بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عمرو (بن مرہ) سے، عمرو نے ابووائل (شقیق بن سلمہ) سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعود)ؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ہے۔ اس لیے اس نے تمام بدیاں حرام کر دیں، وہ بھی جو اُن میں ظاہر ہیں اور وہ بھی جو چھپی ہیں اور اللہ کو کوئی چیز بھی اتنی پیاری نہیں جتنی کہ مدح۔ اس لیے اس نے اپنی تعریف آپ کی ہے۔ (عمرو بن مرہ نے کہا:) میں نے (ابووائل سے) پوچھا: کیا آپ نے یہ (حدیث) حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے خود سنی؟ اُنہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: اور کیا حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) نے سند کو آنحضرت ﷺ تک پہنچایا تھا؟ اُنہوں نے کہا: ہاں۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔ عمارہ (بن قعقاع) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوزُرعہ نے ہمیں بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تک سورج اپنے غروب ہونے کی جگہ سے نہیں طلوع کرے گا اس وقت تک وہ گھڑی برپا نہ ہوگی۔ جب لوگ اس نشان کو دیکھیں گے جو بھی اس زمین پر ہوں گے ایمان لائیں گے۔ پھر یہ وہ وقت ہوگا جب کسی نفس کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو۔
(تشریح)اسحاق نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں خبر دی کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس وقت تک وہ گھڑی برپا نہیں ہوگی جب تک کہ سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نہ چڑھے۔ جب سورج (مغرب سے) نکلے گا اور لوگ اس کو دیکھ لیں گے تو سب کے سب ایمان لائیں گے اور یہ وہ وقت ہوگا جب کسی نفس کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ دے گا۔ پھر اس کے بعد آپؐ نے یہ آیت پڑھی (لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ۔)
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، انہوں نے عمرو بن مرہ سے، عمرو نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) ؓ سے روایت کی کہ (عمرو بن مرہ) نے کہا: میں نے (ابووائل سے) پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے سنی ہے؟ اُنہوں نے کہا: ہاں۔ اور (کہا:) اُنہوں نے اس سند کو مرفوعاً بیان کیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں اس لئے اس نے تمام بدیوں کو حرام کردیا وہ بھی جو اُن میں سے ظاہر ہوں اور وہ بھی جو پوشیدہ ہوں اور اللہ سے بڑھ کر کسی کو مدح زیادہ پسند نہیں اسی لئے اس نے خود اپنی تعریف کی۔
(تشریح)محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے عمرو بن یحيٰ مازنی سے، عمرو نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: یہود میں سے ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا، جس کے منہ پر تھپڑ مارا گیا تھا وہ کہنے لگا: یا محمدؐ! آپ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے جو انصار میں سے ہے میرے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو بلاؤ۔ چنانچہ اس کو بلا لائے۔ آپؐ نے پوچھا: تم نے اس کے منہ پر کیوں طمانچہ مارا ہے؟ اس نے کہا: یا رسول اللہؐ! میں یہودیوں کے پاس سے گزرا تو میں نے اس شخص کو کہتے سنا: اس ذات کی قسم ہے جس نے موسیٰ کو تمام بشر سے بہتر سمجھ کر چُن لیا۔ میں نے کہا: کیا محمدﷺ سے بھی اور مجھے غصہ آیا تو میں نے اس کو طمانچہ مارا۔ آپؐ نے فرمایا: انبیاء میں سے مجھے سب سے بہتر نہ کہو۔ کیونکہ قیامت کے دن لوگ بے ہوش ہوجائیں گے اور میں پہلا ہوں گا جو ہوش میں آئے گا۔ میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰ ہیں جو عرش کے پایوں میں سے ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا آیا وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آئے یا طُور کی بے ہوشی ہی ان کے لئے کافی سمجھی گئی۔
(تشریح)مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، انہوں نے عبدالملک (بن عمیر) سے، عبدالملک نے حضرت عمرو بن حریثؓ سے، حضرت عمروؓ نے حضرت سعید بن زیدؓ سے، حضرت سعیدؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: کھمبی مَنّ ہی کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آشوب چشم کا علاج ہے۔
(تشریح)عبداللہ (بن حماد آملی) نے مجھ سے بیان کیا کہ سلیمان بن عبدالرحمٰن (دمشقی) اور موسیٰ بن ہارون نے ہمیں بتایا، ان دونوں نے کہا: ولید بن مسلم نے ہم سے بیان کیا، کہ عبداللہ بن علاء بن زبر نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے کہا: بُسر بن عبیداللہ نے مجھ سے بیان کیا کہا: ابو ادریس خولانی نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ میں نے حضرت ابودرداءؓ سے سنا وہ کہتے تھے: حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے درمیان کوئی بات چیت ہوئی۔ جس سے حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کو ناراض کر دیا۔ حضرت عمرؓ حضرت ابوبکرؓ سے ناراض ہو کر چلے گئے۔ حضرت ابوبکرؓ ان کے پیچھے گئے تا ان سے کہیں کہ ان کے لئے استغفار کریں۔ حضرت عمرؓ نے نہ مانا اور دروازہ بند کرلیا کہ اندر نہ آئیں۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ حضرت ابودرداءؓ کہتے تھے اور اس وقت ہم آپؐ کے پاس تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے (حضرت ابوبکرؓ کو دیکھ کر) فرمایا کہ یہ جو تمہارے ساتھی ہیں (یعنی ابوبکرؓ) یہ بھلائی میں تم سب سے سبقت لے گئے ہیں۔ (حضرت ابو درداءؓ) کہتے تھے اور حضرت عمرؓ بھی اپنے اس فعل پر شرمندہ ہوئے جو اُن سے ہوا وہ بھی آگئے السلام علیکم کہا اور نبی ﷺ کے پاس بیٹھ گئے۔ رسول اللہ ﷺ سے سارا واقعہ بیان کیا۔ حضرت ابو درداءؓ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ ناراض ہوگئے اور حضرت ابوبکرؓ کہنے لگے: یا رسولؐ اللہ! اللہ کی قسم میں ہی زیادتی کرنے والا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میرا رفیق (غار) میرے لئے رہنے دو گے؟ کیا تم میرا رفیق میرے لئے رہنے دو گے؟ میں نے کہا: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ تم نے کہا: تو کاذب ہے اور ابوبکر نے کہا: تو صادق ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری) نے کہا: غَامَرَ کا لفظ جو اس حدیث میں آیا ہے اس کے معنی ہیں وہ بھلائی میں جو سبقت لے گیا۔
(تشریح)اسحق (بن ابراہیم حنظلی ابن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمیں بتایا: ہمام بن منبہ سے روایت ہے۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ دروازے سے فرمانبردار ہو کر داخل ہونا اور یہ دعا کرتے رہنا، ہمارے گناہ معاف ہوں، ہم تمہاری غلطیوں پر پردہ پوشی کرکے تم سے درگزر کریں گے، تو انہوں نے (اس حکم کو) بدل ڈالا اور اپنے کولہوں کے بل گھسٹتے اور رینگتے ہوئے داخل ہوئے اور اُنہوں نے (بجائے حِطَّۃٌ کے) حَبَّةٌ فِی شَعَرَةٍ کہا۔ یعنی بالی میں دانے ہمیں ملیں۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ اُنہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عیینہ بن حصن بن حذیفہ (مدینہ میں) آئے اور اپنے بھتیجے حرؓ بن قیس کے پاس اترے اور حُرؓ بن قیس ان لوگوں میں سے تھے جن کو حضرت عمرؓ اپنے قریب بٹھایا کرتے تھے اور قاری (قرآن کے عالم) ہی حضرت عمرؓ کی مجلس میں بیٹھنے والے اور ان کو مشورہ دینے والے ہوتے تھے، ادھیڑ عمر کے ہوں یا جوان۔ عیینہ نے اپنے بھتیجے سے کہا: اے بھتیجے! اس امیر کے پاس تمہاری وجاہت ہے، اس لئے میرے لئے ان کے پاس آنے کی اجازت مانگو۔ حُرؓ بن قیس نے کہا: میں تمہارے لئے ان کے پاس آنے کی اجازت لے لوں گا۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے، چنانچہ حُؓر نے عیینہ کے لئے اجازت مانگی اور حضرت عمرؓ نے ان کو اجازت دی۔ جب عیینہ ان کے پاس آیا تو اُس نے کہا: خطاب کے بیٹے! یہ کیا بات ہے، اللہ کی قسم نہ تو آپؓ ہم کو بہت (مال) دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان (اور ہمارے مال کے درمیان) انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ ناراض ہوگئے۔ یہاں تک کہ اس کو کچھ کہنے کو ہی تھے کہ حُؓر نے حضرت عمرؓ سے عرض کیا: امیر المومنینؓ! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے: (اے نبی! ہمیشہ) درگزر سے کام لے اور مطابق فطرت باتوں کا حکم دیتا رہ اور جاہل لوگوں سے منہ پھیر لے۔ اور یہ عیینہ جاہلوں ہی میں سے ہے۔ اللہ کی قسم جب حُؓر نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی تو حضرت عمرؓ وہیں رک گئے اور کچھ نہیں کہا اور حضرت عمرؓ کتاب اللہ کو سن کر رک جاتے تھے۔
یحيٰ (بن موسیٰ) نے مجھ سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا: انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے روایت کی، انہوں نے کہا: آیت خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ جو ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ صرف لوگوں کی اخلاقی اصلاح کے لئے ہی اتاری ہے۔