بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 21 hadith
سعید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا۔ ابو غسان نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: ابو حازم (سلمہ بن دینار) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ (قبیلہ) بنی عمرو بن عوف کے بعض لوگوں کے درمیان کچھ جھگڑا تھا تو نبی ﷺ اپنے صحابہ میں سے چند لوگوں سمیت اُن کے پاس گئے تاکہ اُن کے درمیان صلح کرائیں۔ نماز کا وقت ہوگیا اور نبی ﷺ (واپس) نہ آئے۔ حضرت بلالؓ آئے نماز کے لئے اذان دی اور نبی ﷺ (واپس) نہ پہنچے۔ تب (حضرت بلالؓ) حضرت ابو بکرؓ کے پاس آئے اور کہا: نبی ﷺ تو رُک گئے ہیں اور نماز کا وقت ہوگیا ہے تو کیا آپؓ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے؟ انہوں نے کہا: اچھا اگر تم چاہو۔ (حضرت بلالؓ نے) نماز کے لئے اقامت کہی اور حضرت ابو بکرؓ آگے بڑھے اور اِس کے بعد نبی ﷺ صفوں سے گزرتے ہوئے آئے اور پہلی صف میں کھڑے ہوگئے۔ لوگ تالیاں بجانے لگے اور بہت (تالیاں) بجائیں اور حضرت ابو بکرؓ نماز میں اِدھر اُدھر نگاہ نہیں کرتے تھے۔ (جب بہت تالیاں بجیں) تو انہوں نے مڑ کر دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ نبی ﷺ اُن کے پیچھے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اُن کو اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ نماز پڑھائیں، جیسا کہ وہ پڑھا رہے ہیں۔ حضرت ابو بکرؓ نے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور اللہ کی حمد کی اور پھر وہ اُلٹے پاؤں ہٹے، یہاں تک کہ صف میں آگئے اور نبی ﷺ آگے بڑھے اور آپؐ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپؐ (نماز سے) فارغ ہوئے تو آپؐ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! جب نماز میں تمہیں کوئی بات پیش آئے تو تم تالیاں بجانے لگ جاتے ہو۔ تالیاں بجانا تو عورتوں کے لئے ہے۔ جس کسی کو نماز میں کوئی بات پیش آئے تو چاہیے کہ وہ سبحان اللہ کہے۔ پھر جو کوئی اُسے سنے گا ضرور متوجہ ہوگا۔ ابو بکرؓ! جب میں نے آپؓ کو اِشارہ کیا تھا تو آپؓ کو کون سی بات مانع ہوئی کہ لوگوں کو نماز نہیں پڑھائی؟ انہوں نے کہا: ابو قحافہ کے بیٹے کو شایان نہیں تھا کہ نبی ﷺ کے آگے (کھڑا) ہو کر نماز پڑھائے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی ﷺ سے کہا گیا: اگر آپؐ عبداللہ بن ابی کے پاس آئیں (تو اچھا ہو۔) نبی ﷺ اُس کے پاس جانے کے لئے روانہ ہوئے۔ گدھا آپؐ کی سواری میں تھا۔ مسلمان بھی آپؐ کے ساتھ چل پڑے اور وہاں کی زمین شوریدہ تھی۔ جب نبی ﷺ اُس کے پاس پہنچے تو اُس نے کہا: مجھ سے دُور رہیں۔ بخدا ! آپؐ کے گدھے کی بدبو نے مجھے تکلیف دی ہے۔ تو صحابہ میں سے ایک انصاری (حضرت عبداللہ بن رواحہؓ) بولے: بخدا ! رسول اللہ ﷺ کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے۔ عبداللہ (بن ابی ّ) کی قوم میں سے ایک شخص اس کی وجہ سے غصہ میں بھر گیا اور اُن دونوں نے آپس میں ایک دوسرے کو سخت سُست کہا۔ جس کی وجہ سے دونوں کے ساتھی بھڑک اُٹھے اور نوبت چھڑیوں، جوتوں اور ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ یہ آیت (اسی واقعہ سے متعلق) نازل ہوئی یعنی اگر مومنوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو اُن کی صلح کرا دو۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ حُمَید بن عبدالرحمن نے انہیں خبر دی کہ اُن کی والدہ حضرت امّ کلثومؓ بنت عقبہ نے انہیں بتایا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: وہ جھوٹا نہیں ہوتا جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے اور بھلی بات کسی کی طرف منسوب کرتا ہے یا (فرمایا:) بھلی بات کہتا ہے۔
محمد بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن عبداللہ اُویسی اور اسحاق بن محمد فروِی نے ہمیں بتایا۔ اُن دونوں نے کہا: محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حازم سے، ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اہل قباء آپس میں جھگڑ پڑے؛ یہاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے پر پتھر چلائے۔ رسول اللہ ﷺ کو اِس کی اِطلاع دی گئی تو آپؐ نے فرمایا: ہمیں لے چلو ہم اُن کی صلح کرائیں گے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: (آیت اِنِ امْرَأَۃٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِھَا یعنی) اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے بدمعاملگی یا عدم توجہ کا خوف ہو تو اس سے مراد وہ شخص ہے جو اپنی بیوی میں ناپسندیدہ بات دیکھتا ہو، بڑھاپے کی وجہ سے یا اس کے علاوہ کسی اور سبب سے۔ اور اس سے الگ ہونا چاہتا ہو، وہ (عورت) یہ کہے: تم مجھے اپنے پاس ہی رکھو اور میرے لئے جو تم چاہو حصہ مقرر کر دو۔ (حضرت عائشہؓ) کہتی تھیں: کوئی حرج نہیں اگر وہ آپس میں اس طرح راضی ہو جائیں۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہمیں بتایا۔ ابن ابی ذئب نے ہم سے بیان کیا کہ زہری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اُن دونوں نے کہا: ایک بدوی آیا اور اُس نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی کتاب کے مطابق ہمارے درمیان فیصلہ فرمائیں۔ اُس کا مخالف اُٹھا اور بولا: اِس نے سچ کہا ہے اللہ کی کتاب ہی کی رُو سے ہمارے درمیان فیصلہ فرمائیں۔ اُس بدوی نے کہا: میرا بیٹا اِس کے پاس نوکر تھا۔ اُس نے اس کی بیوی سے زنا کیا۔ لوگوں نے مجھ سے کہا: تمہارا بیٹا سنگسار ہونا چاہیے۔ میں نے اس کو ایک سو بکری اور ایک لونڈی دے کر اپنے بیٹے کو چھڑا لیا ہے۔ پھر اس کے بعد میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا: تمہارے بیٹے کو تو صرف سو کوڑے پڑنے تھے اور ایک سال کے لئے جِلا وطنی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان کتاب اللہ ہی سے فیصلہ کروں گا۔ وہ لونڈی اور بکریاں جو ہیں وہ تو تمہیں واپس دی جائیں اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لئے جِلاوطن کیا جائے۔ اور ایک شخص سے (فرمایا:) اُنیسؓ (بن ضحاک)! تم صبح اِس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ اور اُسے سنگسار کرو۔ چنانچہ اُنیسؓ صبح اُس عورت کے پاس گئے اور اُسے سنگسار کیا۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہمیں بتایا۔ ابن ابی ذئب نے ہم سے بیان کیا کہ زہری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اُن دونوں نے کہا: ایک بدوی آیا اور اُس نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی کتاب کے مطابق ہمارے درمیان فیصلہ فرمائیں۔ اُس کا مخالف اُٹھا اور بولا: اِس نے سچ کہا ہے اللہ کی کتاب ہی کی رُو سے ہمارے درمیان فیصلہ فرمائیں۔ اُس بدوی نے کہا: میرا بیٹا اِس کے پاس نوکر تھا۔ اُس نے اس کی بیوی سے زنا کیا۔ لوگوں نے مجھ سے کہا: تمہارا بیٹا سنگسار ہونا چاہیے۔ میں نے اس کو ایک سو بکری اور ایک لونڈی دے کر اپنے بیٹے کو چھڑا لیا ہے۔ پھر اس کے بعد میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا: تمہارے بیٹے کو تو صرف سو کوڑے پڑنے تھے اور ایک سال کے لئے جِلا وطنی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان کتاب اللہ ہی سے فیصلہ کروں گا۔ وہ لونڈی اور بکریاں جو ہیں وہ تو تمہیں واپس دی جائیں اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لئے جِلاوطن کیا جائے۔ اور ایک شخص سے (فرمایا:) اُنیسؓ (بن ضحاک)! تم صبح اِس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ اور اُسے سنگسار کرو۔ چنانچہ اُنیسؓ صبح اُس عورت کے پاس گئے اور اُسے سنگسار کیا۔
یعقوب (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد (بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے قاسم بن محمد (بن ابی بکر صدیق) سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ہماری اِس شریعت میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کی جو اِس میں نہیں تو وہ ردّ کی جائے گی۔ عبداللہ بن جعفر مخرمی اور عبدالواحد بن ابی عون نے یہ حدیث سعد بن ابراہیم سے روایت کرتے ہوئے بتائی۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا۔ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا، کہتے تھے: جب رسول اللہ ﷺ نے اہل حدیبیہ سے صلح کی تو حضرت علی بن ابی طالب رضوان اللہ علیہ نے اُن کے درمیان ایک تحریر لکھی اور (اس میں آپؐ کا نام) محمد رسول اللہ (ﷺ) لکھا۔ مشرکوں نے کہا: محمد رسول اللہ نہ لکھو۔ اگر آپؐ رسول ہوتے تو ہم آپؐ سے نہ لڑتے۔ آپؐ نے حضرت علیؓ سے کہا: اسے مٹا دو۔ حضرت علیؓ نے کہا: میں وہ (شخص) نہیں ہوں گا جو اِسے مٹائے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اُسے اپنے ہاتھ سے مٹا دیا اور اُن سے اِس شرط پر صلح کر لی کہ آپؐ اور آپؐ کے صحابہ تین دن (مکہ میں) رہیں گے اور وہ اِس میں ہتھیار جُلُبّان میں رکھ کر داخل ہوں گے۔ لوگوں نے اُن سے پوچھا کہ یہ جُلُبّان کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ غلاف جس میں تلوار مع میان رکھی جاتی ہے۔
عبیداللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے (ماہ) ذیقعدہ میں عمرے کا ارادہ کیا۔ اہل مکہ نے انکار کیا اور آپؐ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیا۔ جب تک آپؐ نے اُن کے ساتھ یہ فیصلہ نہ کرلیا کہ آپؐ اس میں صرف تین دن رہیں گے۔ جب وہ تحریر لکھنے لگے تو (صحابہ نے) لکھا: یہ وہ (صلح نامہ) ہے جس کی بناء پر محمد رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم اِس کو نہیں مانیں گے۔ اگر ہم جانتے کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپؐ کو نہ روکتے بلکہ آپؐ کا نام محمد بن عبداللہ (لکھو۔) آپؐ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی ہوں۔ پھر آپؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: رسول اللہ کا لفظ مٹادیں۔ انہوں نے کہا: نہیں۔ اللہ کی قسم! میں اسے ہرگز نہیں مٹائوں گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے وہ تحریر لی اور لکھا: یہ وہ (صلح نامہ) ہے جس کی بناء پر محمد بن عبداللہ نے فیصلہ کیا ہے کوئی ہتھیار مکہ کے اندر داخل نہیں ہوگا مگر وہی جو قراب میں داخل ہو اور یہ کہ مکہ والوں میں سے کوئی شخص اگر کسی کے ساتھ جانا چاہے گا تو وہ اُسے نہیں لے جائے گا اور وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو روکے گا نہیں، اگر وہ مکہ میں رہنا چاہے۔ جب آپؐ مکہ میں داخل ہوئے اور میعاد گزر گئی تو (مشرک) حضرت علیؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اپنے ساتھی سے کہو کہ ہمارے یہاں سے چلا جائے، میعاد گزر چکی ہے۔ نبی ﷺ روانہ ہوگئے۔ حضرت حمزہؓ کی بیٹی ان کے پیچھے چل پڑی۔ چچا چچا پکار رہی تھی۔ حضرت علیؓ نے لپک کر اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور حضرت فاطمہ (علیہا السلام) سے کہا: اپنے چچا کی بیٹی کو لے لو۔ انہوں نے اُسے سوار کر لیا۔ پھر حضرت علیؓ، حضرت زیدؓ اور حضرت جعفرؓ اس لڑکی کے بارے میں آپس میں جھگڑ پڑے۔ حضرت علیؓ نے کہا: میں اس کی پرورش کا زیادہ حقدار ہوں کیونکہ وہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ اور حضرت جعفرؓ نے کہا: وہ میرے چچا کی بھی بیٹی ہے اور اُس کی خالہ (حضرت اسماء بنت عمیس) میری بیوی ہے اور حضرت زیدؓ کہتے تھے: وہ میرے بھائی کی بیٹی ہے۔ نبی ﷺ نے اُس کی خالہ کو دئیے جانے کا فیصلہ کیا اور فرمایا: خالہ بمنزلہ والدہ کے ہوتی ہے۔ اور حضرت علیؓ سے کہا: تم میرے ہو اور میں تمہارا ہوں۔ اور حضرت جعفرؓ سے کہا: تم صورت اور خصلت میں مجھ سے ملتے جلتے ہو۔ اور حضرت زیدؓ سے کہا: تم ہمارے بھائی ہو اور ہمارے محب۔