بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim CommunityMuslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmadas of Qadian
Sayings of the Holy Prophetﷺ
16,900+ Ahadith
Showing 9 of 9 hadith
حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے بڑھ کر کسی اور کو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حضرت ابن غنم الاشعریؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے (ایک بار) حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سے فرمایا جب تم دونوں کوئی متفقہ مشورہ دیتے ہو تو پھر میں اس کے خلاف نہیں کرتا (یعنی تم دونوں کے متفقہ مشورہ کی قدر کرتا ہوں)۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر تم سے کوئی مشورہ مانگے تو اچھا مشورہ دو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو گویا تم نے خیانت سے کام لیا۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کچھ نصیحت فرماویں۔ آپؐ نے فرمایا جو کام کرو پہلے اس پر اچھی طرح غور و فکر کر لیا کرو۔ اگر تم سمجھو کہ بہتر اور فائدہ مند ہے تو کرو اور اگر سمجھو کہ اس کام کے کرنے میں گھاٹا اور نقصان ہے تو اس سے رک جاؤ۔
حضرت ابو ذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا ابو ذر! اچھی تدبیر اور عمدہ سوچ سے بڑھ کر کوئی عقل والی بات نہیں۔ اور برائی سے بچنا اصل پرہیز گاری ہے اور حسن خلق سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب بنانے والی نہیں۔
حضرت ابو ذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا ابو ذر! اچھی تدبیر اور عمدہ سوچ سے بڑھ کر کوئی عقل والی بات نہیں۔ اور برائی سے بچنا اصل پرہیز گاری ہے اور حسن خلق سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب بنانے والی نہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ابو الہیشم بن تیہان سے فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی خادم ہے انہوں نے عرض کیا۔ نہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا جب میرے پاس کوئی قیدی آئے تو آنا۔ نبیﷺ کے پاس دو قیدی آئے تو اس وقت ابو الہیشم حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبیﷺ نے ان سے فرمایا کہ ان دو قیدیوں میں سے جو تمہیں پسند ہو وہ لے لو۔ ابو الہیشم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! میرے لئے آپ ﷺ خود پسند فرماویں۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا’’ المستشار موتمن‘‘ کہ جس سے مشورہ مانگا جائے اسے امین ہونا چاہئے یعنی وہ صحیح مشورہ دے۔ پھر ایک قیدی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا یہ لے لو، یہ اچھا ہے میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور پھر فرمایا اس سے اچھا سلوک کرنا۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ اہم امور میں استخارہ کا طریق اس طرح سکھایا کرتے تھے جیسے کوئی قرآن کا حصہ سکھا رہے ہوں۔ آپﷺ فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی اہم کام کا ارادہ کرے تو دو (۲) رکعت نفل پڑھے پھر آخر میں یہ دعا مانگے۔ اے اللہ! میں تجھ سے بھلائی کا طلبگار ہوں۔ تجھ سے طاقت و قدرت چاہتا ہوں۔ تیرے فضل عظیم کا سوالی ہوں کیونکہ تو ہر چیز پر قادر ہے، میں قادر نہیں۔ تو ہر بات کو جانتا ہے، میں نہیں جانتا۔ تو سارے علم رکھتا ہے اے میرے اللہ! اگر تیرے علم میں میرا یہ کام (کام کا نام لے سکتا ہے) میرے لئے دینی اور دنیوی ہر لحاظ سے اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہے۔ یا فرمایا یوں کہے کہ میری اب کی ضرورت اور بعد میں پیدا ہونے والی ضرورت کے لحاظ سے بابرکت ہے تو یہ کام میرے لئے آسان کر دے اور پھر اس میں میرے لئے برکت ڈال اور اگر تیرے علم میں یہ کام میری دینی اور معاشی حالت کے لحاظ سے اور انجام کار کے اعتبار سے مضر ہے۔ یا یوں فرمایا اب کی ضرورت یا مستقبل کی ضرورت کے لحاظ سے میرے لئے مضر ہے تو اس کام کو نہ ہونے دے اور اس کے شر سے مجھے بچا لے، اور میرے لئے خیر جہاں بھی ہو، وہ مقدر فرما اور مجھے اس پر اطمینان بخش۔