بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 4 of 14 hadith
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے بھتیجے کو جو نشہ میں دھت تھا ان کے پاس لایا۔ انہوں نے اسے قید کرنے کا حکم دیا جب اس کے ہوش ٹھکانے لگے اور نشہ اتر گیا تو انہوں نے ایک کوڑا منگوایا اور اس کی اگلی گانٹھ کاٹ ڈالی اور اسے نرم کیا پھر جلاد کو بلا کر کہا کہ اس کے گوشت والی جگہ پر کوڑے لگاؤ لیکن مارتے وقت اپنے ہاتھ کو اس قدر نہ اٹھانا کہ تمہاری بغلیں ظاہر ہوں۔ پھر عبداللہ کوڑے گننے لگے یہاں تک کہ اسی (80) کی تعداد پوری ہو گئی تو اسے چھوڑ دیا۔ سزا دلانے کے بعد وہ آدمی جو ملزم کو لایا تھا کہنے لگا کہ اے ابو عبدالرحمن! خدا کی قسم یہ میرا بھتیجا ہے اور اس کے علاوہ میری کوئی اولاد نہیں ہے یہ سن کر عبداللہ بن مسعودؓ فرمانے لگے۔ تو بہت برا چچا ہے جو یتیم کا والی اور نگران تو بنا لیکن بچپن میں نہ اس کی اچھی تربیت کی اور جب وہ بڑا ہو گیا تو نہ اس کی پردہ پوشی کی۔ پھر آپ نے یہ حدیث بیان کی کہ شروع کے دنوں میں سب سے پہلے ایک چور کو حد کی سزا دی گئی اسے نبیﷺ کے پاس لایا گیا تھا جب اس کے جرم کا کھلا ثبوت مل گیا تو حضورﷺ نے فرمایا اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ لوگ جب اسے لے کر جانے لگے تو انہوں نے دیکھا کہ حضورﷺ کے چہرہ مبارک پر اس کا اثر ہے آپ پر ملال اور اداس اداس ہیں۔ اس پر بعض نے عرض کیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ حضور کو اس واقعہ کا بے حد افسوس ہے حضورﷺ نے فرمایا کیوں نہ افسوس ہو تم لوگ اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار بن جاتے ہو۔ لوگوں نے عرض کیا حضور نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا تم میرے پاس یہ شکایت لانے سے پہلے چھوڑ سکتے تھے۔ جب امام کے پاس ملزم کو لایا جائے اور جرم ثابت ہو جائے تو اس کارروائی کے بعد حد)کی سزا( واجب ہو جاتی ہے۔ اور امام)قاضی( یہ سزا معطل نہیں کر سکتا یہ فرمانے کے بعد آپﷺ نے یہ آیت پڑھی وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا)النور: (23 یعنی عفو اور درگزر سے کام لیا کرو۔
حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس دو آدمی آئے جن میں وراثت کی ملکیت کے بارہ میں جھگڑا تھا اور معاملہ پرانا ہو جانے کی وجہ سے ثبوت کسی کے پاس نہ تھا۔ رسول اللہﷺ نے ان کی بات سن کر فرمایا میں انسان ہوں اور ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی زیادہ لسان ہو اور بات کو بڑے عمدہ انداز اور لہجہ میں بیان کر سکتا ہو اور میں اس کی باتوں سے متاثر ہو کر کوئی رائے قائم کروں اور اس کے حق میں فیصلہ دے دوں حالانکہ حق دوسرے فریق کا ہو۔ ایسی صورت میں اسے اس فیصلہ سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے اور اپنے بھائی کا حق نہیں لینا چاہئے کیونکہ اس کے لئے وہ ایک آگ کا ٹکڑا ہے جو میں اسے دلا رہا ہوں۔ اگر وہ لے گا تو قیامت کے دن وہ سانپ بن کر اس کی گردن پر لپٹا ہوا ہو گا۔ حضورﷺ کی یہ بات سن کر دونوں کی چیخیں نکل گئیں اور ہر ایک نے عرض کیا۔ حضور! وہ کچھ نہیں لینا چاہتا۔ ساری جائیداد میرے بھائی کو دے دی جائے آپﷺ نے یہ سن کر فرمایا جب تم اس پر آمادہ ہو تو یوں کرو کہ جائیداد تقسیم کرکے قرعہ اندازی کر لو جس حصہ کے بارہ میں جس کا قرعہ نکلے وہ، وہ حصہ لے لے اور دوسرے کے حصہ میں نکلا ہوا قرعہ اسے بخش دے یعنی اگر اس کا کوئی حق دوسرے کے حصہ میں ہے تو وہ اسے معاف کر دے اور اسے بخش دے۔
عبد اللہ بن رافع بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ام سلمہؓ کو نبی ﷺ سے یہ حدیث بیان کرتے سنا انہوں نے کہا کہ دو شخص اپنی وراثت اور اشیاء کے بارہ میں جو پرانی ہو گئیں جھگڑا کرتے ہوئے آئے۔ آپؐ نے فرمایا میں تمہارے درمیان ان باتوں کا اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا جن کے بارہ میں مجھ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔