(بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب قول اللہ و اذکر فی الکتاب مریم اذ انتبذت من اھلھا 3447)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہیں ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ اُٹھایا جائے گا۔ یہ کہہ کر آپ نے یہ آیت پڑھی جس طرح ہم نے پہلے پہل پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کریں گے۔ ہمارے ذمہ یہ ایک وعدہ ہے ہم ضرور پورا کریں گے۔ (پھر فرمایا) سب سے پہلے جسے پہنایا جائے گا، ابراہیم ہوں گے۔ پھر (جب سب پہنائے جائیں گے تو) ایسا ہوگا کہ میرے صحابہ میں سے بعض لوگوں کو دائیں طرف لے جایا جائے گا اور بعض کو بائیں طرف۔ میں کہوں گا یہ میرے ساتھی ہیں۔ تو کہا جائے گا آپ جب سے ان سے جدا ہوئے وہ اپنی ایڑیوں کے بل پھر گئے۔ تو میں ویسے ہی کہوں گا جیسے اس نیک بندے یعنی عیسیٰ بن مریم نے کہا تھا میں اپنی قوم پر نگران رہا جب تک میں ان کے درمیان رہا۔ جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تُو ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہی ہر ایک چیز کا نگران ہے۔ اگر تو انہیں سزا دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کی پردہ پوشی فرمائے تو تُو بڑی عزت والا اور بڑی حکمتوں والا ہے۔
(كنز العمال حرف الخاء، الخوف والرجاء ، الخمول، باب الاکمال 5955)
(كنز العمال ،حرف الفاء،كتاب الفضائل من قسم الأفعال ،الباب الثاني في فضائل سائر الأنبياء صلوات الله عليهم أجمعين، الفصل الأول في بعض خصائص الأنبياء عموما، الاکمال32262)
(روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) کوئی نبی ایسا نہیں کہ اس کے بعد میں آنے والا نبی نصف عمر زندہ رہتا ہے جتنا کہ اس سے پہلے نبی کی عمر تھی۔ اور عیسیٰ بن مریمؑ ایک سو بیس سال زندہ رہے اور میرا خیال ہے کہ میں ساٹھ 60 سال کے سر پر جانے والا ہوں (یعنی وفات پانے والا ہوں)۔ نوٹ:۔ یہ سنت الہی اور قاعدہ ربانی غالباً پرانی شریعت کے آخری نبی اور نئی شریعت کے بانی نبی کے بارہ میں ہے۔
(مستدرک علی الصحیحین للحاکم کتاب معرفۃ الصحابہ رضی اللہ عنھم باب ذکر زید بن الارقم الانصاری رضی اللہ عنہ 6272 )
حضرت زید بن ارقمؓ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم غدیر خم تک آئے۔ آپؐ نے آرام کا حکم دیا۔ ہمیں ایسے سخت دن سے واسطہ پڑا کہ اس سے قبل اس سے سخت اور گرم دن سے نہیں پڑا تھا۔ آپؐ نے اللہ کی تعریف اور ثناء بیان کی اور فرمایا اے لوگو! کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا مگر وہ اپنے سے پہلے نبی کی عمر سے نصف عمر زندہ رہا اور میرا یقین ہے کہ مجھے بلایا جائے گا اور میں جواب دوں گا (یعنی میری وفات ہو گی) اور یقینا ً میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں جس کی وجہ سے تم بعد میں گمراہ نہ ہو گے، اللہ عزوجل کی کتاب۔
(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ، باب خصائص امتہ ﷺ، جلد 7صفحہ398)
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپﷺ کی وفات ہوئی، اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ سے فرمایا جبرائیلؑ ہر سال مجھ سے ایک بار قرآن کریم کا دور کرتا تھا لیکن اس سال اس نے دو دفعہ دور کیا اور مجھے خبر دی کہ ہر نبی نے اپنے سے پہلے نبی سے نصف عمر پائی ہے۔ عیسیٰ ابن مریمؑ ایک سو بیس سال زندہ رہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ میں ساٹھ سال کی عمر میں اس دنیا سے جاؤں گا۔
)کشف الغمۃ عن جمیع الامۃ (للشعرانی) کتاب الامان و الصلح ، باب قسم الفی والغنیمۃ جلد2 صفحہ272)
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہﷺ سے اکثر سنا کرتی تھی کہ ہر نبی نے اپنے سے پہلے نبی سے نصف عمر پائی ہے اور عیسیٰ بن مریمؑ ایک سو بیس 120 سال زندہ رہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ساٹھ 60 سال کی عمر میں میں اس دنیا سے جاؤں گا چنانچہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ آپﷺ فرمایا کرتے تھے۔ یہ بھی مشہور ہے کہ عیسیٰ بن مریم بنی اسرائیل میں چالیس 40 سال رہے (اور اس کے بعد آپ دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے)۔
یہ روایت جو مشہور ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ سلام تنتیس 33 سال کی عمر میں اٹھائے گئے۔ یہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔ آنحضرتﷺ کی حدیث تو یہ ہے حضرت عیسیٰؑ ایک سو بیس سال زندہ رہے۔
(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ،تابع المقصد الرابع : فی معجزاتہ ﷺ،باب خصائص امتہﷺ، جلد7 صفحہ398)
یہ روایت کہ ان (یعنی حضرت عیسیٰ ؑ) کا تینتیس 33 سال کی عمر میں رفع ہوا تھا عیسائیوں کا زعم اور خیال ہے۔ حدیث نبویہ سے تو ثابت ہوتا ہے کہ ایک سو بیس سال کی عمر میں ان کا رفع ہوا تھا۔
روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ اے عیسیٰ ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتے رہو تا کہ تم پہچانے نہ جا سکو، بصورت دیگر تجھے لوگ دکھ دیں گے۔ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم میں ہزار حوروں سے تیری شادی کراؤں گا اور تیرا ولیمہ چار سو سال تک کراتا رہوں گا۔ (یعنی ہزاروں حسن باطنی رکھنے والی قومیں تیری اطاعت اور پیروی کا دم بھریں گی اور چار سو سال تک تیرے ماننے والے صحیح راستہ پر گامزن رہیں گے اور تیرے ذریعہ نازل ہونے والی روحانی برکات سے حصہ پائیں گی)۔