بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 16 hadith
عامر بن شراحیل شعبیـــ شعب ہمدانــــ بیان کرتے ہیں انہوں نے ضحاک بن قیس کی بہن حضرت فاطمہ بنت قیسؓ سے پوچھا اور وہ ابتدائی ہجرت کرنے والیوں میں سے تھیں کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بتائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو اور آپ اسے حضورؐ کے علاوہ کسی کی طرف منسوب نہ کریں تو انہوں نے کہا ………………… میں نے ایک پکارنے والے کی پکار سنی وہ رسول اللہ ﷺ کا منادی تھا جو نماز کے لئے پکارتا تھا۔ میں مسجد کی طرف نکلی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ میں عورتوں کی اس صف میں تھی جو مردوں کے پیچھے تھی جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل فرمالی تو منبر پر بیٹھ گئے اور آپؐ ہنس رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا ہر شخص اپنی نماز کی جگہ پر ہی رہے پھر فرمایا تمہیں پتہ ہے کہ میں نے تمہیں کیوں اکٹھا کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ؐ زیادہ جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کی قسم! میں نے تمہیں کسی چیز کی طرف رغبت دلانے یا ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا بلکہ میں نے تمہیں اس لئے اکٹھا کیا ہے کہ تمیم داری ایک عیسائی شخص تھا آیا، اس نے بیعت کی اور اسلام لایا اور اس نے مجھے اس سے ملتی جلتی بات بتائی جو میں تمہیں مسیح دجال کے بارہ میں بتایا کرتا تھا اس نے مجھے بتایا کہ وہ لخم اور جذام کے تیس لوگوں کے ہمراہ ایک بحری جہاز میں سوار ہوا اور ایک ماہ تک سمندر کی موجیں ان سے کھیلتی رہیں پھر سمندر میں ایک جزیرہ کے قریب پہنچ گئے یہانتک کہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ پر پہنچ گئے۔ پھر وہ چھوٹی کشتیوں پر بیٹھے اور جزیرہ میں داخل ہوگئے۔ وہاں انہیں ایک بہت گھنے اور زیادہ بالوں والا چوپایہ ملا۔ زیادہ بالوں کی وجہ سے نہ اس کے آگے کا پتہ چلتا تھا نہ پیچھے کا۔ انہوں نے کہا تیرا بھلا ہو تو کون ہے؟ اس نے کہا میں جساسہ ہوں۔ انہوں نے کہا کیا ہے جساسہ؟ اس نے کہا کہ تم اِس آدمی کے پاس دَیر میں چلے جاؤ وہ تمہارے بارہ میں جاننے کا مشتاق ہے۔ جب اس نے ایک آدمی کا نام لیا تو ہم گھبرائے کہ کہیں یہ شیطان ہی نہ ہو۔ وہ کہتے ہیں ہم تیزی سے دَیر کی طرف چل پڑے۔ جب اس میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم الخلقت انسان ہے جیسا ہم نے کبھی نہ دیکھا اور مضبوطی سے جکڑا ہوا، دونوں ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ اس کے گھٹنوں اور ٹخنوں کے درمیان لوہے (کی زنجیروں) سے جکڑے ہوئے۔ ہم نے کہا تمہارا بھلا ہو تم کون ہو ؟ اس نے کہا میرے بارہ میں تمہیں پتہ لگ ہی چکا ہے، تم مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم عرب کے کچھ لوگ ہیں جو ایک بحری جہاز میں سوار ہوئے دوران سفر ہم نے سمندر کو اس وقت پایا جب وہ جوش میں تھا۔ موجیں ہم سے ایک ماہ تک کھیلتی رہیں یہانتک کہ تمہارے جزیرہ میں آپہنچے۔ ہم اس (جہاز) کی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھے اور جزیرہ میں داخل ہوگئے۔ ہم جزیرہ میں داخل ہوئے تو ہمیں ایک بہت گھنے بالوں والا چوپایہ ملا۔ زیادہ بالوں کی وجہ سے نہ اس کے آگے کا پتہ چلتا تھا نہ پیچھے کا۔ ہم نے کہا تیرا بھلا ہو تو کیا ہے؟ اس نے کہا میں جساسہ ہوں ہم نے کہا کون جساسہ؟ اس نے کہا کہ تم اِس آدمی کے پاس دَیر میں چلے جاؤ کیونکہ وہ تمہارے بارہ میں سننے کا شوق رکھتا ہے۔ پس ہم تمہاری طرف دوڑتے ہوئے آئے ہیں اور ہم اس سے بہت گھبرائے ہوئے ہیں کہ کہیں وہ شیطان ہی نہ ہو۔ اس نے کہا کہ مجھے نخل بیسان کے بارہ میں بتاؤ ہم نے کہا کہ اس کی کس چیز کے بارہ میں پوچھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ اس کی کھجوروں کے بارہ میں کیا وہ پھل دیتی ہیں؟ ہم نے اس سے کہا ہاں۔ اس نے کہا کہ قریب ہے کہ وہ پھل نہیں دیں گی۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے بحیرہ طبریہ کے بارہ میں بتاؤ۔ ہم نے کہا کہ اس کی کس چیز کے بارہ میں پوچھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ کیا اس میں پانی ہے؟ انہوں نے کہا اس میں بہت پانی ہے۔ اس نے کہا عنقریب اس کا پانی ختم ہوجائے گا اس نے کہا مجھے زُغر کے چشمہ کے بارہ میں بتاؤ انہوں نے کہا اس کی کس چیز کے بارہ میں پوچھتے ہو؟ اس نے کہا کیا چشمہ میں پانی ہے؟ اور کیا وہاں رہنے والے اس چشمہ کے پانی سے کھیتیاں اگاتے ہیں؟ ہم نے کہا ہاں اس میں بہت پانی ہے اور اس کے رہنے والے اس سے کھیتیاں اگاتے ہیں۔ اس نے کہا کہ مجھے امیوں کے نبی کے بارہ میں بتاؤ کہ اس نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ وہ مکہ سے نکلا اور یثرب آگیا۔ اس نے کہا کیا عربوں نے اس سے جنگ کی؟ ہم نے کہا ہاں اس نے کہا اس نے ان سے کیا سلوک کیا؟ ہم نے اسے بتایا کہ وہ اپنے اردگرد عرب پر غالب آگیا اور انہوں نے اس کی اطاعت قبول کر لی۔ اس نے ان سے کہا کیا ایسا ہوگیا ہے ؟ ہم نے کہا ہاں اس نے کہا ان کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ اس کی اطاعت قبول کرلیں۔ میں تمہیں اپنے بارہ میں بتاتا ہوں کہ میں مسیحِ (دجال) ہوں اور قریب ہے کہ مجھے خروج کی اجازت دی جائے گی۔ میں عنقریب خروج کروں گا اور زمین میں پھروں گا اور چالیس راتوں میں ساری بستیوں میں اتروں گا سوائے مکہ اور طیبہ کے، کہ وہ دونوں مجھ پر حرام کئے گئے ہیں۔ جب کبھی میں ان میں سے کسی ایک میں داخل ہونے کا ارادہ کروں گا تو میرے سامنے ایک فرشتہ آجائے گا جس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تلوار ہوگی اور وہ مجھے اس سے روک دے گا اور اس کے ہر راستہ پر فرشتے ہوں گے جو اس کا پہرا دے رہے ہوں گے۔ وہ (راویہ) کہتی ہیں رسول اللہ
حضرت ابو بکرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ
حضرت نواس بن سمعانؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن صبح رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر فرمایا اور اس کے ذکر میں آواز کبھی دھیمی ہوئی اور کبھی بلند یہانتک کہ ہم سمجھے کہ وہ (دجال قریب ہی) کھجوروں کے جھنڈ میں ہے۔ جب ہم شام کو آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے ہم میں (گھبراہٹ کے آثار) پہچان لئے اور فرمایا تمہیں کیا ہوا ہے؟ ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! صبح آپؐ نے دجال کا ذکر کیا تھا کبھی آپؐ کی آواز دھیمی تھی کبھی بلند۔ ہم سمجھے وہ کھجوروں کے جھنڈ میں ہے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا دجال کے علاوہ (اور امور کا) تمہارے بارے میں مجھے زیادہ خوف ہے۔ اگر وہ میری موجودگی میں نکلے تو میں تمہاری طرف سے اس سے دلیل کے ذریعہ مقابلہ کرنے والا ہوں اور اگر وہ نکلے اور میں تم میں نہ ہوں تو ہر شخص کو خود دلیل کے ذریعہ اس کا مقابلہ کرنا ہو گا اور اللہ میرے بعد ہر مسلمان کا خلیفہ ہے۔ وہ (دجال) جوان ہے، بہت گھنے گھنگھریالے بالوں والا ہے۔ اس کی آنکھ پھولی ہوئی ہے گویا کہ میں اسے عبد العزیٰ بن قطن سے تشبیہ دوں گا۔ تم میں سے جو کوئی اسے پائے تو اس پر سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے۔ وہ شام اور عراق کے درمیان ایک راہ سے نکلنے والا ہے۔ دائیں جانب بھی فساد برپا کرے گا اور بائیں جانب بھی۔ پس اے اللہ کے بندو! تم ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا؟ آپؐ نے فرمایا چالیس دن، کوئی دن ایک سال کے برابر ہوگا اور کوئی دن ایک ماہ کے برابر اور کوئی دن ایک ہفتہ کے برابر، اس کے باقی سارے دن تمہارے دنوں کی طرح ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ دن جو ایک سال کی طرح ہوگا کیا اس میں ایک دن کی نمازیں ہمارے لئے کافی ہوں گی۔ آپؐ نے فرمایا نہیں اس کے لئے اندازہ کر لینا۔ ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! زمین میں اس کی تیز رفتاری کیسی ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا بارش کی طرح جس کے پیچھے ہوا چل رہی ہو۔ پھر وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں پکارے گا تو وہ اس کی بات مان لیں گے۔ اس پر وہ بادلوں کو حکم دے گا تو وہ خوب بارش برسائیں گے اور زمین کو حکم دے گا تو وہ اگائے گی اور شام کو ان کے مویشی آئیں گے تو ان کی کوہانیں پہلے سے بہت اونچی ہوں گی، ان کے تھن بھرے ہوئے ہوں گے اور ان کی کوکھیں بھری ہوں گی۔ پھر وہ ایک اور قوم کو بلائے گا وہ اس کی بات کو رد کر دیں گے اور وہ ان کے پاس سے چلا جائے گا تو وہ قحط میں مبتلا ہو جائیں گے اور ان کے ہاتھوں میں ان کے مالوں میں سے کچھ نہ رہے گا اور وہ (دجال) ویرانے سے گذرے گا تو اسے کہے گا کہ اپنے خزانے نکال تو اس (ویرانے) کے خزانے اس طرح اس کے پیچھے چل پڑیں گے جیسے شہد کی نَر مکھیاں۔ پھر وہ ایک بھر پور جوان آدمی کو بلائے گا اور اسے تلوار سے مارے گا اور اس کے دو ٹکڑے کر دے گا نشانے پر مارنے کی طرح پھر اسے پکارے گا تو وہ روشن چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آئے گا۔ اتنے میں اللہ مسیحؑ ابن مریم کو مبعوث کرے گا اور وہ سفید مینار کے پاس دمشق کے شرقی جانب دو زرد چادروں میں دو فرشتوں کے بازؤوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اترے گا۔ جب وہ اپنا سر جھکائے گا تو سر سے پانی کے قطرے ٹپکیں گے اور جب سر اٹھائے گا تو موتی کی طرح بوندیں ٹپکیں گی۔ کافر (جو) اُس کی سانس کی ہوا پائے، اس کے لئے کچھ چارہ ممکن نہیں مگر یہ کہ وہ مر جائے گا اور اُس کی سانس وہاں تک جائے گی جہاں تک اس کی نظر جائے گی۔ پھر وہ (مسیحؑ دجال) کو تلاش کرے گا یہانتک کہ اسے بابِ لد پر پالے گا اور اسے قتل کر دے گا پھر عیسیٰؑ بن مریم کے پاس ایک قوم آئے گی جنہیں اللہ نے اس (دجال) سے محفوظ رکھا تھاوہ (عیسیٰؑ بن مریم) ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں گے اور انہیں جنت میں ان کے درجے بتائیں گے۔ وہ اس حالت میں ہوں گے کہ اللہ عیسیٰؑ کی طرف وحی کرے گا کہ میں نے اپنے کچھ ایسے بندے نکالے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں تاب نہیں۔ پس میرے بندوں کو طور کی طرف لے جاؤ۔ پھر اللہ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا وہ ہر بلندی کو پھلانگتے ہوئے آئیں گے۔ ان کا پہلا ہراول دستہ بُحیرہ طبریہ سے گذرے گا۔ وہ جو اس میں ہوگا پی جائیں گے اور ان کا آخری دستہ گذرے گا تو کہے گا یہاں کبھی پانی ہوتا تھا۔ اللہ کے نبی عیسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں کو محصور کر دیا جائے گا یہانتک کہ ان میں سے ایک کے لئے بیل کا سر، آج تم میں سے کسی ایک کے لئے سودینار سے بہتر ہوگا۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰؑ اور ان کے ساتھی (خدا کی طرف) توجہ کریں گے۔ تو اللہ ان (یاجوج ماجوج) کی گردنوں میں ایک کیڑا بھیجے گا۔ ایک آدمی کے مرنے کی طرح سب ہلاک ہو جائیں گے۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰؑ اور ان کے ساتھی زمین پر اتریں گے تو زمین میں ایک بالشت بھر جگہ بھی ان کی چربی اور تعفّن سے خالی نہ پائیں گے۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰؑ اور ان کے ساتھی اللہ کی طرف توجہ کریں گے تو اللہ پرندوں کو بھیج دے گا جو بختی اونٹوں کی گردنوں کی طرح ہوں گے۔ وہ ان کی لاشیں اٹھا اٹھا کر وہاں پھینکیں گے جہاں اللہ چاہے گا پھر اللہ بارش بھیجے گا جس سے خاک و خشت کا گھر یا خیمہ نہیں بچائے گا۔ پھر زمین کو دھو ڈالے گی یہانتک کہ اسے آئینے کی طرح کر دے گی پھر زمین سے کہا جائے گا کہ اپنا پھل اگا اور اپنی برکت لوٹا۔ اس دن ایک انار سارا گروہ کھائے گا اور اس کے چھلکے سے سایہ لیں گے اور دودھ میں برکت دی جائے گی حتی کہ دودھ والی اونٹنی ایک بڑے گروہ کو کفایت کرے گی۔ ایک دودھ والی گائے ایک قبیلے کو کفایت کرے گی۔ ایک دودھ والی بکری کا دودھ ایک خاندان کو کفایت کرے گا۔ اسی دوران اللہ ایک خوشگوار ہوا بھیجے گا جو ہر مسلمان کے پہلو کو لگے گی اور ہر مسلمان اور مومن کی روح قبض کر لے گی اور صرف شریر لوگ رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح لڑائی، فساد کریں گے اور ان پر وہ گھڑی آئے گی۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا یقیناً اللہ تعالیٰ یک چشم نہیں ہے اور سنو ! مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے گویا اس کی آنکھ انگور کا پھولا ہوا دانہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا دجال ایک ایسے گدھے پر سوار ہو کر نکلے گا جو چاند کی طرح چمکے گا اس کے دونوں کانوں کے درمیان ستر 70 باع کا فاصلہ ہو گا۔ (انسان کے دونوں پھیلے ہوئے ہاتھوں کے درمیان جو فاصلہ ہوتا ہے اسے ’’باع‘‘ کہتے ہیں۔). نوٹ :۔ ا۔ عَنْ عَبْد اللَّهِ قَال أِنَّ أُذُنَ حَمَارِ الدَّجَّالِ لَتُظِلُّ سَبْعِيْنَ أَلْفَاً (الدر المنثور فی تفسیر بالماثور، سورۃ غافر، آیت إِنَّ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ (56 تا 59 ) جلد 13 صفحہ 63) دجال کے گدھے کا کان ستر 70 ہزار لوگوں پر سایہ کرے گا۔ ب۔ مَابَيْنَ حَافِرِ حِمَارِهِ إِلَى الْحَافِرِ الْآخَرِ مَسِيْرَةُ يَوْمٍ وَّ لَيْلَةٍ (کنز العمال ، حرف القاف ، کتاب القیامۃ من قسم الافعال ، باب الدجال 39709) اس کے گدھے کے ایک سم سے دوسرے سم تک کا فاصلہ ایک دن اور رات کے سفر جتنا ہو گا۔ ج۔ كَلُّ خُطْوَةٍ مِنْ خطَاهُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَ تُطْوَى لَهُ الْأَرْضُ حَتَّى يَسْبِقُ الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَتْ إِلَى مَغْرِبِهَا يَخُوضُ الْبَحْرَ بِحِمَارِهِ الی ركبتیهِ (نزھۃ المجالس و منتخب النفائس (عبد الرحمان الصفوی الشافعی) ، باب فی فضل الجمعۃ و یومھا و لیلتھا و کرمھا، جلد 1 صفحہ 132) اس کے قدموں میں سے ہر قدم (کا فاصلہ) تین دن کا ہو گا۔ اس کے لئے زمین لپیٹ دی جائے گی۔ حتیٰ کہ وہ مغرب کی طرف جاتے ہوئے سورج سے آگے نکل جائے گا۔ وہ اپنے گدھے سمیت سمندر میں اترے گا (اور سمندر کا پانی ) اس کے گھٹنوں تک ہو گا۔ (تیز رفتار ہوائی جہازوں نے عملاً یہی صورت پیدا کی ہے کہ وہ دو ملکوں کے درمیان وقت کے فرق کے اندر اندر بلکہ پہلے وہاں پہنچ جاتے ہیں)۔ د۔ أَمَامَهُ جَبَلُ دُخَانٍ (کنز العمال ، حرف القاف ، کتاب القیامۃ من قسم الافعال ، باب الدجال 39709) اس کے آگے آگے دھوئیں کا پہاڑ ہو گا۔ ھ۔ وَرَكْبٌ ذَوَاتِ الفُرُوْجِ السُّرُوْجِ (بحار الانوار (محمد باقر مجلسی)، الجز الثانی والخمسون، باب علامات ظھور علیہ سلام من السفیانی و الدجال و غیر ذلک و فیہ ذکر بعض اشراط الساعۃ، صفحہ 414 دجال کی سواری کے اندر روشنیاں ہوں گی اور اس کے بہت سے در اور کھڑکیاں ہوں گی۔
حضرت سبیعؓ بیان کرتے ہیں کہ چند لوگوں کے ساتھ مجھے ایک آباد چشمہ سے کوفہ کی طرف بھیجا گیا تا کہ وہاں سے کچھ جانور خرید لاؤں۔ جب ہم کناسہ کے مقام پر ایک خانقاہ پر پہنچے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی کے ارد گرد لوگ جمع ہیں۔ میرے ساتھی تو جانوروں کی طرف چلے گئے اور میں اس آدمی کی طرف آ گیا وہاں جا کر معلوم ہوا کہ وہ شخص حضرت حذیفہؓ ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے (دوسرے) صحابہؓ ہمیشہ اچھی، بھلائی اور خوشخبری والی باتیں آپﷺ سے پوچھا کرتے تھے لیکن میں مستقبل میں پیدا ہونے والے فتنہ و فساد کے متعلق پوچھتا رہتا تھا۔ ایک دن میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا ان بھلے دنوں کے بعد برے دن بھی آئیں گے جس طرح پہلے برے دن تھے؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں۔ میں نے عرض کیا اس فتنہ سے بچنے کی کیا صورت اختیار کی جائے گی؟ آپ نے فرمایا تلوار، یعنی جنگ کا حربہ استعمال کیا جائے گا۔ میں نے عرض کیا۔ نتیجہ کیا ہو گا؟ دلی کدورت کے باوجود صلح کی سطحی کوششیں کی جائیں گی۔ میں نے عرض کیا پھر کیا ہو گا؟ آپﷺ نے فرمایا گمراہی کی طرف بلانے والے لوگ کھڑے ہوں گے، ایسے حالات میں اگر زمین میں اللہ کا کوئی خلیفہ دیکھو تو تم اس کی متابعت و مصاحبت اختیار کرو۔ اگرچہ اس وجہ سے تمہارا جسم لہولہان کر دیا جائے اور تمہارا مال لوٹ لیا جائے اور اگر تمہیں ایسے خلیفتہ اللہ کا قرب میسر نہ آئے تو زمین کے کسی کونے میں چلے جاؤ اگرچہ تم اکیلے درخت کے تنے کو پکڑے مر جاؤ۔ حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ اس نازک صورت حال کے اور کیا نتائج برآمد ہوں گے؟ آپﷺ نے فرمایا پھر دجال کا غلبہ ہو گا۔ اس پر میں نے پوچھا وہ کیا شعبدے دکھائے گا؟ آپﷺ نے فرمایا وہ نہریں جاری کرے گا، آگ سے کام لے گا۔ جو شخص اس کی نہر میں داخل ہوا (یعنی اس نے دنیا کو ترجیح دی) اسے ثواب سے محروم کر دیا جائے گا اور گناہوں کی سزا پائے گا اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوا (یعنی اس کی پیدا کردہ مشکلات کا اس نے سامنا کیا) اس کو اللہ تعالیٰ کے حضور سے ثواب ملے گا اور اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ حذیفہؓ کہتے ہیں میں نے عرض کیا اس کے بعد پھر کیا ہو گا؟ تو آپﷺ نے فرمایا گھوڑی بچہ جنے گی تو اس کا بچہ سواری کے قابل نہیں ہو گا کہ قیامت آ جائے گی۔
حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ’’ هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ‘‘ کے معنی کیا ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا ایسے دل جو پہلی بھائی چارہ کی حالت پر واپس نہیں آئیں گے یعنی ان میں دشمنی اور کھوٹ کی آگ سلگتی رہے گی۔ نوٹ :۔ إِنَّ مَعَهُ جَبَلَ خُبْزٍ، وَنَهَرَ مَاءٍ (بخاری کتاب الفتن باب ذکر الدجال 7122) روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کا دریا اس کے ساتھ ہوں گے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اصفہان کے یہود میں سے ستر 70 ہزار طیالسی قبا پہنے دجال کے ساتھ ہو جائیں گے۔ (قبا کو انگریزی میں duffle coat کہتے ہیں )
نوٹ:۔
أَلَا إِنَّ الدَّجَالَ أَكْثَرُ أَشْبَاعِهِ وَ أَتْبَاعِهِ الْيَهُوْدُ وَ أَوْلَادُ الزِّنَا (کنز العما ل، حرف القاف ، کتاب القیامۃ ، الکذابون ، باب الدجال 39709) دجال کے زیادہ تر پیروکار و مددگار یہودی اور حرامزادے ہوں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’وہ گھڑی‘‘ قائم نہیں ہوگی یہانتک کہ مسلمان یہود سے جنگ کریں گے اور مسلمان انہیں قتل کریں گے یہانتک کہ یہودی کسی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا تو وہ پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان! اے اللہ کے بندے! یہ میرے پیچھے یہودی ہے آ اور اسے قتل کر سوائے غرقد (درخت) کے کیونکہ وہ یہود کا درخت ہے۔
(حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا) آخری زمانہ میں کچھ لوگ ظاہر ہوں گے جو دنیا اور پیسہ کے زور پر دین پھیلائیں گے اور لالچ کے ذریعہ لوگوں کے ضمیر خرید لیں گے۔ دنیا کے سامنے وہ بھیڑوں کا لباس پہن کر آئیں گے (یعنی بظاہر بڑے نرم مزاج اور ٹھنڈی طبیعت کے ہوں گے۔) ان کی زبانیں شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہوں گی (اور اپنی چکنی چپڑی اور میٹھی باتوں سے لوگوں کا دین بدلنے کی کوشش کریں گے) لیکن ان کے دل بھیڑیوں کے سے ہوں گے (یعنی اندر سے ان کی نیتیں سخت خراب اور ان کے ارادے بڑے خطرناک ہوں گے)۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے حلم کی وجہ سے ان کو دھوکا لگا ہے اور میرے خلاف ایسی ناروا جرات کی ہے میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں کہ میں انہی میں سے اور ان کے اندر سے ہی ایسے فتنہ گر پیدا کروں گا کہ ان کے فتنوں اور کارستانیوں کو دیکھ کر عقلمند اور دانا حیران و ششدر رہ جائیں گے۔