بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 2 of 12 hadith
ابن شَماسہ المہری کہتے ہیں ہم حضرت عمروؓ بن العاص کے پاس حاضر ہوئے جبکہ وہ جان کنی کی حالت میں تھے وہ بہت دیر تک روتے رہے اور اپنا چہرہ دیوار کی طرف پھیر لیا۔ ان کا بیٹا ان سے کہنے لگا اے ابا! کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو یہ خوشخبری نہیں دی اور کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو وہ خوشخبری نہیں دی۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے (ہماری طرف) اپنا رخ پھیرا اور کہا سب سے افضل بات ہم اس شہادت کو سمجھتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ میں تین ادوار سے گذرا ہوں۔ میں نے اپنے تئیں اس طرح دیکھا تھا کہ کوئی رسول اللہ ﷺ کے بغض میں مجھ سے بڑھا ہوا نہیں تھا اور میری سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ میں آپؐ پر قابو پاؤں اور آپؐ کو قتل کر دوں اگر میں اس حال میں مر جاتا تو جہنمی ہوتا۔ پھر جب اللہ نے اسلام میرے دل میں ڈال دیا تو میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا اپنا دایاں ہاتھ بڑھائیے کہ میں آپؐ کی بیعت کروں۔ آپؐ نے اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا تو کہتے ہیں کہ میں نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ آپؐ نے فرمایا اے عمرو! تمہیں کیا ہوا؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا میں ایک شرط کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا تم کیا شرط کرنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔ فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام پہلے کی تمام عمارت کو گرا دیتا ہے اور ہجرت بھی اپنے سے پہلے تمام عمارت کو گرا دیتی ہے اور حج بھی اپنے سے پہلے تمام عمارت کو گرا دیتا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مجھے کوئی محبوب نہ تھا اور نہ میری نظر میں آپؐ سے زیادہ کوئی صاحب عظمت تھا اور مجھے یہ طاقت نہیں تھی کہ میں آپؐ کے جلال کی وجہ سے آپؐ کو آنکھ بھر کر دیکھ سکوں اور اگر مجھ سے آپؐ کا حلیہ پوچھا جائے تو میں بیان نہ کر سکوں کیونکہ میں نے آپؐ کو نظر بھر کر دیکھا ہی نہیں تھا۔ اگر میں اس حال میں مر جاتا تو امید کرتا ہوں کہ میں جنتی ہوتا۔ پھر کچھ امور کے ہم ذمہ دار بنے، میں نہیں جانتا کہ ان میں میرا کیا حال ہے اس لئے جب میں مر جاؤں تو میرے جنازے کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی نہ ہو اور نہ آگ ہو اور جب تم مجھے دفن کر دو تو مجھ پر اچھی طرح مٹی ڈال دینا اور میری قبر کے پاس کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ مجھے تمہاری وجہ سے تسکین رہے اور میں دیکھ لوں کہ میں اپنے رب کے قاصدوں سے کیا سوال جواب کرتا ہوں۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک شخص کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ آپﷺ نے دیکھا کہ بیماری کی وجہ سے وہ سوکھ کر چوزے کی طرح ہو گیا ہے۔ حضور علیہ السلام نے اس سے پوچھا۔ کیا تم دعا نہیں کرتے تھے۔ کیا تم خدا تعالیٰ سے عافیت طلب نہیں کرتے تھے۔ وہ شخص کہنے لگا۔ میں تو یہ دعا کرتا تھا کہ اے خدا تو میرے گناہوں کے بدلے جو سزا آخرت میں دے گا وہ اس دنیا میں ہی دیدے۔ نبیﷺ نے (تعجب سے) فرمایا سبحان اللہ! تم نہ تو اس سزا کو برداشت کر سکتے ہو اور نہ اس کی استطاعت رکھتے ہو۔ تم نے یہ دعا کیوں نہ مانگی کہ اے ہمارے اللہ! ہمیں اس دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔