بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim CommunityMuslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmadas of Qadian
Sayings of the Holy Prophetﷺ
16,900+ Ahadith
Showing 10 of 12 hadith
حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا تم میں سے صاحب فہم اور بڑی عمر والے افراد مجھ سے قریب رہا کریں، پھر درجہ بدرجہ عمر اور فہم والے افراد۔ اور دیکھو آپس میں بغض، کینہ اور اختلافات نہ کرو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف ہو جائے گا (یعنی تم میں پھوٹ پڑ جائے گی) اور بازاروں میں شور و غوغا کرنے سے بچو۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مسلمان بھی کوئی پودا لگاتا ہے یا کھیتی بوتا ہے اور پھر اُس سے کوئی پرندہ یا انسان یا چوپایہ کھاتا ہے تو یہ (کھیتی اور درخت) اس کے لئے ثواب کا موجب بن جائے گا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جو کوئی مسلمان درخت لگائے یا کھیتی کرے اور اس کے لگائے ہوئے درخت یا کھیتی کی پیداوار انسان پرندے یا جانور کھائیں تو یہ اس درخت لگانے یا کھیتی کرنے والے شخص کی طرف سے صدقہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے ایک شخص کو جنت میں اِدھر اُدھر جاتے دیکھا راستہ سے ایک درخت کے کاٹنے کی وجہ سے جو لوگوں کو تکلیف دیتا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص رستہ پر پڑی درخت کی شاخ کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا اللہ کی قسم میں اسے مسلمانوں (کے راستہ) سے ایک طرف کر دیتا ہوں تاکہ انہیں تکلیف نہ پہنچائے۔ چنانچہ اسے جنت میں داخل کر دیا گیا۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی ہماری مسجد سے گزرے یا ہمارے بازار سے گذرے اور اس کے پاس اس کے تیر ہوں تو ان کے پھلوں سے پکڑے یا فرمایا اپنی ہتھیلی سے پکڑے مبادا وہ کسی مسلمان کو لگ جائیں۔
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا برتن ڈھانک کر رکھو اور مشکیزے کا منہ باندھو اور دروازہ بند رکھو اور چراغ بجھا دو کیونکہ شیطان مشکیزہ نہیں کھولتا اور نہ دروازہ کھولتا ہے اور نہ ہی برتن کا ڈھکنا اٹھاتا ہے۔ پس اگر تم میں سے کوئی کچھ نہ پائے سوائے اس کے کہ اپنے برتن پر کوئی لکڑی (ہی) رکھ دے اور اللہ کا نام لے تو ایسا کرے کیونکہ چوہیا لوگوں پر ان کے گھر جلا دیتی ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں، اس کے بغیر چارہ نہیں، ہم ان جگہوں پر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں اور آپس میں مشورہ کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا جب تم وہاں بیٹھنے پر مجبور اور مصر ہو تو پھر راستے کو اس کا حق دیا کرو۔ صحابہؓ نے عرض کیا راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نظر نیچی رکھنا، دکھ دینے سے بچنا، سلام کا جواب دینا، نیک بات کی تلقین کرنا اور بری بات سے روکنا۔
حضرت ابو اسید انصاریؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو مسجد سے باہر جس وقت عورتیں گلی میں مردوں کے ساتھ مل کر بھیڑ کی شکل میں چل رہی تھیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ خواتین راستہ کے ایک طرف ہو کر یعنی فٹ پاتھ پر چلیں۔ یہ مناسب نہیں کہ وہ راستہ کی روک بن جائیں۔ ابو اسید بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد عورتیں سڑک کے ایک طرف ہو کر دیوار کے ساتھ ساتھ ہو کر چلا کرتیں۔ بعض اوقات تو وہ اس قدر دیوار کے ساتھ لگ کر چلتیں کہ ان کے کپڑے دیوار کے ساتھ اٹک اٹک جاتے۔
حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی مسلمان کوئی درخت نہیں لگاتا مگر جو بھی اس میں سے کھایا جائے وہ اس کی طرف سے صدقہ ہوتا ہے اور جو اس میں سے چوری ہو جائے وہ بھی اس کی طرف سے صدقہ ہے۔ اور جو درندے اس سے کھائیں وہ بھی اس کی طرف سے صدقہ ہوتا ہے اور جو پرندے کھائیں وہ بھی اس کی طرف سے صدقہ ہوتا ہے اور کوئی بھی اس کو نقصان نہیں پہنچاتا مگر وہ اس کے لئے صدقہ ہوتا ہے۔