بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 4 of 4 hadith
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ اپنے اونٹوں میں تھے کہ ان کا بیٹا عُمر ؓ اُن کے پاس آیا۔ جب حضرت سعد ؓ نے اسے دیکھا تو کہا میں اس سوار کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ وہ نیچے اترا تو اس نے ان سے کہا کہ آپ اپنے اونٹوں اور بھیڑ بکریوں میں آگئے ہیں اور لوگوں کو سلطنت کے بارہ میں باہمی تنازعہ کرتے ہوئے چھوڑ آئے ہیں۔ اس پر حضرت سعد ؓ نے اس کے سینہ پر ہاتھ مارا اور کہا کہ خاموش ہوجاؤ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یقیناً اللہ متقی، بے نیاز اور (لوگوں کی نظر سے) پوشیدہ بندہ کو پسند کرتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے کون زیادہ معزز ہے؟ آپؐ نے فرمایا اُن میں سے اللہ کے نزدیک وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ لوگوں نے کہا اس کے متعلق آپؐ سے نہیں پوچھ رہے۔ آپؐ نے فرمایا پھر لوگوں میں سب سے بڑھ کر شریف یوسفؑ ہیں جو اللہ کے نبی، نبی اللہ کے بیٹے، نبی اللہ کے پوتے اور خلیل اللہ (حبیب خدا) کے پڑپوتے ہیں۔ انہوں نے کہا اس کے متعلق بھی ہم آپؐ سے نہیں پوچھتے۔ آپؐ نے فرمایا تو کیا پھر تم مجھ سے عربوں کے خاندانوں کی نسبت پوچھتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں۔ فرمایا تم میں سے جو جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں، بشرطیکہ دین سیکھیں اور سمجھیں۔
حضرت وابصہ بن معبدؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور میں آپؐ سے نیکی اور گناہ کے بارہ میں ہر بات پوچھنا چاہتا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا کیا تم مجھ سے نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھنے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپؐ نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کیا اور ان کے ساتھ میرے سینہ کو ٹھکورنے لگے اور فرمانے لگے اے وابصہ! اپنے دل سے پوچھ ــــ تین بار ــــ کامل نیکی وہ ہے جس پر تیرا دل اور تیرا جی مطمئن ہو۔ اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تیرے لئے اضطراب کا موجب بنے اگرچہ لوگ تجھے اس کے جواز کا فتویٰ دیں اور اسے درست کہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوہریرہ! پرہیزگار بنو تم سب لوگوں سے زیادہ عبادت گزار ہو جاؤ گے۔ اور قانع بنو تم سب لوگوں سے زیادہ شکر گزار ہو جاؤ گے اور لوگوں کیلئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو تم مومن ہو جاؤ گے اور جو تمہارا پڑوسی ہے اس سے اچھی ہمسائیگی کرو تم مسلم ہو جاؤ گے اور کم ہنسو کیونکہ ہنسنے کی کثرت دل کو مردہ کر دیتی ہے۔