بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 20 hadith
حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ اور خوشحال رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور آگے اسی طرح اسے پہنچایا جس طرح اس نے سنا تھا۔ کیونکہ بہت سے ایسے لوگ جن کو بات پہنچائی گئی ہے، سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے اور سمجھ سے کام لینے والے ہوتے ہیں۔
حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علم طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور علم کو نااہل کے سامنے پیش کرنے والا سؤروں کے گلے میں جواہر، موتی اور سونے کا ہار ڈالنے والے کی طرح ہے۔
حضرت ابوھریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علم طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم جنت کے باغوں میں سے گزرو تو خوب چرو۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ریاض الجنہ سے کیا مراد ہے؟ آپﷺ نے فرمایا مجالس علمی۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علم حاصل کرو۔ علم حاصل کرنے کے لئے وقار اور سکینت کو اپناؤ۔ اور جس سے علم سیکھو اس کی تعظیم و تکریم کرو اور ادب سے پیش آؤ۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ ایک مسلمان شخص علم سیکھے اور پھر وہ اسے اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حکمت کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے وہ جہاں بھی اسے پائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔
حمید بن عبد الرحمن نے کہا میں نے حضرت معاویہؓ کو تقریر کرتے سنا وہ کہتے تھے میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے اللہ جس شخص کی بہتری چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ دے دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ ہی دیتا ہے اور ہمیشہ یہ امت اللہ کے حکم پر قائم رہے گی۔ اس کے مخالف اس کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر آجائے۔
حضرت ابو حنیفہؒ بیان کرتے ہیں کہ میں 80 ھ میں پیدا ہوا اور میں نے اپنے والد کے ساتھ 96 ھ میں حج کیا اور میری عمر اس وقت 16 سال تھی۔ ایک دفعہ میں مسجد حرام میں داخل ہوا تو لوگوں کا ایک بڑا مجمع دیکھا۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا یہ لوگ کس کے گرد اکٹھے ہیں۔ میرے والد نے بتایا کہ یہ حلقہ نبیﷺ کے صحابی حضرت عبداللہ بن حارثؓ کا ہے۔ یہ سن کر میں ان کی طرف بڑھا تو انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے اندر تفقہ فی الدین پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے تمام کاموں کا خود متکفل ہو جاتا ہے اور اس کے لئے ایسی ایسی جگہوں سے رزق کے سامان مہیا کرتا ہے کہ جس کا اسے وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔
حضرت ابو قتادہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خیر، جو انسان اپنے بعد چھوڑتا ہے، تین قسم کی ہے۔ (1) نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔ (2) صدقہ جاریہ، اُس کا اجر اُسے پہنچتا رہے گا۔ (3) ایسا علم جس پر اس کے بعد عمل کیا جاتا رہے۔