بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 7 hadith
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن کریم سیکھتا ہے اور دوسروں کو سکھاتا ہے۔
حضرت سعید بن ابی سعیدؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا وہ ہم میں سے نہیں جو خوش الحانی سے قرآن نہ پڑھے۔
حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا جس نے تین دن سے کم عرصہ میں قرآن کریم کو ختم کیا اس نے قرآن کا کچھ بھی نہیں سمجھا۔ (یعنی قرآن کریم جلدی جلدی نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ معانی و مطالب پر غور و فکر کرتے ہوئے تلاوت کرنی چاہئے)۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو قرآن کریم کا کچھ حصہ بھی یاد نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔
حضرت ابوسعید بن معلیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی ﷺ نے مجھے بلایا۔ میں نے آپ کو جواب نہ دیا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا کیا اللہ نے نہیں فرمایا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ یعنی اللہ رسول کی مانو جب وہ تمہیں بلائیں۔ پھر آپ نے فرمایا سنو ! کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے پہلے قرآن مجید کی سب سے بڑی سورۃ نہ سکھاؤں۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا جب ہم باہر جانے سے نکلنے لگے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے تو فرمایا تھا کہ میں تمہیں قرآن میں سب سے بڑی سورة بتاؤں گا۔ آپ نے فرمایا الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ یہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔
حضرت عبد بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے مجھے فرمایا مجھے قرآن مجید سناؤ۔ میں کہا یا رسول اللہ! میں آپﷺ کو قرآن سناؤں! حالانکہ قرآن آپﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا ہاں (دوسرے سے قرآن سننا مجھے بہت اچھا لگتا ہے)۔ تب میں نے سورۃ نساء کی تلاوت شروع کی۔ جب میں اس آیت پر پہنچا کہ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ، وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا (کیا حال ہو گا جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان سب پر تجھے گواہ بنائیں گے)۔ آپﷺ نے فرمایا بس کر دو۔ (تلاوت ختم کر کے) جب میں نے آپﷺ کی طرف دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن کریم پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی سی ہے کہ جس کا مزہ بھی اچھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے۔ اور اس مومن کی مثال جو قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرتا وہ کھجور کی طرح ہے کہ اس کا مزہ تو اچھا ہے لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی اور اس فاجر کی مثال جو قرآن کریم کی تلاوت کا عادی ہے گل ریحان کی طرح ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن اس کا مزہ کڑوا ہوتا ہے اور اس فاجر کی مثال جو قرآن کریم نہیں پڑھتا حنظل کی طرح ہے جس میں مہک اور خوشبو بھی نہیں ہوتی اور اس کا مزہ بھی تلخ اور کڑوا ہوتا ہے۔