بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 10 hadith
حضرت عرباض بن ساریہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے ہمیں صبح کی نماز کے بعد بہت مؤثر فصیح و بلیغ انداز میں ہمیں وعظ فرمایا جس سے (لوگوں کی) آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اور دل ڈر گئے۔ (حاضرین میں سے) ایک شخص نے عرض کی اے اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی وعظ لگتا ہے آپ کیا نصیحت فرماتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا میری وصیت یہ ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، بات سنو اور اطاعت کرو خواہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہو۔ کیونکہ ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی میرے بعد زندہ رہا تو بہت بڑے اختلافات دیکھے گا پس تم ان نازک حالات میں میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کی پیروی کرنا اور اسے پکڑ لینا۔ دانتوں سے مضبوط گرفت میں کر لینا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ہماری اِس شریعت میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کی جو اِس میں نہیں تو وہ ردّ کی جائے گی۔
عبدالرحمن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر بیان کرتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہؓ کے پاس آئے یہ وہی عرباض ہیں جن کے بارہ میں یہ آیت نازل ہوئی کہ نہ ان لوگوں پر کوئی الزام ہے جو تیرے پاس سواری حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں (تاکہ غزوہ میں شریک ہو سکیں) تو تو ان کو جواب دیتا ہے کہ میرے پاس کوئی سواری نہیں ہے وہ یہ جواب سن کر رنج و غم میں ڈوبے واپس جاتے ہیں ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی ہوتی ہیں کہ افسوس ان کے پاس خرچ کرنے کے لئے کچھ نہیں۔ ہم نے ان کی خدمت میں سلام عرض کیا اور کہا کہ ہم آپ سے ملنے اور کچھ استفادہ کرنے آئے ہیں اس پر عرباض نے فرمایا ایک دن رسول اللہﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بہت مؤثر فصیح و بلیغ انداز میں ہمیں وعظ فرمایا جس سے (لوگوں کی) آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اور دل ڈر گئے۔ حاضرین میں سے ایک نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو الوداعی وعظ لگتا ہے آپ کی نصیحت کیا ہے آپﷺ نے فرمایا میری وصیت یہ ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، بات سنو اور اطاعت کرو خواہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہو۔ کیونکہ ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی میرے بعد زندہ رہا تو بہت بڑے اختلافات دیکھے گا پس تم ان نازک حالات میں میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کی پیروی کرنا اور اسے پکڑ لینا۔ دانتوں سے مضبوط گرفت میں کر لینا۔ تمہیں دین میں نئی باتوں کی ایجاد سے بچنا ہو گا کیونکہ ہر نئی بات جو دین کے نام سے جاری ہو بدعت ہے اور بدعت نری گمراہی ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دیتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں اور آپ کی آواز بلند ہو جاتی تھی اور آپ کا جلال زیادہ ہو جاتا تھا گویا آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں۔ آپ فرماتے تھے کہ وہ صبح یا شام تم پر حملہ آور ہونے والا ہے اور فرماتے کہ میں اور قیامت ان دو کی طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور آپؐ شہادت اور درمیانی انگلی کو ملاتے اور فرماتے اما بعد! بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین ہدایت محمد (رسول اللہ ﷺ) کی ہدایت ہے اور سب سے بری چیز بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر فرماتے میرا ہر مؤمن سے اس کی جان سے زیادہ قریبی تعلق ہے جو کوئی بھی مال چھوڑے تو وہ اس کے گھر والوں کے لئے ہے اور جو کوئی قرض چھوڑے یا کمزور اولاد چھوڑے تو وہ میرے ذمہ ہے۔
حضرت حارث اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو پانچ باتوں کا حکم دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں بھی تم کو ان پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے۔ ۱۔ جماعت کے ساتھ رہو۔ ۲۔ امام وقت کی باتیں سنو۔ ۳۔ اور اس کی اطاعت کرو۔ ۴۔ دین کی خاطر وطن چھوڑنا پڑے تو وطن چھوڑ دو۔ ۵۔ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرو۔ پس جو شخص جماعت سے تھوڑا سا بھی الگ ہوا اس نے گویا اسلام سے گلو خلاصی کرا لی۔ سوائے اس کے کہ وہ دوبارہ نظام جماعت میں شامل ہو جائے۔ اور جو شخص جاہلیت کی باتوں کی طرف بلاتا ہے وہ جہنم کا ایندھن ہے۔ صحابہ نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول! خواہ ایسا شخص نماز بھی پڑھتا ہو اور روزہ بھی رکھتا ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں خواہ وہ نماز بھی پڑھے اور روزہ بھی رکھے اور اپنے آپ کو مسلمان بھی سمجھے لیکن اے اللہ جل شانہ، کے بندو! یہ بات یاد رکھو کہ (اس صورت حال کے باوجود) جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہیں انہیں تم بھی مسلمان کہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (تعین کے لئے) اس امت کا نام مسلمان اور مومن رکھا ہے (اس لئے سرائر کو تم حوالہ بخدا کرو)۔
کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی نے بیان کیا کہ مجھے میرے باپ نے میرے دادا سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے میری سنت میں سے کسی سنت کو زندہ کیا اور لوگ اُس پر عمل کرنے لگے تو اس کے لئے اس پر عمل کرنے والوں کے برابر اجر ہوگا اور اُن کے اجر میں کچھ کمی نہیں ہو گی اور جس نے کوئی بدعت شروع کی اور اس پر عمل ہونے لگا تو اس پر ان سب عمل کرنے والوں کے بوجھ ہوں گے اور ان عمل کرنے والوں کے بوجھ میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ابو طلحہ انصاری، ابو عبیدہ بن جراح اور ابی بن کعب کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا۔ کسی آنے والے نے بتایا کہ شراب حرام ہو گئی ہے یہ سن کر ابو طلحہ نے کہا کہ انس اٹھو اور شراب کے مٹکوں کو توڑ ڈالو۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور پتھر کی کونڈی کا نچلا حصہ مٹکوں پر دے مارا اور وہ ٹوٹ گئے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تک میں تم کو چھوڑے رکھوں اور تم سے کچھ نہ کہوں تم بھی مجھے چھوڑے رکھو (یعنی مجھ سے کچھ نہ پوچھو) کیونکہ تم سے پہلے بہت سے لوگ اس وجہ سے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے انبیاء سے بکثرت سوال کرتے لیکن جب ان کو جواب دیا جاتا تو ان کی خلاف ورزی کرتے اور جواب کے مطابق عمل نہ کرتے۔ پس جب خود میں تم کو کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ اور جس کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق کرو۔
حضرت ابو ثعلبة خشنی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر کئے ہیں تم انہیں ضائع نہ کرنا۔ اس نے کچھ حدیں مقرر کی ہیں۔ تم ان سے آگے نہ بڑھنا اور نہ ان کو پامال کرنا۔ اس نے کچھ چیزیں حرام کی ہیں۔ تم ان کا ارتکاب نہ کرنا۔ کچھ باتوں کا ذکر اس نے چھوڑ دیا ہے (صرف تم پر رحم کرتے ہوئے)۔ نہ وہ بھولا ہے نہ اس نے غلطی کھائی ہے پس ان کے متعلق کرید اور جستجو نہ کرنا۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نبیﷺ سے سوال کئے یہاں تک کہ انہوں نے حضورﷺ سے کرید کرید کر سوال کئے۔ ایک روز آپؐ باہر تشریف لائے اور منبر پر چڑھے اور فرمایا مجھ سے پوچھو۔ تم مجھ سے جس چیز کے بارہ میں بھی سوال کرو گے میں اسے تمہارے لئے کھول کر بیان کروں گا۔ جب لوگوں نے یہ سنا تو وہ خاموش ہو گئے اور ڈر گئے کہ ضرور کوئی بات ہونے والی ہے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں میں اپنے دائیں اور بائیں دیکھنے لگا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہر آدمی اپنے کپڑے میں سر لپیٹے ہوئے رو رہا ہے۔ پھر ایک آدمی مسجد میں کھڑا ہوا جس سے جھگڑا کیا جاتا تھا اور اسے اس کے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کیا جاتا تھا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبیﷺ! میرا باپ کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا تیرا باپ حذافہ ہے۔ پھر حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ہم راضی ہیں اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمدﷺ کے رسول ہونے پر۔ اور اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے، فتنوں کے شر سے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں نے آج کے دن کی طرح خیر اور شر کبھی نہیں دیکھا۔ میرے سامنے جنت اور آگ کا منظر دکھایا گیا۔ میں نے ان دونوں کو اس دیوار سے ورے دیکھا۔