بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 19 hadith
حضرت انسؓ کی ایک روایت میں ہے کہ نبیﷺ سے پوچھا گیا کہ آپﷺ کی آل سے کیا مراد ہے۔ آپﷺ نے فرمایا ہر نیک اور متقی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا انسانی دل کی سرشت اور جبلت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ محسن سے محبت اور برا سلوک کرنے والے سے نفرت کرے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا انسانی دل کی سرشت اور جبلت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ محسن سے محبت اور برا سلوک کرنے والے سے نفرت کرے۔
رسول اللہ ﷺ اپنی آل میں ازواج، اولاد اور اہل بیت کو شامل فرماتے تھے اور کبھی فرماتے میرے اہل بیت تمام متقی مومن ہیں جو مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کی۔
نوٹ:۔
وَقِيلَ: هُمْ الْأُمَّةُ جَمِيعًا، قَالَ النَّوَوِيُّ فِي شَرْحِ مُسْلِمٍ: وَهُوَ أَظْهَرُهَا قَالَ وَهُوَ اخْتِيَارُ الْأَزْهَرِيِّ وَغَيْرِهِ مِنْ الْمُحَقِّقِينَ اهـ وَإِلَيْهِ ذَهَبَ نَشْوَانُ الْحِمْيَرِيُّ إمَامُ اللُّغَةِ وَمِنْ شِعْرِهِ فِي ذَلِكَ:
آلُ النَّبِيِّ هُمْ أَتْبَاعُ مِلَّتِهِ مِنْ الْأَعَاجِمِ وَالسُّودَانِ وَالْعَرَبْ
لَوْ لَمْ يَكُنْ آلُهُ إلَّا قَرَابَتَهُ صَلَّى الْمُصَلِّي عَلَى الطَّاغِي أَبِي لَهَبْ
وَيَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ أَيْضًا قَوْلُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مِنْ أَبْيَاتٍ:
وَانْصُرْ عَلَى آلِ الصَّلِيبِ وَعَابِدِيهِ الْيَوْمَ آلَكْ
وَالْمُرَادُ بِآلِ الصَّلِيبِ أَتْبَاعُهُ
(نیل الاوطار، کتاب الصلاۃ، ابواب صفۃ الصلاۃ، (الباب التاسع الثلاثون) باب ما یستدل بہ علی تفسیر آلہ المصلی علیھم (حاشیہ زیر روایت نمبر 783(قالوا یا رسول اللہ کیف نصلی علیک؟……) جلد 4 صفحہ 375)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ساری امت ہی (آل) ہے۔……… امام اللغة نشوان حمیری کہتے ہیں کہ ’’نبی ﷺ کے تمام متبعین خواہ ان کا تعلق ایران، عراق وغیرہ ممالک سے ہو یا سوڈان اور عرب سے سب اہل بیت میں سے ہیں۔ اگر آپؐ کے اہل بیت آپؐ کے قرابتی ہوتے تو تمام نمازی ابولھب جیسے شیطان پر درود وسلام بھیجتے‘‘۔
اس بات کی دلیل عبد المطلب کے اس شعر سے بھی ملتی ہے کہ ’’آل صلیب کے خلاف مدد کرو، اور تمام عبادت گزار تیری آل ہے‘‘۔
آل صلیب سے مراد اس کی اتباع کرنے والے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دس مخبر بھیجے اور حضرت عاصم بن ثابت انصاریؓ کو اُن کا امیر بنایا جو عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا تھے جب وہ عسفان اور مکہ کے درمیان ہدأہ کے مقام پر پہنچے تو کسی نے ہذیل کے ایک قبیلے سے جسے بنو لحیان کہتے تھے، (ان کا) ذکر کر دیا۔ وہ تقریباً ایک سو تیر انداز لے کر ان کے تعاقب کے لئے نکلے اور ان کا کھوج لگانے لگے۔ آخر انہوں نے ایک ایسے مقام پر جہاں وہ اُترے تھے وہ جگہ پالی جہاں انہوں نے کھجوریں کھائی تھیں۔ کہنے لگے: یہ یثرب کی کھجوریں ہیں۔ چنانچہ یہاں سے وہ ان کے قدموں کے نشانوں پر اُن کے پیچھے گئے۔ جب حضرت عاصمؓ اور اُن کے ساتھیوں نے ان کی آہٹ پائی تو وہ ایک جگہ پناہ گزیں ہوگئے۔ ان لوگوں نے ان کو گھیر لیا اور ان سے کہنے لگے تم نیچے اُتر آؤ اور اپنے آپ کو ہمارے سپرد کر دو اور تم سے یہ پختہ عہدو پیمان ہے کہ ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے۔ حضرت عاصم بن ثابتؓ نے یہ سن کر کہا: اے لوگو! میں تو کسی کافر کی پناہ میں نہیں اُتروں گا۔ پھر انہوں نے دعا کی اے اللہ اپنے نبیﷺ کو ہماری حالت سے آگاہ کر۔ بنو لحیان ان پر تیر چلانے لگے اور حضرت عاصمؓ کو مار ڈالا اور تین شخص عہدو پیمان پر بھروسہ کرکے ان کے پاس اُتر آئے۔ حضرت خبیبؓ اور حضرت زید بن دثنہؓ نیز ایک اور شخص۔ جب بنو لحیان نے ان پر قابو پا لیا تو اُن کی کمانوں کی تندیاں کھول کر انہیں باندھ لیا۔ تیسرے شخص (حضرت عبداللہ بن طارقؓ) نے کہا یہ (تمہاری) پہلی بدعہدی ہے، اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا۔ میرے لئے ان لوگوں میں نمونہ ہے یعنی اُن لوگوں میں جو شہید ہو چکے تھے۔ انہوں نے انہیں گھسیٹا اور اُن سے کشمکش کی، انہوں نے اُن کے ساتھ جانے سے ہر طرح انکار کیا (آخر کار انہوں نے حضرت عبداللہ بن طارقؓ کو مار ڈالا)۔ پھر وہ حضرت خبیبؓ اور حضرت زید بن دثنہؓ کو اپنے ساتھ لے گئے اور بدر کی جنگ کے بعد اُن دونوں کو بیچ دیا۔ بنو حارث بن عامر بن نوفل نے حضرت خبیبؓ کو خریدا اور حضرت خبیبؓ ہی تھے جنہوں نے حارث بن عامر کو جنگ بدر کے دن قتل کیا تھا۔ چنانچہ حضرت خبیبؓ ان کے پاس قیدی رہے۔ آخر انہوں نے ان کو مار ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ حضرت خبیبؓ نے حارث کی ایک بیٹی سے اُسترا عاریۃً مانگا کہ اس سے ناف کے بال صاف کریں۔ اُس نے اُن کو اُسترا عاریۃً دے دیا۔ اس کا ایک چھوٹا بچہ رینگتے ہوئے حضرت خبیبؓ کے پاس آیا اور وہ بے خبر تھی، اس نے حضرت خبیبؓ کو دیکھا کہ وہ اپنی ران پر اُس کو بٹھائے ہوئے ہیں اور اُسترا اُن کے ہاتھ میں ہے، کہتی تھی: میں یہ دیکھ کر ایسی گھبرائی کہ خبیبؓ نے میری گھبراہٹ معلوم کرلی اور کہا کیا تم ڈرتی ہو کہ میں اسے مار ڈالوں گا؟ میں ایسا کبھی نہیں کرنے کا۔ کہتی تھی: اللہ کی قسم! میں نے خبیبؓ سے بڑھ کر نیک قیدی کبھی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! ایک دن میں نے انہیں دیکھا کہ انگور کا خوشہ ہاتھ میں لئے انگور کھا رہے تھے اور وہ اس وقت لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور اُن دِنوں مکہ میں کوئی پھل نہ تھا۔ اور کہتی تھی: وہ ایسا رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے خبیبؓ کو دیا۔ جب اُن کو حرم کی سرحد سے باہر لے کر گئے تا اُن کو ایسی جگہ قتل کریں جہاں قتل جائز ہے۔ حضرت خبیبؓ نے ان سے کہا مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔ انہوں نے اجازت دے دی۔ حضرت خبیبؓ نے دو رکعتیں ادا کیں۔ پھر کہنے لگے: بخدا! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم لوگ یہ خیال کرو گے کہ جو میری حالت نماز میں تھی وہ موت کی گھبراہٹ کی وجہ سے ہے تو میں زیادہ پڑھتا، پھر کہنے لگے: اے اللہ! ان میں سے ایک بھی جانے نہ پائے اور انہیں پراگندہ کرکے ہلاک کر اور ان میں سے کوئی باقی نہ چھوڑ۔ پھر یہ شعر پڑھنے لگے: جبکہ میں مسلمان ہوکر مارا جا رہا ہوں مجھے پرواہ نہیں خواہ کسی کروٹ پر اللہ کیلئے گروں اور یہ میرا گرنا خدا کی خاطر ہے اور اگر وہ چاہے تو اُن جوڑوں میں برکت دے دے جو ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے ہوں۔ اس کے بعد
طارق بن شہاب نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن مسعودؓ سے سنا، وہ کہتے تھے میں نے مقداد بن اسودؓ کی بات کا ایک ایسا منظر دیکھا کہ اگر مجھ کو حاصل ہو جاتا تو وہ ان تمام نیکیوں سے مجھے عزیز تر ہوتا جو ثواب میں اس (ایک منظر) کے برابر ہوں۔ ہوا یوں کہ مقدادؓ نبی ﷺ کے پاس آئے جبکہ آپؐ مشرکوں کے خلاف دعا کر رہے تھے اور کہنے لگے: (یا رسول اللہ!) ہم اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح موسیٰ کی قوم نے کہا تھا: جا تُو اور تیرا ربّ دونوں جا کر لڑو، نہیں بلکہ ہم تو آپؐ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ کا چہرہ چمکنے لگا اور مقدادؓ کی اس بات نے آپؐ کو خوش کر دیا۔
حضرت جابرؓ بن سمرہ کہتے تھے کوفہ والوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت سعدؓ کی شکایت کی تو انہوں نے ان کو معزول کردیا اور حضرت عمارؓ کو ان کا عامل (حاکم) مقرر کیا۔ کوفہ والوں نے حضرت سعدؓ کے متعلق شکایات میں یہ بھی کہا کہ وہ نماز بھی اچھی طرح نہیں پڑھاتے تو حضرت عمرؓ نے ان کو بلا بھیجا اور کہا اے ابواسحاق! یہ (لوگ) تو کہتے ہیں کہ آپؓ اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھاتے۔ ابواسحاق نے کہا میں تو بخدا انہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز پڑھایا کرتا تھا۔ اس میں ذرہ بھی کم نہیں کرتا تھا۔ عشاء کی نماز پڑھاتا تو پہلی دو رکعتیں لمبی اور پچھلی دو رکعتیں ہلکی پڑھتا تھا۔ تب حضرت عمرؓ نے کہا ابواسحاق! آپؓ کے متعلق یہی خیال تھا۔ پھر حضرت عمرؓ نے ان کے ساتھ ایک آدمی یا چند آدمی کوفہ روانہ کئے تا ان کے بارے میں کوفہ والوں سے پوچھیں۔ انہوں نے کوئی مسجد بھی نہ چھوڑی جہاں حضرت سعدؓ کے متعلق نہ پوچھا ہو اور لوگ (ان کی) اچھی تعریف کرتے تھے۔ آخر وہ قبیلہ بنی عبس کی مسجد میں گئے۔ ان میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا۔ اسے اسامہ بن قتادہ کہتے تھے اور ابوسعدہ اس کی کنیت تھی۔ اس نے کہا چونکہ تم نے ہمیں قسم دی ہے۔ اس لئے اصل بات یہ ہے کہ سعدؓ فوج کے ساتھ نہیں جایا کرتے تھے اور نہ برابر تقسیم کرتے تھے اور نہ فیصلہ میں انصاف کرتے تھے۔ حضرت سعدؓ نے کہا دیکھو اللہ کی قسم! میں تین دعائیں کرتا ہوں۔ اے میرے اللہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور ریاء اور شہرت کی غرض سے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمر لمبی کر اور اس کی محتاجی کو بڑھا اور اسے مصیبتوں کا تختہ مشق بنا۔ اس کے بعد جب کوئی اس کا حال پوچھتا تو وہ کہتا پیر فرتوت ہوں۔ مصیبت زدہ ہوں۔ حضرت سعدؓ کی بددعا مجھے لگ گئی۔ عبدالملک کہتے تھے: میں نے اس کے بعد اسے دیکھا ہے کہ حالت یہ تھی کہ بڑھاپے کی وجہ سے اس کی بھویں اس کی دونوں آنکھوں پر آپڑ ی تھیں اور تعجب ہے کہ وہ راستوں میں لڑکیوں کو چھیڑتا اور چشمک کرتا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک شخص نے کسی شخص سے اس کی زمین خریدی۔ جس شخص نے وہ زمین لی تھی، اس نے اس کی زمین میں ایک گھڑا پایا جس میں سونا تھا۔ تو جس شخص نے اس زمین کو لیا تھا اس نے کہا مجھ سے اپنا سونا لے لو کیونکہ ہم نے تو تم سے صرف زمین خریدی ہے اور تم سے سونا نہیں خریدا اور وہ شخص جس کی زمین تھی کہنے لگا: میں نے تمہیں زمین اور جو کچھ اس میں تھا بیچا ہے۔ آخر وہ دونوں ایک شخص کے پاس تصفیہ کے لیے گئے تو اس شخص نے جس کے پاس وہ جھگڑا نپٹانے کے لئے گئے تھے، پوچھا: کیا تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا ہاں ایک لڑکا اور دوسرے نے کہا میری ایک لڑکی ہے۔ تو اس نے کہا لڑکے کا اس لڑکی سے نکاح کر دو اور اس سونے سے ان دونوں پر خرچ کرو اور صدقہ بھی دو۔
ہمام بن منبہ کہتے ہیں یہ رسول اللہ ﷺ کی وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہؓ نے ہمارے پاس بیان کیں۔ انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک شخص نے کسی سے اس کی کچھ زمین خریدی۔ اُس شخص نے جس نے زمین خریدی تھی۔ اپنی زمین میں ایک گھڑا پایا جس میں سونا تھا۔ اُس شخص نے جس نے زمین خریدی تھی کہا کہ مجھ سے اپنا سونا لے لو کیونکہ میں نے تم سے صرف زمین خریدی تھی اور میں نے تم سے سونا نہیں خریدا تھا۔ وہ جس نے زمین بیچی تھی اس نے کہا میں نے تو تمہیں زمین اور جو کچھ اس میں ہے بیچ دیا تھا فرمایا وہ دونوں فیصلہ کے لئے ایک شخص کے پاس گئے جس شخص کے پاس وہ فیصلہ کے لئے گئے اس نے کہا کیا تم دونوں کے اولاد ہے ؟ ان میں سے ایک نے کہا کہ میرا لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا میری لڑکی ہے۔ اس نے کہا لڑکے کی شادی اس لڑکی سے کر دو اور اس سے تم دونوں اپنے آپ پر (بھی) خرچ کرو اور صدقہ بھی دو۔