نے فرمایا اپنے اموال کو زکوٰة ادا کر کے محفوظ کر لو اور اپنے بیماروں کا علاج صدقات کے ذریعہ کرو اور موج در موج آنے والی آفات کا دفعیہ دعاؤں اور تضرعات کے ذریعہ کرو۔
(ابوداؤد کتاب الزکوٰۃ باب الکنز ماھو؟و زکاۃ الحلی 1563)
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی اور اس (لڑکی) کے ہاتھوں میں سونے کے دو وزنی کنگن تھے۔ آپ نے فرمایا کیا اس کی زکوٰة دیتی ہو؟ اس نے کہا نہیں۔ فرمایا کیا تم پسند کرتی ہو کہ اس کے بدلے تمہیں اللہ قیامت کے دن آگ کے دو کنگن پہنائے۔ راوی کہتے ہیں اُس نے ان دونوں کو اتارا اور نبی ﷺ کی طرف رکھ دیے اور کہا یہ اللہ عزّوجلّ اور اس کے رسولؐ کی خدمت میں پیش کرتی ہوں۔
حضرت ابو امامہ باہلیؓ بیان کرتے ہیں کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اللہ سے میرے لئے دعا کریں کہ وہ مجھے مال و دولت سے نوازے۔ آپؐ نے فرمایا ثعلبہ تیرا بھلا ہو، تھوڑا جس پر تو شکر ادا کرتا ہے (اس) زیادہ مال سے بہتر ہے (جس پر رشک کرنے کی) تجھے طاقت نہ ہو۔ (کچھ عرصہ بعد) اس نے کہا یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے مال و دولت سے نوازے۔ آپؐ نے فرمایا ثعلبہ! تیرا بھلا ہو، تھوڑا جس پر تو شکر ادا کرتا ہے (اس) زیادہ مال سے بہتر ہے (جس پر رشک کرنے کی) تجھے طاقت نہ ہو۔ اس نے کہا یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے مال و دولت سے نوازے۔ آپؐ نے فرمایا اے ثعلبہ! تیرا بھلا ہو کیا تجھے پسند نہیں کہ تو میرے جیسا ہو۔ اگر میں چاہوں کہ میرا رب اس پہاڑ کو میرے ساتھ چلا دے تو وہ چل پڑے گا۔ (اس کے کچھ عرصہ بعد ثعلبہ پھر حاضر ہوا) اور کہا یا رسول اللہ! آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے مالدار کر دے اور کہا اس کی قسم جس نے آپؐ کو حق و صداقت کے ساتھ بھیجا ہے اگر اللہ نے مجھے مال عطاء فرمایا تو میں ہر حقدار کا حق ادا کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا ثعلبہ! تیرا بھلا ہو، تھوڑا جس پر تو شکر ادا کرتا ہے (اس) زیادہ مال سے بہتر ہے (جس پر رشک کرنے کی) تجھے طاقت نہ ہو۔ اس نے کہا یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے۔ آپؐ نے اس کے لیے دعا کی اے اللہ! ثعلبہ کو مال دار کردے۔ (حضور علیہ السلام کی دعا کے بعد) ثعلبہ نے کچھ بکریاں خریدیں۔ اس کے لیے اس میں برکت دی گئی اور وہ (اس تیزی سے) بڑھے جیسے (برسات کے) کیڑے مکوڑے بڑھتے ہیں۔ اس کی وجہ سے مدینہ کی گلیاں تنگ پڑ گئیں تو وہ ان کو لیکر علیحدہ ہو گیا۔ وہ دن کے وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتا مگر رات کی نماز میں نہ آتا۔ پھر جب وہ اور بڑھ گئیں تو نہ رات کی نماز میں آتا نہ دن کی نماز میں۔ مگر جمعہ کے جمعہ رسول اللہﷺ کے ساتھ (نماز پڑھنے کے لیے) حاضر ہوتا۔ پھر وہ اور بڑھ گئیں اور اس کی (وہ) جگہ بھی تنگ پڑ گئی تو وہ اور دور چلا گیا۔ اور اب نہ وہ جمعہ کے لیے آتا نہ کسی جنازہ کے لیے رسول اللہﷺ کے ساتھ حاضر ہوتا۔ رسول اللہﷺ لوگوں سے ملتے اور ان سے حال احوال پوچھتے۔ رسول اللہﷺ نے اس (ثعلبہ) کو غائب پایا تو اس کے متعلق دریافت کیا۔ لوگوں نے آپؐ کو بتایا کہ اس نے بکریاں خریدیں اور مدینہ ان سے بھر گیا اور اس کے بارہ میں سب کچھ بتایا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ثعلبہ بن حاطب کا بھلا ہو۔ پھر اللہ نے اپنے رسول کو زکوٰة لینے کا حکم فرمایا اور اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی خُذ من أَمْوَالهم صَدَقَة……… (ان کے مالوں سے زکاة لیں)۔ رسول اللہﷺ نے دو شخص، ایک جہینہ میں سے اور ایک بنو سلمہ میں سے صدقات لینے کے لے بھجوائے۔ اور ان دونوں کو اونٹوں اور بکریوں کی عمروں وغیرہ کے متعلق لکھ کر دیا کہ کیسے زکاة وصول کرنی ہے اور انہیں کہا کہ وہ ثعلبہ بن حاطب اور بنو سلیم کے ایک شخص کے پاس جائیں۔ وہ دونوں (محصل) ثعلبہ کے پاس آئے اور اس سے زکاة کا مطالبہ کیا۔ اس نے کہا مجھے اپنا حکم نامہ دکھائیں۔ اس نے اس کو دیکھا تو کہنے لگا یہ تو جزیہ ہے۔ اچھا جاؤ فارغ ہو کر واپسی پر یہاں سے ہوتے جانا۔ وہ دونوں (محصل یہ سن کر) چلے گئے اور دوسرے شخص سلمی کی طرف گئے (جب سلمی کو ان محصلوں کے آنے کا علم ہوا) تو اس نے اپنے اونٹوں میں سے اعلیٰ اونٹ چن کر صدقات کے لئے نکالے اور انہیں محصلین کے پاس لایا۔ (جب محصلوں نے ان جانوروں کو دیکھا تو) کہا کہ (اس طرح کے قیمتی اور عمدہ جانور لینے کا ہمیں حکم تو نہیں) اس کے علاوہ آپ پر لازم ہیں۔ (یہ سُن کر سلمی) کہنے لگا میں تو اللہ کا قرب اپنے بہتر مال سے حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے اس سے لے لیا۔ وہ دونوں (محصل اور لوگوں سے صدقات وصول کرنے کے بعد) ثعلبہ کے پاس (دوبارہ) آئے تو ثعلبہ نے کہا مجھے اپنا حکم نامہ دکھاؤ۔ اس نے اسے دیکھا اور کہا یہ تو محض جزیہ ہے، تم چلے جاؤ یہاں تک کہ میں کوئی رائے قائم کروں۔ وہ دونوں چلے گئے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے۔ جب ان دونوں کو رسول اللہ
(بخاری کتاب الزکوٰۃ باب اذا تصدق علی ابنہ و ھو لا یشعر1422)
حضرت معن بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا (کہ) رسول اللہ ﷺ سے میں نے اور میرے باپ (حضرت یزیدؓ) اور میرے دادا (حضرت اخنس بن حبیبؓ) نے بیعت کی اور آپؐ نے میرا رشتہ تجویز کیا اور نکاح پڑھایا اور میں آپؐ کے پاس ایک مقدمہ لے کر گیا۔ میرے باپ حضرت یزیدؓ نے کچھ اشرفیاں خیرات کرنے کے لئے نکالیں اور مسجد میں ایک آدمی کے پاس رکھ دیں۔ میں اس کے پاس آیا اور میں نے وہ اشرفیاں لے لیں اور اپنے باپ کے پاس لے آیا۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم! میں تجھے دینا نہیں چاہتا تھا۔ آخر میں نے ان کے خلاف رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ قضیہ پیش کیا۔ آپؐ نے فرمایا یزید! تیرے لئے وہی ہے جس کی تو نے نیت کی اور معن! تیرے لئے ہے جو تو نے لے لیا۔
حضرت ابوحُمیدؓ الساعدی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ازد قبیلہ کے ایک شخص کو جو ابنُ الاُتُبیَّۃِ کہلاتا تھا بنو سُلیم کے صدقات کے لئے عامل بنایا۔ جب وہ آیا تو آپؐ نے اس سے حساب لیا۔ اس نے کہا یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ تحفہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اپنے باپ اور ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھے رہے۔ اگر تم درست کہہ رہے ہو تو تمہارے پاس تحفہ آتا۔ پھر آپؐ نے ہم سے خطاب فرمایا۔ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا امّا بعد میں تم میں سے کسی شخص کو ان کاموں پر جن پر اللہ نے مجھے والی بنایا ہے مقرر کرتا ہوں وہ میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ وہ کیوں اپنے باپ اور ماں کے گھر نہیں بیٹھا کہ اگر وہ درست بات کرتا ہے تو اس کے پاس تحفہ آتا۔ بخدا تم میں سے کوئی شخص اس میں سے اپنے حق کے علاوہ کوئی چیز نہیں لیتا مگر وہ قیامت کے دن اسے اُٹھائے ہوئے اللہ کو ملے گا۔ میں ضرور تم میں سے اسے پہچان لوں گا کہ جو بلبلاتا ہوا اونٹ یا ڈکراتی ہوئی گائے یا منمناتی ہوئی بکری اُٹھائے ہوئے ملے گا۔ پھر آپؐ نے دونوں بازو اُٹھائے یہاں تک کہ آپؐ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی گئی۔ پھر آپؐ نے کہا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا۔
(التوبة 75۔76) کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرتے ہیں کہ اگر وہ انہیں مال دے گا تو وہ تمام حقوق ادا کریں گے لیکن بعد میں جب انہیں اللہ نے مال دیا تو انہوں نے بخل سے کام لیا اور وہ اپنے وعدہ سے پھر گئے۔
آپؐ کی مجلس میں ثعلبہ کا ایک عزیز (بھی بیٹھا ہوا تھا جو) تمام باتیں سُن رہا تھا۔ اس نے جاکر ثعلبہ کو ساری صورت حال بتائی اور بڑے افسوس کا اظہار کیا اور کہا تمہارا بُرا ہو۔ تمہارے بارہ میں تو قرآن کریم نازل ہوا ہے (یہ سُن کر ثعلبہ بہت پچھتایا اور صدقات لے کر) رسول اللہ
ﷺ
کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور کہا یہ میرے مال کی زکاة ہے۔ رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا اللہ نے مجھے تم سے (زکاة) وصول کرنے سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں اس نے رونا شروع کر دیا اور اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا۔ رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا یہ سب تمہارا اپنا کیا دھرا ہے، میں نے تمہیں سمجھایا تھا مگر تم نے میری بات نہ مانی۔ رسول اللہ
ﷺ
نے اس سے (مال زکاة) وصول نہ کیا یہاں تک کہ آپؐ وفات پا گئے۔ پھر وہ حضرت ابو بکرؓ کے پاس صدقات لے کر حاضر ہوا۔ اور کہا اے ابوبکرؓ مجھ سے (مال) زکاة قبول کریں اور آپ انصار میں میرے مقام کو جانتے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ جب رسول اللہ
ﷺ
نے تمہارا صدقہ قبول نہیں کیا تو میں کس طرح قبول کرسکتا ہوں۔ پھر حضرت عمرؓ بن خطاب خلیفہ ہوئے تو وہ آپؓ کے پاس آیا اور کہا اے ابو حفصؓ ! اے امیر المومنین! مجھ سے زکاة قبول فرمائیں اور اس سلسلہ میں مہاجرین اور انصار اور رسول اللہ
ﷺ
کی ازواج مطہرات کو بھی وسیلہ بنایا مگر حضرت عمرؓ نے فرمایا اسے رسول اللہ
ﷺ
نے قبول نہیں فرمایا اور نہ ہی حضرت ابوبکرؓ نے، کیا میں قبول کر لوں گا؟ اور اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر حضرت عثمانؓ خلیفہ ہوئے اور وہ حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں فوت ہو گیا۔