بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 12 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر مومن جان لے کہ اللہ کے پاس عقوبت میں سے کیا ہے تو کوئی اس کی جنت کی امید نہ کرے۔ اور اگر کافر جان لے جو اللہ کے پاس رحمت ہے تو وہ اس کی جنت سے مایوس نہ ہو۔
حضرت شہر بن حَوشبؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہؓ سے پوچھا کہ اے ام المومنین رسول اللہ ﷺ جب آپ کے یہاں ہوتے تھے تو زیادہ تر کون سی دعا کرتے تھے۔ اس پر حضرت ام سلمہؓ نے بتایا کہ حضور علیہ السلام اکثر یہ دعا پڑھتے تھے ’’ يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ‘‘ اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ ام سلمہؓ کہتی ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے اس دعا پر مداومت کی وجہ پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے ام سلمہ! ہر انسان کا دل خداتعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے، جس شخص کو ثابت قدم رکھنا چاہے تو اس کو ثابت قدم رکھے۔ اور جس کو ثابت قدم نہ رکھنا چاہئے اس کے دل کو ٹیڑھا کر دے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے رب عزوجل سے حکایت کے طور پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک بندہ نے گناہ کیا اور پھر عرض کیا اے اللہ! مجھے میرا گناہ بخش دے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندہ نے گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے اور گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا بھی ہے۔ پھر اس نے دوبارہ گناہ کیا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندہ نے گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا بھی ہے اور گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے۔ پھر اس نے دوبارہ گناہ کیا اور کہا اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے۔ اللہ نے فرمایا میرے بندہ نے گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔ (تو فرمایا) تو جو چاہے کر میں نے تجھے بخش دیا۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا ایک بندے نے گناہ کیا اور کبھی حضرت ابوہریرہؓ نے بجائے أَذْنَبْتُ کے أَصَبْتُ کہا تھا۔ پردہ پوشی فرما کر درگزر فرمایا اس کے رب نے کہا کیا میرے بندے کو علم ہو چکا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا بھی ہے۔ میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا۔ پھر جتنی دیر اللہ نے چاہا وہ ٹھہرا رہا۔ پھر ایک اور گناہ کیا۔ تو کہنے لگا۔ اے میرے رب میں نے ایک اور گناہ کیا ہے پردہ پوشی فرماتے ہوئے اس سے درگزر فرما۔ تو پروردگار نے پھر فرمایا کیا میرے بندے کو علم ہو چکا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا بھی ہے اور اس پر پکڑتا بھی ہے۔ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا پھر جتنی دیر اللہ نے چاہا وہ ٹھہرا رہا۔ پھر ایک اور گناہ کیا۔ اے میرے رب ! میں نے ایک اور گناہ کیا میری پردہ پوشی فرماتے ہوئے مجھ سے درگزر فرما۔ تو پرودگار نے فرمایا کیا میرے بندے کو علم ہو چکا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا بھی ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔ میں نے اپنے بندے کو تین بار معاف کر دیا اب جو چاہے کرے۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ قیامت کے دن مومن اپنے رب کے بہت قریب لے جایا جائے گا یہاں تک کہ وہ اس کے سایہ رحمت میں آ جائے گا پھر اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروائے گا اور کہے گا کہ کیا تو فلاں گناہ جانتا ہے جو تو نے کیا؟ کیا تو فلاں گناہ کو جانتا ہے جو تو نے کیا؟ اس پر بندہ کہے گا ہاں میرے رب! میں جانتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا دنیا میں میں نے اس گناہ کے متعلق تیری پردہ پوشی کی اور اب قیامت کے دن تمہارا وہ گناہ بخشتا ہوں۔ الغرض اس کو صرف اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ دے دیا جائے گا۔
ابو سعید نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو ان لوگوں میں سے تھا جو پہلے گزر چکے ـــ یا فرمایا جو تم سے پہلے تھے ـــــ آپ نے ایک فقرہ بولا۔ جس کے یہ معنی تھے کہ اللہ نے اس کو مال اور اولاد دی تھی۔ جب وفات کا وقت آن پہنچا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا میں تمہارا باپ کیسا تھا؟ انہوں نے کہا بہت اچھے باپ تھے۔ اس نے کہا کہ اس نے اللہ کے پاس کوئی نیکی بھی نہیں بھیجی ہے اور اگر اللہ نے اس پر قابو پایا تو اس کو سزا دے گا۔ اس لئے دیکھو جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دو یہاں تک کہ جب میں کوئلہ ہو جاؤں تو مجھے پیس ڈالنا۔ جس دن زور کی آندھی ہو تو اس آندھی میں تم میری راکھ اڑا دینا۔ نبی ﷺ نے فرمایا میرے رب کی قسم اس نے اس بات پر پختہ عہد لئے اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آندھی کے دن اس کی راکھ اڑا دی۔ تو اللہ عز وجل نے فرمایا كُنْ (ہو جا) پھر کیا تھا کہ وہی شخص کھڑا تھا۔ اللہ نے پوچھا اے میرے بندے! یہ جو تم نے کیا ہے اس کے کرنے پر تمہیں کس نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا تیرے خوف نے یا کہا گھبراہٹ نے جو تیرے ڈر سے تھی۔ راوی نے کہا اس پر (اللہ نے) جلدی ہی اپنی رحمت سے اس کے گناہوں کی تلافی کی اور دوسری بار راوی نے کہا اس بات کے سوا اور کسی بات نے بھی اس کے گناہوں کی تلافی نہ کی (اسے بخش دیا)۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک شخص نے اپنے نفس پر زیادتی کی پس جب اس کی موت کا وقت آیا اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا کہ جب میں مر جاؤں تم مجھ کو جلا دینا اور پھر مجھے ریزہ ریزہ کر دینا پھر مجھے ہوا میں سمندر میں اڑا دینا کیونکہ اللہ کی قسم اگر میرے رب نے مجھ پر قابو پا لیا وہ ضرور مجھے ایسا عذاب دے گا کہ جو اس نے کسی کو نہ دیا ہو گا۔ فرمایا انہوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ اس (اللہ تعالیٰ) نے زمین سے کہا جو تو نے لیا ہے وہ دے دے تو دیکھو وہ شخص کھڑا تھا۔ اس (اللہ) نے اس کو کہا کہ تجھے کس چیز نے ایسا کرنے پر آمادہ کیا؟ اس نے کہا کہ تیری خشیت نے (یا کہا تیرے ڈر نے) اے میرے رب۔ اس نے اس وجہ سے اسے بخش دیا۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا ایک شخص نے اپنے آپ پر بہت زیادتی کی، خوب گناہ کیے۔ جب وہ مرنے لگا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میرے جلے ہوئے جسم کو باریک پیس لینا اور میری اس راکھ کو سمندری فضا کی ہوا میں اڑا دینا۔ خدا کی قسم مجھے یہ ڈر ہے کہ اگر میں اپنے خدا کے ہاتھ آ گیا تو میرے گناہوں کی وجہ سے وہ مجھے ایسی سزا دے گا جس کی مثال نہیں مل سکے گی۔ حضورﷺ نے فرمایا چنانچہ اس کے بیٹوں نے اس کی وصیت کے مطابق عمل کیا۔ لیکن خدا نے زمین کو حکم دیا کہ جہاں جہاں اس شخص کی راکھ کے ذرے گرے ہیں وہ سب واپس کر دو۔ چنانچہ وہ شخص پورے جسم کے ساتھ خدا کے حضور لرزاں ترساں آ حاضر ہوا۔ خدا نے اس سے پوچھا تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا۔ اے میرے خدا! تیری خشیت اور تیرے خوف نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ خدا کو اس کی یہ ادا اور احساس ندامت پسند آیا اور اس کو بخش دیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سات (شخص) ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سایہ میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سایہ کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔ انصاف کرنے ولا امام اور وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھا ہو اور وہ شخص جس کا دل مساجد میں اٹکا ہوا ہے۔ اور وہ دو آدمی جنہوں نے اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کی اسی کیلئے وہ اکٹھے ہوئے اور اسی کے لئے جدا ہوئے اور وہ شخص جسے کسی بڑے منصب والی خوبصورت عورت نے بلایا مگر اس نے کہا میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے کوئی صدقہ کیا اور اسے چھپا دیا یہانتک کہ اس کا دایاں ہاتھ نہیں جانتا کہ اس کے بائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ اور وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک دفعہ ثابت بن قیس کو نہ پایا اور پوچھا کہ وہ کہاں ہے۔ اس پر ایک شخص نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اس کا پتہ لے آتا ہوں۔ چنانچہ وہ ثابت کے پاس آیا اور اسے اس حالت میں دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں سر جھکائے غمگین بیٹھا ہے۔ اس نے ثابتؓ سے پوچھا تمہاری یہ کیا حالت ہے۔ اس نے جواب دیا بہت بری ہے۔ میری آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند ہے )اور قرآن کریم میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ رسول کی آواز سے اپنی آواز بلند نہ کرو۔ مجھ سے تو اس کی خلاف ورزی ہوتی رہی ہے( اس کا عمل ضائع ہوگیا اور وہ اب آگ والوں میں سے ہے) اور اس غم میں گھر بیٹھ گیا ہوں(۔ اس آدمی نے آ کر نبی ﷺ کو یہ حالات بتائے کہ ثابت یہ کہتا ہے۔ (راوی) موسیٰ کہتے تھے پھر وہ شخص دوبارہ ان کے پاس بڑی بشارت لے کر گیا۔ آپؐ نے فرمایا اس کے پاس جاؤ اسے کہو تم دوزخیوں میں سے نہیں ہو بلکہ تم جنتیوں میں سے ہو۔ (یہ آیت تو ان لوگوں کے بارہ میں ہے جو بری نیت سے اور بے ادبی کے ارادہ سے آنحضرت ﷺ کے سامنے آواز بلند کرتے ہیں۔)