بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 14 hadith
حضرت معاذؓ بن جبل کے حمص کے رہنے والے ساتھیوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت معاذؓ کو یمن بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو فرمایا! جب تمہارے پاس قضائی معاملے آئیں گے تو کیسے فیصلہ کرو گے؟ انہوں نے کہا کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا اگر تمہیں کتاب اللہ میں نہ ملے؟ انہوں نے کہا پھر رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا اگر تمہیں رسول اللہ ﷺ کی سنت میں بھی نہ ملے اور کتاب اللہ میں بھی نہ ملے؟ انہوں نے کہا پھر میں کوشش کر کے رائے قائم کروں گا اور کوئی کوتاہی نہ کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لئے جس نے اللہ کے رسولؐ کے نمائندہ کو اس بات کی توفیق عطا فرمائی جو اللہ کے رسولؐ کو خوش کرتی ہے۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ
حضرت سعید بن ابو بردہؓ نے امیر المومنین حضرت عمر بن الخطابؓ کا ایک خط نکالا جو انہوں نے اپنے ایک والی حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو لکھا تھا۔ یہ خط مشہور محدث سفیان عیینہ کے سامنے پڑھا گیا۔ اس کا مضمون یہ تھا۔ اما بعد۔ قضاء ایک محکم اور پختہ دینی فریضہ اور واجب الاتباع سنت ہے۔ جب کوئی مقدمہ یا کیس آپ کے سامنے پیش ہو تو معاملہ کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرو کیونکہ صرف حق بات کہنا اور اس کے نفاذ کی کوشش نہ کرنا بے فائدہ ہے (یعنی عدل و انصاف کا وعظ کرنا اور عملاً لوگوں کو صحیح انصاف مہیا نہ کرنا ایک بیکار وعظ ہو گا) کیا بلحاظ مجلس، کیا بلحاظ توجہ، اور کیا بلحاظ عدل و انصاف سب لوگوں کے درمیان مساوات قائم رکھو۔ سب سے ایک جیسا سلوک کرو تا کہ کوئی بااثر تم سے ظلم کرانے کی امید نہ رکھے اور کسی کمزور کو تیرے ظلم و جور کا ڈر اور اندیشہ نہ ہو اور ثبوت پیش کرنا مدعی کا فرض ہے اور (اگر اس کے پاس ثبوت نہ ہو تو پھر) قسم منکر مدعی علیہ پر آئے گی۔ مسلمانوں کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش کرنا اچھی بات ہے۔ ہاں ایسی صلح کی اجازت نہیں ہونی چاہئے جس کی وجہ سے حرام حلال بن رہا ہو اور حلال حرام یعنی خلاف شریعت صلح جائز نہ ہو گی۔ اگر تم کوئی فیصلہ کرو اور پھر غور و فکر کے بعد اللہ کی ہدایت سے دیکھو کہ فیصلہ میں غلطی ہو گئی ہے۔ صحیح فیصلہ اور طرح ہے تو اپنا کل کا فیصلہ واپس لینے اور اسے منسوخ کرنے میں ذرہ برابر، ہچکچاہٹ یا شرم محسوس نہیں کرنی چاہئے کیونکہ حق اور عدل ایک قدیمی صداقت ہے اور حق اور سچ کو کوئی چیز باطل اور غلط نہیں بنا سکتی اس لئے حق کی طرف لوٹ جانا اور حق کو تسلیم کر لینا باطل میں پھنسے رہنے اور غلط بات پر مصر رہنے سے کہیں بہتر ہے جو بات تیرے دل میں کھٹکے اور قرآن و سنت میں اس کے بارہ میں کوئی وضاحت نہ ہو تو اس کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرو اس کی مثالیں تلاش کرو۔ اس سے ملتی جلتی صورتوں پر غور کرو پھر ان پر قیاس کرتے ہوئے کوئی فیصلہ کرنے کی کوشش کرو اور جو پہلو اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ پسندیدہ لگے اور حق اور سچ کے زیادہ مشابہ نظر آئے اسے اختیار کرو مدعی کو ثبوت پیش کرنے کے لئے مناسب تاریخ اور وقت دو تاکہ وہ اپنے دعویٰ کے حق میں ثبوت اکٹھے کر سکے۔ اگر مقررہ تاریخ پر وہ ثبوت اور بینہ پیش کر سکے تو فبہا ورنہ اس کے خلاف فیصلہ سنا دو۔ یہ طریق اندھے پن کو جلا بخشنے والا ہے۔ اور بے خبری کے اندھیرے کو روشن کرنے والا ہے یعنی اس سے الجھا ہوا معاملہ سلجھ جائے گا اور ہر قسم کے عذر اور اعتراض کا موثر جواب ہو گا۔ سب مسلمان برابر شاہد عادل ہیں ایک دوسرے کے حق میں اور ایک دوسرے کے خلاف گواہی دے سکتے ہیں اور ان گواہیوں کے مطابق فیصلہ ہو گا سوائے اس کے کہ کسی کو حد کی سزا مل چکی ہو۔ یا اس کے جھوٹی شہادت دینے کا تجربہ ہو چکا ہو یا وہ غلط ولاء یا قرابت کے دعویٰ میں متہم ہو۔ مولیٰ کسی اور کا ہو اور دعویٰ کسی کے مولیٰ ہونے کا کرے یا اس کا اصل رشتہ کسی اور شخص یا قوم سے ہو اور دعویٰ کسی اور کے رشتہ دار ہونے کا کرے یعنی حسب و نسب کے دعویٰ میں جھوٹا ہو ایسے خفیف الحرکت شخص کے سچا ہونے پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ باقی سب مسلمان گواہ بننے کے اہل ہونے کے لحاظ سے برابر ہیں کیونکہ کسی کے دل میں کیا ہے؟ اصل راز اور سچائی کیا ہے؟ اسے اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اگر کوئی غلط بیانی کرے گا تو خدا اس کو اس کی سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بینات اور گواہیوں کے ذریعہ معاملات نپٹانے کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی یاد رکھو کہ تنگ پڑنے سے بچو۔ جلد گھبرا جانے اور لوگوں سے تکلیف اور دکھ محسوس کرنے اور فریقین مقدمہ سے تنفر اور اجنبی پن سے کبھی پیش نہ آ ؤ۔ حق اور سچ معلوم کرنے کے مواقع میں اس طرز عمل سے بچنا اور حق شناسی کی صحیح کوشش کرنا۔ اللہ اس کا ضرور اجر دے گا اور ایسے شخص کو نیک شہرت بخشے گا۔ جو شخص اللہ کی خاطر خلوص نیت اختیار کرے گا اللہ اسے لوگوں کے شر سے بچائے گا اور جو شخص محض بناوٹ اور تصنع سے اپنے آپ کو اچھا ظاہر کرنے کی کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ کبھی نہ کبھی اس کا راز فاش کر دے گا اور اس کی رسوائی کے سامان پیدا کر دے گا۔
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ دو عورتیں ایک گھر میں یا کوٹھڑی میں بیٹھی (موزہ) سی رہی تھیں۔ اتنے میں ان میں سے ایک باہر نکلی اور اس کی ہتھیلی میں (موزہ سینے کا) سُوا چبھ گیا۔ اس نے دوسری پر دعویٰ کیا۔ یہ مقدمہ (حضرت عبداللہ) بن عباسؓ کے سامنے پیش ہوا۔ حضرت ابن عباسؓ نے یہ سن کر کہا ...…… رسول اللہﷺ نے فرمایا قسم مدعا علیہ پر ہوتی ہے۔
ابو ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک مقدمہ کے سلسلہ میں میرے استفسار کرنے پر) حضرت ابن عباسؓ نے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر صرف دعویٰ کی بنیاد پر فیصلے ہوں تو لوگ دعویٰ کرکے لوگوں کے اموال کھا جائیں اور ان کی جانیں لے لیں (ایسا نہیں ہو سکتا) اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ ثبوت اور بینہ پیش کرنا مدعی کی ذمہ داری ہے اور (اگر مدعی کے پاس ثبوت نہ ہو تو) منکر (یعنی مدعی علیہ) پر قسم آئے گی (اگر وہ قسم کھا جائے تو مقدمہ خارج ہو جائے گا)۔
حضرت امام مالکؒ یحییٰ مازنیؓ کی روایت سے بیان کرتے ہیں کہ ضحاک بن خلیفہ نے مدینہ کی ایک وادی سے پانی کی ایک نالی نکالنی چاہی تاکہ اپنے کھیت سیراب کر سکے۔ یہ نالی محمد بن مسلمہ کی زمین میں سے گزرنی تھی۔ محمد بن مسلمہ نے اس کی اجازت نہ دی۔ ضحاک نے ان سے کہا تم کیوں روکتے ہو تمہارا بھی اس میں فائدہ ہے۔ پہلے تم اپنی زمین کو پانی دے سکو گے اور آخر میں بھی یہ فائدہ حاصل کر سکتے ہو اور تمہارا کوئی نقصان بھی نہیں لیکن محمد نے کہا بس میری مرضی، میں اجازت نہیں دیتا۔ ضحاک نے حضرت امیر المومنین عمر بن الخطابؓ کی خدمت میں اس مشکل کا ذکر کیا۔ آپ نے محمد بن مسلمہ کو بلایا اور کہا کہ وہ ضحاک کی بات مان لیں لیکن محمد بن مسلمہ نے انکار کر دیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا جب تمہارا بھی اس میں فائدہ ہے اور کوئی نقصان نہیں تو تم اپنے بھائی کو فائدہ پہنچانے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ محمد بن مسلمہ اپنی ضد پر اڑے رہے اور کہا خدا کی قسم! میں ان کو ہرگز اجازت نہیں دوں گا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا یہ نالی تمہارے پیٹ پر سے بھی گزارنی پڑے تو بھی گزرے گی (یعنی تم وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ کے مصداق بننا چاہتے ہو) چنانچہ ضحاک نے (حضرت عمرؓ کے حکم سے) یہ نالی بنا لی۔
حضرت عبداللہ (ابن مسعودؓ) بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص ظلماً یا ناحق قتل کیا جاتا ہے۔ اس کے قاتل کے گناہ میں سے کچھ حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے لڑکے کو بھی ملتا ہے۔ اس وجہ سے کہ سب سے پہلے اس نے ہی قتل کرنے کا طریقہ رائج کیا تھا۔
حضرت ابو بکرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب دو مسلمان تلوار لے کر ایک دوسرے سے لڑنے لگیں ان میں سے کوئی قتل ہو جائے تو قاتل و مقتول دونوں آگ میں جائیں گے ابو بکرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! اس قاتل کو تو آگ میں جانا چاہئے۔ لیکن مقتول کیوں آگ میں جائے آپﷺ نے فرمایا وہ بھی تو اپنے مد مقابل کے قتل کا آرزو مند تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی ہوئی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا اس کو مارو یعنی سزا دو۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ہم میں سے کسی نے اسے ہاتھ سے مارا، کسی نے جوتی سے مارا، کسی نے کپڑے سے مارا، (غرض دھول دھپہ کرکے اسے چھوڑ دیا)۔ جب وہ واپس جانے لگا تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرے۔ آپﷺ نے فرمایا ایسا مت کہو۔ ایسا کہہ کر تم اس کے خلاف شیطان کی مدد کرتے ہو (بلکہ اس کے حق میں دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اسے ہدایت اور سمجھ دے)۔