بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 7 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا اے لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے، پس حج کرو۔ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! کیا ہر سال؟ آپؐ خاموش رہے یہاں تک کہ اس نے تین مرتبہ یہ سوال کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو یہ فرض ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے۔ پھر آپؐ نے فرمایا جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے کچھ نہ کہو یقینا تم سے پہلے لوگ اپنے سوالات کی کثرت کی وجہ سے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو جتنی تم میں طاقت ہے اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اسے چھوڑ دو۔
حضرت مخنف بن سلیم ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ عرفات میں وقوف کئے ہوئے تھے۔ آپؐ نے فرمایا اے لوگو! ہر گھر والوں پر ہر سال قربانی ہے۔
عابس بن ربیعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور اس کو بوسہ دیا اور کہا میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہی ہے، نہ نقصان دے سکتا ہے نہ نفع اور اگر میں نے نبیﷺ کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے ہرگز بوسہ نہ دیتا۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر فرمایا اے لوگو! یہ کون سا دِن ہے؟ لوگوں نے عرض کیا یہ (عرفہ کا) قابلِ احترام دن ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ یہ (مکہ کا) قابلِ احترام شہر ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے عرض کیا یہ (ذی الحجہ کا) قابلِ احترام مہینہ ہے۔ (اس سوال و جواب کے بعد) حضور ﷺ نے فرمایا کہ سنو! تمہارے اموال اور تمہارے خون اور تمہاری آبروئیں اسی طرح قابلِ احترام اور مستحق حفاظت ہیں اور ان کی ہتک تمہارے لئے حرام ہے۔ جس طرح یہ دن یہ شہر اور یہ مہینہ تمہارے لئے قابلِ احترام اور لائقِ ادب ہے اور جس کی ہتک تم پر حرام ہے۔ حضورؐ نے اس بات کو کئی مرتبہ دہرایا۔ پھر آپؐ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا ’’کیا میں نے پہنچا دیا ؟‘‘ حضورؐ نے هَلْ بَلَّغْتُ کے الفاظ بھی کئی بار دوہرائے۔………پھر آپؐ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا دیکھو جو یہاں موجود ہیں وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچا دیں جو اس موقعہ پر موجود نہیں۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ یاد رکھو کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو (اور خونریزی کا ارتکاب کرنے لگو)۔
سعید بن مسیّب کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہو جسے وہ قربان کرنا چاہتا ہے تو جب ذی الحجہ کی پہلی رات کا چاند نکل آئے تو جب تک وہ قربانی نہ کر لے اپنے بال اور ناخن ہر گز نہ کاٹے۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے ساتھ میں نے عید الاضحی کی نماز پڑھی۔ جب آپؐ نے خطبہ مکمل کیا تو منبر سے نیچے اترے۔ اس (کے بعد) آپؐ کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ اور کہا ’’اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ (اے میرے اللہ!) یہ (قربانی) میری طرف سے ہے اور (میری امت کے) ان لوگوں کی طرف سے، جو قربانی نہیں کر سکتے‘‘۔
حضرت جندبؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرتﷺ کو عید الاضحیٰ کے دن دیکھا کہ پہلے آپﷺ نے نماز پڑھائی پھر آپﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس شخص نے نماز عید پڑھنے سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کر لیا وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی تک ذبح نہیں کیا وہ اب بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرے۔