بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 16 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی حتّٰی کہ رومی اعماق یا فرمایا دابق میں اتریں گے۔ تو اس وقت مدینہ کا ایک لشکر جو کرّہ ارض کے بہترین لوگوں میں سے ہوگا اُن کی طرف نکلے گا۔ جب وہ صف آراء ہو جائیں گے تو رومی کہیں گے ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنہوں نے ہم میں سے قیدی بنائے ہیں ہم ان سے لڑیں۔ مسلمان کہیں گے نہیں، اللہ کی قسم! ہم تمہارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان سے نہیں ہٹیں گے۔ اس پر وہ ان سے جنگ کریں گے تو ایک تہائی بھاگ جائیں گے۔ اللہ کبھی ان کی توبہ قبول نہیں کرے گا اور ان کا ایک تہائی مارا جائے گا۔ یہ اللہ کے نزدیک افضل ترین شہید ہوں گے اور ایک تہائی فتحیاب ہو گا۔ وہ کبھی فتنہ میں مبتلا نہ ہوں گے۔ وہ قسطنطینیہ کو فتح کریں گے۔ پس وہ اپنی تلواروں کو زیتون (کے درخت) سے لٹکا کر اموالِ غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے کہ ان میں شیطان بلند آواز سے کہے گا کہ مسیح دجال تمہارے پیچھے تمہارے اہل و عیال میں ہے۔ وہ وہاں سے نکلیں گے اور یہ جھوٹ ہو گا۔ جب وہ شام آئیں گے تب وہ (دجال) نکلے گا۔ وہ جنگ کی تیاری کے لئے صفیں سیدھی کر رہے ہوں گے کہ نماز کھڑی ہونے کا وقت آجائے گا۔ تو مسیح ابن مریمؑ نازل ہوں گے اور ان کی امامت کروائیں گے۔ جب اللہ کا دشمن اسے دیکھے گا تو ایسے گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے اور اگر وہ (مسیحؑ) اسے چھوڑ بھی دیں تب بھی وہ خود ہی گھل کر ہلاک ہوجائے گا لیکن اللہ اُسے اس (مسیحؑ) کے ہاتھ سے قتل کرے گا اور وہ لوگوں کو اس (دجال) کا خون اپنی برچھی پر دکھائے گا۔
حضرت مُسْتَوْرِد قرشی ؓ نے حضرت عمرو ؓ بن العاص کی موجودگی میں کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا قیامت اس وقت آئے گی جب لوگوں میں سے اکثر رومی ہوں گے۔ حضرت عمروؓ نے ان سے کہا کہ دیکھ لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا انہوں (حضرت عمرؓ و) نے کہا کہ تم اگر ان کے بارہ میں یہ کہتے ہو تو ان میں چار خوبیاں ہیں (1) فتنہ کے وقت وہ لوگوں میں سب سے زیادہ حلیم ہوتے ہیں اور (2) کسی تکلیف کے بعد سب (لوگوں) سے جلدی ا فاقہ پاتے ہیں اور (3) بھاگنے کے بعد پھر حملہ کرتے ہیں اور (4) لوگوں میں بہتر ہیں مسکین یتیم اور کمزور کے لئے اور ــــ پانچویں جو بڑی عمدہ اور خوبصورت خوبی ہے ــــ وہ سب سے زیادہ بادشاہوں کے ظلم کو روکنے والے ہیں۔
یُسیر بن جابر بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ کوفہ میں سُرخ آندھی آئی تو ایک شخص آیا اس کا تکیہ کلام تھا کہ ’’اے عبد اللہ بن مسعودؓ! قیامت آگئی‘‘۔ راوی کہتے ہیں وہ (حضرت عبد اللہؓ) سہارا لئے ہوئے تھے بیٹھ گئے اور کہا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ میراث تقسیم نہ ہو گی اور محض مال غنیمت پر خوشی نہ ہوگی پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا ــــ اور اپنے ہاتھ کو شام کی طرف موڑا ــــ اور کہا کہ اہل اسلام کے مقابل پر دشمن (وہاں) اکٹھے ہوں گے اور مسلمان ان سے لڑنے کے لئے اکٹھے ہوں گے۔ میں نے کہا آپؓ کی مراد رومی ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ابن صائد نے مجھے کہا ـــ اور مجھے اس سے شرم محسوس ہوئی اور میں دوسرے لوگوں کو تو معذور سمجھتا ہوں ـــ لیکن اے محمدؐ کے اصحاب ! میرے اور تمہارے درمیان کیا (جھگڑا) ہے؟ کیا اللہ کے نبیؐ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ (دجال) یہودی ہے؟ اور میں تو مسلمان ہو چکا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا تھا کہ اس کی تو اولاد نہ ہوگی اور میری اولاد ہے اور آپؐ نے فرمایا تھا کہ اللہ نے اس پر مکہ (میں داخلہ) حرام کیا ہے اور میں نے تو حج کیا ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ باتیں کرتا رہا حتی کہ قریب تھا کہ اس کی بات مجھ میں اثر کر جائے۔ وہ کہتے ہیں پھر اس نے انہیں کہا سنو! اللہ کی قسم مجھے علم ہے کہ اب وہ (دجال) کہاں ہے اور میں اس کے باپ اور اس کی ماں کو جانتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں اس سے کہا گیا کیا تمہیں یہ بات خوش کرتی ہے کہ تم ہی وہ شخص ہو؟ وہ کہتے ہیں اس پر اس نے کہا اگر میرے سامنے پیش کیا جائے تو میں ناپسند نہ کروں۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مکہ کی طرف جاتے ہوئے میں ابن صیاد کے ساتھ تھا (اس شخص کے متعلق اس کی بعض عجیب و غریب حرکات کی وجہ سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ دجال ہے) ابن صیاد نے شکوہ کے رنگ میں مجھ سے کہا۔ میں لوگوں سے بڑا دکھی ہوں۔ وہ سمجھتے ہیں میں دجال ہوں لیکن کیا تو نے رسول اللہﷺ سے یہ نہیں سنا کہ دجال کی اولاد نہیں ہو گی اور میری اولاد ہے۔ آپﷺ نے فرمایا تھا کہ دجال کافر ہو گا اور میں مسلمان ہوں۔ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا اور میں مدینہ سے آ رہا ہوں اور مکہ کا ارادہ رکھتا ہوں۔ پھر اس نے مجھ سے کہا البتہ (کچھ نسبت تو میری دجال سے ضرور ہے) مجھے معلوم ہے کہ وہ کب اور کہاں پیدا ہو گا؟ کہاں سے اٹھے گا، اس کے ماں باپ کو بھی میں جانتا ہوں۔ ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا خدا تجھے سمجھے! کیا تجھے اچھا لگتا ہے کہ تو ہی دجال ہو۔ اس پر ابن صیاد نے کہا اگر مجھے دجال بننے کی پیشکش کی جائے تو میں اسے رد نہیں کروں گا اور نہ دجال کہلانا ناپسند کروں گا۔
حضرت زینب بنت جحشؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نیند سے بیدار ہوئے۔ آپ کا چہرہ سرخ تھا۔ آپ یہ فرما رہے تھے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، عرب کی بربادی ہے ایک شر سے جو بالکل قریب آن پہنچا ہے۔ یاجوج اور ماجوج کی دیوار میں آج اتنا روزن ہو گیا ہے اور سفیان نے انگلیوں سے نوے 90 یا سو 100 کا عدد بتلایا۔ آپؐ سے پوچھا گیا کیا ہمیں ہلاک کیا جائے گا جبکہ ہم میں اچھے لوگ ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں، جب گندگی بڑھ جائے گی۔