بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 13 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ لوگوں میں سے میرے حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے؟ آپﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ پھر اس نے پوچھا پھر کون؟ آپﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے چوتھی بار پوچھا۔ پھر کون؟ آپﷺ نے فرمایا ماں کے بعد تیرا باپ تیرے حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہے۔ (پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ دار)۔
عبداللہ بن دینار حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے بارہ میں روایت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ
حضرت سعید بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا بڑے بھائی کا حق اپنے چھوٹے بھائیوں پر اس طرح کا ہے جس طرح والد کا حق اپنے بچوں پر (یعنی بڑا بھائی چھوٹے بھائی کے لئے بمنزلہ باپ کے ہے اس لئے اس کا ادب و احترام بھی واجب ہے)۔
حضرت نواس بن سمعانؓ انصاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارہ میں سوال کیا۔ آپؐ نے فرمایا نیکی حسنِ خلق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینہ میں کھٹکے اور تو ناپسند کرے کہ لوگوں کو اس کا پتہ لگے۔
حضرت ابو طفیلؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو مقام جعرانہ میں دیکھا۔ آپﷺ گوشت تقسیم فرما رہے تھے اس دوران ایک عورت آئی تو حضورﷺ نے اس کے لئے اپنی چادر بچھا دی اور وہ عورت اس پر بیٹھ گئی۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ خاتون کون ہے جس کی حضور اس قدر عزت افزائی فرما رہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضورﷺ کی رضاعی والدہ ہیں۔
حضرت ابو اسید الساعدیؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ یا رسول اللہ! والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی نیکی ہے جو میں ان کے لئے کر سکوں؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں۔ تم ان کے لئے دعائیں کرو، ان کے لئے بخشش طلب کرو، انہوں نے جو وعدے کسی سے کر رکھے تھے انہیں پورا کرو۔ ان کے عزیز و اقارب سے اسی طرح صلہ رحمی اور حسن سلوک کرو جس طرح وہ اپنی زندگی میں ان کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ان کے دوستوں کے ساتھ عزت و اکرام کے ساتھ پیش آؤ۔
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول ا للہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جسے پسند ہو کہ اس کے رزق میں فراخی دی جائے یا اس کی عمر لمبی کی جائے تو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول ﷺ اللہ! میرے ایسے قرابت دار ہیں کہ میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع تعلقی کرتے ہیں میں ان سے اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں۔ میں ان سے حلم سے پیش آتا ہوں وہ مجھ سے جہالت سے پیش آتے ہیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا اگر تم ویسے ہی ہو جیسا کہ تم کہتے ہو۔ تو تم گویا ان پر گرم راکھ ڈالتے ہو۔ جب تک تم اس حال پر رہے اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ ان کے مقابل پر ایک مددگار رہے گا۔