاملہ ہے؟ آپؐ نے (معاملہ سن کر) فرمایا: تم اسے خرید لو اور اس کو آزاد کردو اور وہ جو چاہیں شرطیں کر لیں۔ (حضرت عائشہؓ) کہتی تھیں: تب میں نے اسے خرید لیا اور اس کو آزاد کردیا؛ اور اس کے مالکوں نے اس کے حق وراثت کو اپنے لئے مشروط رکھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: حق وراثت تو اس کا ہوتا ہے جو آزاد کرے، خواہ مالک سو شرطیں لگائیں۔
(تشریح)محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عدی بن ثابت سے، عدی نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے تجارتی قافلہ سے آگے جا کر ملنے کی ممانعت کی۔ اور اس بات سے بھی کہ کوئی مہاجر کسی بدوی کے لئے خرید و فروخت کرے۔ اور اس سے بھی کہ کوئی عورت اپنی بہن کو طلاق دینے کی شرط کرے۔ اور اس سے بھی کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے۔ اور آپؐ نے دھوکا دینے کیلئے قیمت بڑھانے سے اور تھنوں میں دودھ جمع رکھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ (محمد بن عرعرہ کی طرح) معاذ (بن معاذ) اور عبدالصمد نے بھی شعبہ سے یہ روایت نقل کی ہے۔ اور غندر اور عبدالرحمن (بن مہدی) نے یوں کہا: منع کیا گیا ہے۔ اور آدم (بن ابی ایاس) نے کہا کہ ہمیں ممانعت کی گئی؛ اور نضر (بن شمیل) اور حجاج بن منہال نے یوں کہا کہ (آنحضرت ﷺ) نے منع فرمایا۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔ ان کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے یعلی بن مسلم اور عمرو بن دینار نے سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کچھ زیادہ بیان کرتا تھا۔ (ابن جریج نے کہا:) مجھ سے یہ بات یعلی اور عمرو کے سوا اَوروں نے بھی بیان کی۔ (کہتے تھے:) میں نے ان کو سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہوئے خود سنا۔ انہوں نے کہا: ہم (حضرت عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے کہ انہوں نے کہا: ابی بن کعب نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے رسول موسٰیؑ۔۔۔ پھر آپؐ نے سارا واقعہ بیان کیا (جو قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے کہ خضرؑ نے موسٰیؑ سے) کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ استقلال سے نہیں ٹھہر سکو گے۔ پہلی بات بھول کر ہوئی اور درمیان کی بات شرطیہ تھی اور تیسری بات جان بوجھ کر ہوئی۔ (موسٰیؑ نے) کہا: جو میں بھول گیا اس پر میری گرفت نہ کریں اور میری غلطی کی وجہ سے مجھے مشکلات میں نہ ڈالیں۔ وہ دونوں ایک لڑکے سے ملے تو خضرؑ نے اس کو مار ڈالا۔ دونوں آگے چلے اور پھر ان دونوں نے ایک دیوار پائی جو گرنے کو تھی۔ انہوں نے اس کو درست کر دیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے یہ آیت یوں پڑھی ہے: اَمَامَھُمْ مَلِکٌ (بجائے وَرَآئَھُمْ مَلِکٌ کے۔)
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ کہتی تھیں: بریرہؓ میرے پاس آئی، کہنے لگی کہ میں نے اپنے مالکوں سے اپنی آزادی کے لئے نَواوقیہ ادا کرنے پر تحریری معاہدہ کرلیا ہے اور ہر سال میں ایک اوقیہ ادا کروں گی۔ اس لئے آپؓ میری مدد کریں۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: اگر وہ (یعنی مالک) پسند کریں کہ میں ان کو (نَو اوقیہ ابھی) نقد ادا کردوں، اس شرط پر کہ تمہارا ترکہ میرا ہوگا؛ تو میں نقد دے دوں گی۔ بریرہؓ اپنے مالکوں کے پاس گئی اور ان سے ساری بات کہہ دی لیکن انہوں نے بات نہ مانی۔ جب وہ وہاں سے واپس آئی تو اُس وقت رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے۔ اس نے (حضرت عائشہؓ سے) کہا: میں نے تو اُن کے سامنے (آپؓ کی) یہ بات پیش کردی تھی لیکن انہوں نے منظور نہیں کی؛ بجز اس کے کہ ترکہ انہی کا ہو۔ نبی ﷺ نے یہ بات سنی (تو دریافت فرمایا۔) حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ سے سارا واقعہ بیان کردیا۔ آپؐ نے فرمایا: بریرہؓ کو خرید لو اور انہیں رہنے دو۔ وہ حق وراثت کی شرط کیا کریں۔ حق وراثت تو اس کے لئے ہوتا ہے جو آزاد کرے۔ حضرت عائشہؓ نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے، آپؐ نے اللہ کی حمد بیان کی اور تعریف کی؛ پھر فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں پائی جاتیں۔ جو شرط بھی ایسی ہوگی کہ اللہ کی کتاب میں نہیں تو وہ باطل ہوگی؛ گو سو شرطیں ہوں۔ اللہ کا فیصلہ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس پر عمل کیا جائے اور اللہ کی شرط ہی زیادہ مضبوط ہے۔ حق وراثت اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔
(تشریح)ابو احمد (مرار بن حمویہ) نے ہمیں بتایا کہ محمد بن یحيٰ ابوغسان کنانی نے ہم سے بیان کیا۔ (اس نے کہا) کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب خیبر والوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو مارا اور ان کے ہاتھ پائوں مروڑے تو حضرت عمرؓ لوگوں میں کھڑے ہو کر ان سے مخاطب ہوئے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے یہودیوں سے اُن کی ملکیتوں میں بٹائی کا معاملہ کیا تھا اور فرمایا تھا: ہم تمہیں اس وقت تک یہاں رکھیں گے جب تک اللہ تمہیں یہاں رکھے گا۔ اور عبداللہ بن عمرؓ اپنا مال لینے کے لیے وہاں گئے تو رات کو ان پر حملہ کیا گیا اور ان کے دونوں ہاتھ اور دونوں پائوں مروڑ کر ٹیڑھے کر دئیے اور وہاں اُن (یہودیوں) کے سوا ہمارا کوئی دشمن نہیں۔ وہی ہمارے دشمن ہیں اور انہی پر ہمارا شبہ ہے۔ اور میں نے مناسب خیال کیا ہے کہ ان کو وہاں سے نکال دوں۔ جب حضرت عمرؓ نے اس بات کا پختہ ارادہ کر لیا تو بنواَبی حُقَیق میں سے ایک شخص اُن کے پاس آیا اور اس نے کہا: امیر المومنین! کیا آپؓ ہمیں نکالتے ہیں ؛ بحالیکہ محمد (ﷺ) نے ہم کو وہاں ٹھہرایا تھا اور ہمارے ساتھ ان زمینوں (میں بٹائی) کا معاملہ کیا تھا اور ہم سے یہی شرط کی تھی (کہ تم یہیں رہنا۔) حضرت عمرؓ نے کہا: کیا تم یہ سمجھتے ہو، میں رسول اللہ ﷺ کی بات بھول گیا ہوں۔ (آپؐ نے فرمایا تھا) کہ تمہارا کیا حال ہوگا جب خیبر سے تم نکالے جاؤ گے اور تمہاری اُونٹنی تمہیں راتوں کو لئے بھاگتی پھرے گی۔ اس نے کہا کہ ابو القاسم کی طرف سے یہ بات تو دِل لگی کے طور پر تھی۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ آخر حضرت عمرؓ نے اُن کو وہاں سے نکال دیا اور پیداوار میں اُن کا جو حصہ تھا، انہیں اس کی قیمت دے دی۔ کچھ نقد دیا اور کچھ اُونٹ اور سامان یعنی پالان اور رسیاں وغیرہ دئیے۔ حماد بن سلمہ نے بھی عبید اللہ سے اسے روایت کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ (مالک کی طرح) عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے حضرت عمرؓ سے، حضرت عمرؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ مگر اس کو حماد نے (حضرت عمرؓ کا واسطہ ہٹا کر روایت کے سلسلہ کو) مختصر کر دیا۔
(تشریح)