بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 9 hadith
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کے لئے باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص سامنے سے پیدل چلتے ہوئے آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اللہ، اس کے ملائکہ، اس کے رسولوں اور اس کی ملاقات پر یقین رکھے اور اس بات پر یقین کرے کہ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندگی ہے۔ اس نے کہا یا رسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے اور نماز سنوار کر ادا کرے اور زکوٰة دے جو فرض کی گئی ہے اور رمضان میں روزے رکھے۔ اس نے کہا یا رسول اللہ! احسان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی اس طرح عبادت کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اگر یہ کہ تم اسے دیکھ رہے ہو تو پھر اتنا تو ہو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ وہ کہنے لگا یا رسول اللہ! وہ گھڑی کب ہوگی؟ آپ نے فرمایا جس شخص سے اس کی بابت پوچھا جارہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا مگر میں تمہیں اس کی علامتیں بتائے دیتا ہوں۔ جب عورت اپنے مالک کو جنے گی تو یہ اس کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے اور جب ننگے پاؤں، ننگے بدن آوارہ گرد لوگوں کے سردار ہوں گے۔ یہ بات بھی اس کی علامتوں میں سے ہے۔ اس گھڑی کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے۔ جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنْزِلُ الغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ …( ىقىناً اللہ ہى ہے جس کے پاس قىامت کا علم ہے اور وہ بارش کو اتارتا ہے اور جانتا ہے کہ رِحموں مىں کىا ہے)۔ پھر اس کے بعد وہ شخص واپس چلا گیا۔ آپ نے فرمایا اسے میرے پاس واپس لے آؤ۔ صحابہ اسے واپس بلانے کے لئے گئے۔ مگر انہوں نے کچھ نہ دیکھا۔ آپ نے فرمایا یہ جبرائیل ہیں جو اس لئے آئے تھے کہ لوگوں کو ان کا دین سکھائیں۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے۔ یہ اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد (
حضرت ابو امامہ باھلیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجہ الوداع کے موقعہ پر خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور پانچوں وقت کی نماز پڑھو، ایک مہینے کے روزے رکھو، اپنے اموال کی زکوۃ دو اور جب میں کوئی حکم دوں تو اس کی اطاعت کرو۔ (اگر تم ایسا کرو گے تو) اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اصل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان سلامتی میں رہیں اور اصل مہاجر وہ ہے جو اس بات کو جسے اللہ نے منع فرمایا ہے چھوڑ دے۔
حضرت عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ہمارے پاس ایک بہت سفید کپڑوں میں ملبوس بہت سیاہ بالوں والا آدمی آیا، نہ تو اس پر کوئی سفر کے آثار نظر آتے تھے، نہ ہی اُسے ہم میں سے کوئی جانتا تھا یہانتک کہ وہ نبی ﷺ کی طرف رُخ کر کے بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے دونوں گھٹنے آپؐ کے دونوں گھٹنوں سے لگا دیئے اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں رانوں پر رکھے اور پھر کہا کہ اے محمد ﷺ! مجھے اسلام کے بارہ میں (کچھ) بتایئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو اگر تم وہاں جانے کی طاقت رکھتے ہو۔ اس نے کہا آپؐ نے ٹھیک کہا۔ حضرت عمرؓ نے کہا ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ (خود) ہی آپؐ سے سوال کرتا ہے اور (خود) ہی آپؐ کی تصدیق کرتا ہے۔ پھر اس نے کہا مجھے ایمان کے بارہ میں بتایئے۔ آپؐ نے فرمایا کہ (ایمان یہ ہے کہ) تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور آخری دن پر اور اس کی خیروشر کی تقدیر پر ایمان لاؤ۔ اس نے کہا کہ آپؐ نے ٹھیک فرمایا پھر اس نے کہا کہ مجھے احسان کے بارہ میں بتایئے۔ آپؐ نے فرمایا کہ (احسان یہ ہے کہ) تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں یقیناً دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے اس گھڑی کے بارہ میں بتایئے۔ آپؐ نے فرمایا کہ جس سے اس کے متعلق پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے اس کی کوئی نشانی بتایئے۔ آپؐ نے فرمایا کہ لونڈی اپنے مالک کو جنے گی اور تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، محتاج اور بکریاں چرانے والے بلند و بالا عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا پھر وہ چلا گیا۔ میں کچھ دیر وہاں رہا تو آپؐ نے مجھ سے فرمایا کہ اے عمرؓ ! کیا تم جانتے ہو کہ یہ پوچھنے والا کون تھا؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسولﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ جبرائیلؑ تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے تمہارے پاس آئے تھے۔
حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کہتے ہیں کہ اہل نجد میں سے ایک پراگندہ سر، آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ ہم اس کے بولنے کی آواز سنتے تھے مگر سمجھ نہ آتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوا تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ نمازیں دن رات میں ہیں۔ اس نے کہا کیا مجھ پر ان کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپؐ نے فرمایا نہیں سوائے اس کے کہ تم نفل پڑھو، اور ماہ رمضان کے روزے۔ اس نے کہا کیا مجھ پر ان کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپؐ نے فرمایا نہیں سوائے اس کے کہ تم نفلی روزے رکھو۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے زکوٰۃ کا ذکر فرمایا تو اس نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ ہے؟ آپؐ نے فرمایا نہیں سوائے اس کے کہ تم نفل کے طور پر دو۔ انہوں نے کہا وہ شخص چلا گیا اور وہ کہتا جاتا تھا خدا کی قسم میں نہ تو اس سے زیادہ کروں گا اور نہ اس سے کم کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کامیاب ہو گیا اگر اس نے سچ کہا۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ خود اُس پر ظلم کرے اور نہ اسے (ظالم کے) سپرد کرے۔ اور جو شخص اپنے بھائی کے کام میں مشغول ہوگا، اللہ بھی اس کے کام میں مشغول رہے گا۔ اور جس نے کسی مسلمان سے کوئی تکلیف دور کی اللہ یومِ قیامت کی تکالیف میں سے ایک تکلیف اُس سے دور کرے گا۔ اور جس نے ایک مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ بھی قیامت کے روز اُس کی پردہ پوشی کرے گا۔
حضرت عبدالرحمان بن سنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام غریب الوطنی کی حالت میں شروع ہوا پھر غریب الوطن ہو جائے گا جیسا کہ شروع ہوا۔ پس غریب الوطن لوگوں کے لیے خوش خبری ہے۔ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! غرب الوطن کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ جو نیکی اور بھلائی پر قائم رہتے ہیں جبکہ عام لوگ بگڑ گئے ہوں اور ان میں فساد آ گیا ہو۔ اس کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! ایمان مدینہ کی طرف یوں ہٹ آئے گا جیسے سیلابی موج بڑی تیزی کے ساتھ پیچھے ہٹتی ہے۔ اس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اسلام دو مسجدوں کے درمیان یوں سکڑ اور سمٹ جائے گا جیسے سانپ اپنی بل میں سمٹ کر گھس جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہماری موجودگی میں ایک دن فرمایا کہ غریب الوطن لوگوں کے لئے بڑی خوشخبری ہے۔ عرض کیا گیا۔ حضور ﷺ غریب الوطن لوگوں سے مراد کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ نیک لوگ جو ایسے لوگوں میں رہتے ہوں جن میں فرمانبرداروں کی نسبت نافرمانوں کی بھاری اکثریت ہو (اور نیک لوگ ان میں اجنبی اجنبی اور اوپرے اوپرے لگیں جیسے وہ کسی اور دنیا کے باسی ہیں)۔