بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 3 of 13 hadith
عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے باپ (حضرت سعد) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ جس سال حجۃ الوداع ہوا، میری بیمار پرسی کے لئے آیا کرتے تھے۔ کیونکہ میری بیماری بڑھ گئی تھی۔ میں نے کہا میری بیماری آخری حد تک پہنچ گئی ہے اور میں مالدار ہوں اور سوائے (میری) ایک لڑکی کے اور کوئی میرا وارث نہیں۔ کیا میں دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ میں نے کہا تو آدھا؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا تہائی بلکہ تہائی بھی بڑا ہے یا فرمایا بہت ہے اور یہ کہ تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو، بہتر ہے اس سے کہ تم ان کو محتاج چھوڑ جاؤ، لوگوں کے سامنے وہ ہاتھ پھیلاتے پھریں اور جو تم ایسا خرچ کرو گے کہ جس سے اللہ کی رضا مندی چاہتے ہو تو ضرور ہی اس پر تمہیں ثواب دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے (مکہ میں) رہ جاؤں گا۔ آپؐ نے فرمایا تم کبھی پیچھے نہیں رہو گے۔ جو نیک کام بھی کرو گے، تم اس کے ذریعہ سے درجہ اور بلندی میں بڑھو گے۔ مزید برآں امید ہے کہ تم پیچھے رکھے جاؤ گے تا تمہارے ذریعہ بہت سی قومیں نفع حاصل کریں اور بعض کو تمہارے ذریعہ نقصان پہنچے۔ اے میرے اللہ! میرے ساتھیوں کے لئے ان کی ہجرت پوری کر اور ان کو ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹائیو۔ لیکن بیچارے سعد بن خولہؓ ان کے لئے رسول اللہ ﷺ افسوس ہی کیا کرتے تھے کہ وہ مکہ میں فوت ہوگئے۔
عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر میری عیادت فرمائی۔ اس بیماری میں جس میں مَیں موت کے کنارے پر پہنچ گیا تھا۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میری تکلیف جس حد تک پہنچ چکی ہے وہ آپؐ دیکھ رہے ہیں۔ میں مال دار ہوں اور میرا وارث سوائے میری اکلوتی بیٹی کے کوئی نہیں۔ کیا میں دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا کیا میں اس کا نصف صدقہ کر دوں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ تیسرا حصہ (کر دو) اور تیسرا حصہ (بھی) بہت ہے۔ تمہارا اپنے وارثوں کو اچھی حالت میں چھوڑنا انہیں محتاج چھوڑنے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم اللہ کی رضا چاہتے ہوئے جو بھی خرچ کرو گے تمہیں اس کا اجر دیا جائے گا یہانتک کہ ایک لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے چھوڑا جاؤں گا؟ آپؐ نے فرمایا تم پیچھے چھوڑے نہ جاؤ گے مگر جو نیک عمل کرو گے جس کے ذریعہ تم اللہ کی رضا چاہو تو تم اس کے ذریعہ درجہ اور رفعت میں زیادہ ہو گے۔ اور بعید نہیں کہ تم پیچھے چھوڑے جاؤ (یعنی لمبی عمر دئیے جاؤ) یہانتک کہ قومیں تجھ سے فائدہ اٹھائیں اور کچھ دوسری نقصان اٹھائیں۔ اے اللہ! میرے اصحاب کی ہجرت پوری فرما اور انہیں ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹانا لیکن بے چارہ سعد بن خولہؓ! راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے دکھ کا اظہار فرمایا کیونکہ وہ (ہجرت کے بعد) مکہ میں فوت ہوگئے تھے۔
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے ہاتھ سے بہتر ہے اور پہلے ان کو دو جن کی تم پرورش کرتے ہو اور بہتر صدقہ وہی ہے جو ضرورت پوری کرنے کے بعد ہو اور جو سوال سے بچنا چاہے گا اللہ اسے بچائے گا اور جو غنا حاصل کرنا چاہے گا۔ اللہ اُسے غنی کر دے گا۔