بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 9 hadith
ابو مالک اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جس نے لا الٰہ الا اللہ کہا اور ان چیزوں کا انکار کیا جن کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔
عطاء نے نبی ﷺ کے بہت سے صحابہؓ سے یہ واقعہ سنا کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ کی ایک لونڈی تھی جو ان کی بکریاں چرایا کرتی تھی۔ عبداللہ بن رواحہ نے اس کو ایک بکری کا خاص طور پر خیال رکھنے کی ہدایت کی۔ چنانچہ وہ بکری موٹی تازی ہو گئی۔ ایک دن چرواہن بعض اور جانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف تھی کہ ایک بھیڑیے نے آ کر اس بکری کو چیر پھاڑ دیا۔ عبداللہ بن رواحہ نے اس بکری کو نہ پایا تو اس کے متعلق پوچھا۔ چرواہن نے سارا واقعہ بتا دیا جس پر انہوں نے چرواہن کو ایک تھپڑ مارا۔ بعد میں اپنے فعل پر شرمندہ ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو بڑی اہمیت دی اور فرمایا کہ تم نے ایک مومنہ کے منہ پر تھپڑ مارا؟ اس پر عبداللہ بن رواحہ نے عرض کیا۔ حضور وہ تو حبشی عورت ہے اور جاہل سی عورت ہے اسے دین وغیرہ کا کچھ علم نہیں۔ نبی ﷺ نے اس چرواہن کو بلا بھیجا اور اس سے پوچھا۔ اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا آسمان پر۔ پھر آپ ﷺ نے دریافت کیا۔ میں کون ہوں؟ اس نے جواباً کہا اللہ کے رسول۔ یہ سن کر آپؐ نے فرمایا یہ مومنہ ہے اسے آزاد کر دو۔ اس پر عبداللہ بن رواحہ نے اسے آزاد کر دیا۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قبیلہ حرقہ کی طرف بھیجا۔ ہم نے صبح سویرے اس قوم پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی اور میں نے اور ایک انصاری مرد نے ان میں سے ایک شخص کا پیچھا کیا۔ جب ہم نے اس کو گھیر لیا تو وہ لا الٰہ الا اللہ کہنے لگا۔ (یہ سن کر) انصاری تو رک گیا اور میں نے اپنے نیزہ سے اس کو زخمی کیا اور مار ڈالا۔ جب ہم آئے تو نبی ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپؐ نے فرمایا اے اسامہ! کیا تم نے اسے مار ڈالا بعد اس کے کہ اس نے لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کیا۔ میں نے کہا وہ اپنا بچاؤ کر رہا تھا۔ مگر آپ وہی بات دہراتے رہے۔ یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کہ کاش میں اس دن سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک مہم پر بھیجا۔ صبح کے وقت ہم جہینہ کے حرقات (جہینہ قبیلہ کے علاقہ میں ایک موضع کا نام ہے) میں پہنچے۔ وہاں ایک شخص کو میں نے جا لیا، اس نے کہا ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ مگر میں نے اسے نیزہ مارا، پھر اس سے میرے دل میں خلش پیدا ہوئی تو میں نے اس کا ذکر نبی ﷺ سے کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا اس نے لا الٰہ الا اللہ کہا اور تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو اس نے ہتھیار کے ڈر سے کہا تھا۔ فرمایا تو تم نے کیوں اس کا دل نہ چیرا تا کہ تم جان لیتے کہ اس نے یہ (دل سے) کہا تھا یا نہیں۔ آپؐ میرے سامنے یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے یہ خواہش کی کہ کاش میں نے اس دن ہی اسلام قبول کیا ہوتا۔
حضرت عبیداللہ بن عدیؓ بیان کرتے ہیں کہ مقداد بن عمرو کندیؓ جو جنگ بدر میں شامل ہوئے تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! اگر کسی کافر سے میری مڈ بھیڑ ہو جائے اور وہ تلوار سے میرا ہاتھ کاٹ ڈالے پھر اپنے بچاؤ کی خاطر درخت کی اوٹ میں ہو جائے اور کہے کہ میں خدا پر ایمان لاتا ہوں تو کیا میں اسے اس کے یہ کہنے کے بعد قتل کر سکتا ہوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں تم اسے قتل نہیں کر سکتے۔ مقداد نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس نے تو میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالا ہے پھر اپنی جان بچانے کی خاطر یہ کہہ رہا ہے تو کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں جب وہ ایمان کا اقرار کرتا ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔ اگر تم اس اقرار کے بعد اسے قتل کرو گے تو تم اس مقام پر ہو گے جس پر وہ تھا۔ یعنی وہ مومن اور تم کافر قرار پاؤ گے۔
عبد اللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بعض لوگوں سے وحی کی بناء پر مؤاخذہ کیا جاتا تھا اور اب وحی تو منقطع ہو چکی ہے اور ہم تم سے صرف تمہارے انہی عملوں کی بناء پر مواخذہ کریں گے جو ہم پر ظاہر ہوں۔ سو جس نے ہمیں بھلے کام دکھائے ہم اس سے مطمئن ہوں گے اور اس کو ہم اپنے قریب کریں گے اور اس کے اَندرُونے کا ہم سے کچھ واسطہ نہیں۔ اللہ اس کے اَندرُونے کا (اس سے) حساب لے گا۔ اور جس نے ہمیں برے کام دِکھلائے ہم اس سے مطمئن نہیں ہوں گے اور نہ اسے سچا سمجھیں گے، اگرچہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ اس کا اَندرُونہ اچھا ہے۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ اس کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد ﷺ اس کا بندہ اور رسول ہے اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ کریں اور ہمارا ذبح کیا ہوا جانور کھائیں اور ہماری طرح نماز پڑھیں۔ جب وہ یہ کر لیں تو ان کے خون اور ان کے مال ہم پر حرام ہیں مگر کسی حق کی وجہ سے اور ان کے لیے وہی ہے جو مسلمانوں کے لیے ہے اور ان پر وہی ہے جو مسلمانوں پر ہے۔
حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ہماری نماز کی طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہمارا ذبح کردہ جانور کھائے۔ پس یہ وہ مسلمان ہے جس کے لیے اللہ کی امان ہے اور اُس کے رسول کی امان ہے۔ سو اللہ سے عہد شکنی مت کرو اُس امان کے متعلق جو اُس نے دی ہے۔
حضرت ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو فسق اور کفر کی تہمت نہ لگائے کیونکہ اگر وہ شخص خدا تعالیٰ کے نزدیک کافر یا فاسق نہیں تو کہنے والے پر یہ کلمہ لوٹے گا۔ (یعنی کہنے والا خدا کی نظر میں کافر اور فاسق ہو گا)۔