بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 8 hadith
معرور بن سُوید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ذرؓ کو دیکھا۔ انہوں نے ایک جوڑا پہن رکھا تھا اور ان کے غلام نے بھی ویسا ہی پہنا ہوا تھا۔ میں نے اس بارہ میں ان سے سوال کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں انہوں نے ایک شخص کو گالی دی اور اس کی ماں کا اسے طعنہ دیا۔ وہ کہتے ہیں وہ شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ سے اس بات کا ذکر کیا۔ نبی ﷺ نے (مجھے) فرمایا تم ایسے شخص ہو جس میں جاہلیت ہے۔ (یہ تمہارے خادم) تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے کاموں کا خیال رکھنے والے ہیں اور انہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کیا ہے۔ پس جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو تو چاہئے کہ وہ جو خود کھائے اس میں سے اسے کھلائے اور جو خود پہنے اسے پہنائے ان کی طاقت سے بڑھ کر ان پر ذمہ داری نہ ڈالو اور اگر ان پر کوئی ایسا بوجھ ڈال دو تو اس پر ان کی مدد کرو۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دو۔
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامتؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے والد انصار کے ایک قبیلہ میں قبل اس کے کہ وہ فوت ہو جائیں (ان سے) تحصیل علم کے لئے نکلے۔ اور سب سے پہلے ہم رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی ابو الیسرؓ سے ملے۔ ان کے ساتھ ان کا ایک غلام تھا جس کے پاس کتابوں کا ایک بستہ تھا اور ابو الیسرؓ پر ایک چادر اور ایک معافری کپڑا تھا اور ان کے غلام پر بھی ایک چادر اور ایک معافری کپڑا تھا۔ میرے باپ نے ان سے کہا اے چچا …………..! اگر تم اپنے غلام کی چادر لے لیتے اور اپنا کپڑا معافری اسے دے دیتے یا اس کا کپڑا معافری لے لیتے اور اپنی چادر اسے دے دیتے تو آپؐ پر بھی پورا جوڑا ہو جاتا اور اس پر بھی پورا جوڑا ہو جاتا۔ انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا اے اللہ! اس کو برکت دے۔ اے میرے بھتیجے! میری ان دو آنکھوں نے دیکھا اور ان دو کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس کو یاد رکھا اور انہوں نے اپنے دل کی جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انہیں کھلاؤ جس میں سے تم کھاتے ہو اور انہیں وہ پہناؤ جو تم پہنتے ہو اور یہ بات مجھ پر زیادہ آسان ہے کہ میں اسے (اس) دنیا کے مال و متاع میں سے دوں بہ نسبت اس بات کے کہ قیامت کے روز وہ میری نیکیوں میں سے لے لے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کے پاس اس کا خادم کھانا لے کر آئے تو اگر اس کو اپنے ساتھ نہ بٹھائے تو چاہیے کہ وہ اس کو ایک نوالہ یا دو نوالے یا فرمایا ایک لقمہ یا دو لقمے دیدے، کیونکہ اس نے اس کو اپنی نگرانی میں پکایا ہے۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تین باتیں جس میں ہوں اللہ تعالیٰ اسے اپنی حفاظت اور رحمت میں رکھے گا اور اسے جنت میں داخل کرے گا۔ پہلی یہ کہ وہ کمزوروں پر رحم کرے، دوسری یہ کہ وہ ماں باپ سے محبت کرے۔ تیسری یہ کہ خادموں اور نوکروں سے اچھا سلوک کرے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تین شخص ہیں جن سے قیامت کے روز میں جھگڑا کروں گا۔ ایک وہ شخص جس نے میرا نام لے کر کسی سے عہد کیا اور پھر غداری کی۔ دوسرا وہ شخص جس نے کسی آزاد کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔ تیسرا وہ شخص جس نے مزدور کو مزدوری پر رکھا اور اس سے پورا کام لیا مگر اُس کی مزدوری اُسے نہ دی۔
حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں قیامت کے دن تین آدمیوں کے مدّ مقابل ہوں گا اور جس کا میں مدِّمقابل ہوا قیامت کے دن میں اس پر غالب رہوں گا۔ (اللہ فرماتا ہے) وہ شخص جو میرا نام لے کر عہد کرے پھر دھوکہ دے اور ایک وہ شخص جو آزاد کو بیچ دے اور اس کی قیمت کھا جائے اور ایک وہ جو مزدور رکھے اور اس سے کام لے مگر اس کو پوری اجرت نہ دے۔
حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اخلاق میں سب لوگوں سے زیادہ اچھے تھے۔ ایک روز آپ ؐ نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا۔ میں نے کہہ دیا بخدا میں نہیں جاؤں گا لیکن میرے دل میں تھا کہ اس بات کے لئے اللہ کے نبی ﷺ نے مجھے حکم دیا ہے میں جاؤں گا۔ چنانچہ میں نکلا یہاں تک کہ بچوں کے پاس سے گزرا اور وہ بازار میں کھیل رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے پیچھے سے اچانک مجھے گردن کے پچھلے حصہ سے پکڑا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ؐ کی طرف دیکھا۔ آپ ؐ ہنس رہے تھے۔ پھر آپ ؐ نے فرمایا اے اُنَیس! کیا تم وہاں گئے ہو جہاں میں نے تمہیں (جانے کا) کہا تھا؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا جی ہاں یا رسولؐ اللہ! میں جا رہا ہوں۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم میں نے آپ ؐ کی نو ٩ سال خدمت کی ہے۔ میرے علم میں نہیں کہ کسی کام پر جو میں نے کیا ہو آپ ؐ نے فرمایا ہو کہ تم نے یہ یہ کیوں کیا یا کسی کام کے بارہ میں جسے میں نے چھوڑا ہو (فرمایا ہو) کہ تم نے یہ یہ کیوں نہ کیا۔