بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 20 hadith
قیس بن کثیر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مدینہ سے حضرت ابو درداءؓ کے پاس آیا جبکہ وہ دمشق میں تھے۔ انہوں نے پوچھا اے میرے بھائی! آپ کیسے آئے ؟ انہوں نے کہا ایک حدیث کی طلب میں، مجھے معلوم ہوا کہ آپ اسے رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کسی ضرورت سے تو نہیں آئے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا کسی تجارت کے لیے تو نہیں آئے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا میں صرف حدیث کی طلب میں آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ جو شخص علم کی تلاش میں نکلے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔ اور فرشتے طالب علم کے کام پر خوش ہو کر اپنے پر اس کے آگے بچھاتے ہیں اور عالم کے لئے زمین و آسمان میں رہنے والے بخشش مانگتے ہیں یہاں تک کہ پانی کی مچھلیاں بھی اس کے حق میں دعا کرتی ہیں۔ عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چاند کی دوسرے ستاروں پر، اور علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء روپیہ پیسہ ورثہ میں نہیں چھوڑ جاتے بلکہ ان کا ورثہ علم و عرفان ہے۔ جو شخص علم حاصل کرتا ہے وہ بہت بڑا نصیبہ اور خیر کثیر حاصل کرتا ہے۔
حضرت زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ کے سامنے ایک خط تھا۔ اس وقت میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (وقفہ کے دوران) قلم کو کان پر رکھا کرو اس سے لکھانے والے کو بات زیادہ یاد رہتی ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا علم اس غرض کے لئے حاصل نہ کرو کہ اس کے ذریعہ علماء پر فخر کرو اور نہ اس لئے کہ اس کے ذریعہ نادانوں سے بحث کرو اور نہ اس کے ذریعہ مجالس میں فضیلت چاہو۔ جس نے ایسا کیا تو آگ ہے آگ ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی بڑائی میں سے ہے عمر رسیدہ مسلمان، حافظ قرآن جو غالی نہ ہو اور نہ قرآن کو بھولنے والا ہو کی عزت کرنا اور انصاف پسند بادشاہ کی عزت کرنا۔
حضرت ابو امامہ باھلی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے حضور دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا۔ ان میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی میری فضیلت تم میں سے ایک معمولی آدمی پر ہے۔ یعنی دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ اور اس کے فرشتے، آسمانوں میں رہنے والے اور زمین میں رہنے والے، یہاں تک کہ چیونٹی جو بل میں ہے اور مچھلی جو پانی میں ہے یہ سب دعائیں مانگتے ہیں اس شخص کے لئے جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ اپنے ایک حجرے سے باہر تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہوئے تو آپؐ کے سامنے دو حلقے تھے۔ اُن میں سے ایک (حلقے والے) قرآن پڑھ رہے تھے اور اللہ سے دعا کر رہے تھے اور دوسرے علم حاصل کر رہے تھے اور علم سکھا رہے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا سب نیک کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں اور اللہ سے دعا کر رہے ہیں۔ اگر اللہ چاہے تو ان کو دے گا اور اگر چاہے تو ان کو نہ دے گا اور یہ علم سیکھ رہے ہیں اور سکھا رہے ہیں اور میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ پس آپؐ ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔
حضرت زید بن ثابتؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا یہودیوں کی خط و کتابت کی زبان سیکھو کیونکہ مجھے یہودیوں پر اعتبار نہیں کہ وہ میری طرف سے کیا لکھتے ہیں اور کیا کہتے ہیں۔ زید کہتے ہیں کہ نصف ماہ ہی گزرا تھا کہ میں نے سریانی میں لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔ اس کے بعد جب بھی حضور علیہ السلام کو یہود کی طرف کچھ لکھنا ہوتا تو مجھ سے لکھواتے اور جب ان کی طرف سے کوئی خط آتا تو میں حضور ﷺ کو پڑھ کر سناتا۔
حضرت مسروقؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس ہم آئے آپ نے کہا اے لوگو! اگر کسی کو کوئی علم کی بات معلوم ہو تو بتا دینی چاہئے اور جسے علم کی کوئی بات معلوم نہ ہو تو سوال ہونے پر وہ جواب دے کہ اللَّهُ أَعْلَمُ یعنی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ کیونکہ یہ بھی علم کی بات ہے کہ انسان جس بات کو نہیں جانتا اس کے متعلق کہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبیﷺ کو فرماتا ہے اے رسولﷺ! تو کہہ میں تم سے اس کا کوئی بدلہ نہیں مانگتا اور نہ ہی میں تکلف سے کام لینے والا ہوں۔
حضرت زید بن ارقمؓ بیان کرتے ہیں کہ میں تمہیں نہیں کہتا مگر وہی جیسے رسول اللہؐ ﷺ فرمایا کرتے تھے۔ آپؐ یہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ عاجز آجانے سے، سُستی اور بُزدلی اور بخل اور انتہائی بڑھاپے اور عذابِ قبر سے۔ اے اللہ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا کر اور اسے پاک کردے۔ تو اسے پاک کرنے والوں میں سے سب سے بہتر ہے۔ تو اس کا ولی اور مولا ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو فائدہ نہ دے اور اس دل سے جس میں خشوع نہ ہو اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس دعا سے جسے قبول نہ کیا جائے۔
حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ صحیح اور حقیقی فقیہہ وہ ہے جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونے دیتا اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا جواز بھی مہیا نہیں کرتا اور نہ ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے بے خوف بناتا ہے۔ قرآن کریم سے ان کی توجہ ہٹا کر کسی اور کی طرف انہیں راغب کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ یاد رکھو۔ علم کے بغیر عبادت میں کوئی بھلائی نہیں اور سمجھ کے بغیر علم کا دعویٰ درست نہیں۔ اور تدبر اور غور و فکر کے بغیر محض قراءت کا کچھ فائدہ نہیں۔