بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 4 of 4 hadith
حضرت ابو جُرَیْ جابر بن سلیمؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس سے ہدایت اور مشورہ طلب کرنے کے لئے آتے ہیں (یعنی وہ مرجع عوام ہے) اور جو کچھ وہ کہتا ہے لوگ اس کو قبول کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ چنانچہ میں آگے بڑھا اور کہا اے اللہ کے رسول ! علیک السلام ــــ دو دفعہ ــــ آپؐ نے فرمایا تم نہ کہو ـــ علیک السلام ــــ یہ ’’علیک السلام‘‘ کہنا تو مُردوں کا سلام ہے۔ بلکہ تم کہو ’’السلام علیک‘‘ یعنی سلامتی ہو آپ پر۔ جابر کہتے ہیں پھر میں نے عرض کیا۔ کیا آپﷺ اللہ کے رسول ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں! میں اس اللہ کا رسول ہوں کہ جب تجھے کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور تو اس سے دعا کرتا ہے تو وہ تیری دعا کو سنتا ہے اور اس تکلیف کو دور کر دیتا ہے اور جب تجھے قحط سالی سے دوچار ہونا پڑے اور تو اس سے دعا کرے تو وہ تیرے کھیت ہرے بھرے کر دیتا ہے اور جب تو کسی بیابان جنگل میں ہو اور تیری سواری گم ہو جائے اور تو اس سے دعا کرے تو وہ تیری سواری تجھے واپس دلا دیتا ہے۔ جابرؓ کہتے ہیں کہ پھر میں نے عرض کیا مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔ آپﷺ نے فرمایا کسی کو گالی نہ دو۔ چنانچہ اس کے بعد میں نے کسی کو گالی نہیں دی۔ نہ کسی آزاد کو اور نہ کسی غلام کو نہ کسی اونٹ کو نہ کسی بکری کو۔ اسی طرح آپﷺ نے یہ بھی فرمایا معمولی سی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو، بشاشت اور خندہ پیشانی کے ساتھ اپنے بھائی سے بات کرنا بھی نیکی ہے۔ اپنا تہبند نصف پنڈلی تک اونچا باندھو۔ اگر ایسا نہ کر سکو تو زیادہ سے زیادہ ٹخنوں تک رکھ سکتے ہو اس سے نیچے لٹکانا ٹھیک نہیں کیونکہ تہبند کا زمین پر گھسٹنا تکبر کا انداز ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر پسند نہیں کرتا۔ اگر کوئی آدمی تجھے گالی دے یا ایسی کمزوری کا طعنہ دے جو تجھ میں ہے تو تو اس کے مقابلے میں اسے ایسے عیب کا طعنہ نہ دے جو تیرے علم کے مطابق اس میں ہے تو اس شخص کی زیادتی کا سارا وبال اسی پر پڑے گا۔ (وہی نقصان اٹھائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کے حضور سے صبر کا اجر پاؤ گے)۔
حضرت عقبہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسولؐ! نجات کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا اپنی زبان کو روک کر رکھو، اپنا گھر مہمانوں کے لئے کھلا رکھو اور اپنی غلطیوں پر نادم ہو کر (اللہ کے حضور) رویا کرو۔
حضرت ثوبانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا خوش نصیب ہے وہ شخص جس کی زبان اس کے قابو میں ہو اس کا مکان (مہمانوں کے لئے) کشادہ ہو اور وہ خدا کے حضور نادم ہو کر اپنی غلطیوں پر روتا ہو۔
حضرت صفوان بن سلیمؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسی آسان عبادت نہ بتاؤں جو بجا لانے کے لحاظ سے بڑی ہلکی ہے۔ خاموشی اختیار کرو بے ضرورت بات نہ کرو اور اچھے اخلاق اپناؤ۔