بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 37 hadith
ابو سلمۃ بن عبد الرحمان اور جہینہ والوں کے آزاد کردہ غلام ابوعبد اللہ الاغر جو حضرت ابوہریرہؓ کے ساتھیوں میں سے تھے ان دونوں نے حضرت ابوہریرہؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں نماز دوسری کسی مسجد سے سوائے مسجد حرام کے ہزار نماز سے افضل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپؐ کی مسجد آخری مسجد ہے۔ ابو سلمۃ اور ابوعبد اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ حضرت ابو ہریرہؓ یہ بات رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا کرتے تھے اس وجہ سے ہم رکے رہے کہ ہم حضرت ابوہریرہؓ سے اس حدیث کے متعلق توثیق چاہیں یہانتک کہ جب حضرت ابوہریرہؓ کی وفات ہوگئی تو ہم نے ایک دوسرے سے اس کا ذکر کیا اور ایک دوسرے کو ملامت کی کہ کیوں نہ ہم نے اس بارہ میں حضرت ابوہریرہؓ سے بات کرلی کہ اگر انہوں نے اسے آپؐ سے سنا تھا تو وہ اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کریں اسی دوران عبد اللہ بن ابراھیم بن قارظ سے ہماری مجلس ہوئی۔ تو ہم نے اس روایت کا ذکر کیا اور حضرت ابوہریرہؓ کی اس روایت کے مرفوع ہونے کے بارہ میں جو کوتاہی ہم سے ہوئی تھی اس کا بھی ذکر کیا۔ ہمیں عبداللہ بن ابراہیم نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہؓ سے سنا وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔
آنحضرت ﷺ نے ایک بار فرمایا میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس وقت سے ام الکتاب میں خاتم النبیین لکھا گیا ہوں جبکہ ابھی آدم کو گارے اور پانی سے ٹھوس شکل دی جا رہی تھی (یعنی اس کی ساخت کی تیاریاں ہو رہی تھیں)۔
آنحضرتﷺ نے ایک بار فرمایا میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس وقت سے ام الکتاب میں خاتم النبیین لکھا گیا ہوں جبکہ ابھی آدم کو گارے اور پانی سے ٹھوس شکل دی جا رہی تھی۔
میری امت میں ستائیس جھوٹے دجال ہوں گے جن میں سے چار عورتیں ہوں گی حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مثال اور ان انبیاء کی مثال جو مجھ سے پہلے تھے ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اسے خوب آراستہ پیراستہ کیا ہو سوائے اس جگہ کے جہاں کونے کی ایک اینٹ رکھی جاتی ہے۔ لوگ اس گھر میں پھرنے لگے اور اس سے تعجب کرتے اور کہتے: یہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی۔ آپؐ فرماتے تھے: میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیینؐ ہوں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری مثال اور مجھ سے قبل انبیاء کی مثال اس شخص کی مثال کی طرح ہے جس نے ایک عمارت بنائی اور اسے عمدہ بنایا اور خوبصورت بنایا سوائے اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ کے۔ لوگ اس کا طواف کرنے لگے اور اسے پسند کرنے لگے اور کہنے لگے کہ یہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ آپؐ نے فرمایا وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین (ﷺ) ہوں۔
طفیل بن عدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری اور سابقہ نبیوں کی مثال اس محل کی طرح ہے جس کی تعمیر بڑے خوبصورت انداز میں ہوئی لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی۔ لوگ اس محل کو گھوم پھر کر دیکھتے اور اس کی خوبصورتی پر حیران ہوتے لیکن دل میں کہتے یہ اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی گئی پس میں ہوں جس نے اس اینٹ کی جگہ کو پر کیا۔ میرے ذریعہ یہ عمارت تکمیل میں اعلیٰ اور حسن میں بے مثال ہو گئی ہے اسی لئے مجھے رسولوں کا خاتم بنایا گیا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میری اور سابقہ نبیوں کی مثال اس محل کی طرح ہے جس کی تعمیر بڑے خوبصورت انداز میں ہوئی لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی۔ لوگ اس محل کو گھوم پھر کر دیکھتے اور اس کی خوبصورتی پر حیران ہوتے لیکن دل میں کہتے یہ اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی گئی پس میں ہوں جس نے اس اینٹ کی جگہ کو پر کیا۔ میرے ذریعہ یہ عمارت تکمیل میں اعلیٰ اور حسن میں بے مثال ہو گئی ہے اسی لئے مجھے رسولوں کا خاتم بنایا گیا ہے۔ ایک اور روایت ہے کہ حضور نے فرمایا وہ اینٹ میں ہوں اور نبیوں کا خاتم ہوں۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں نبی ﷺ کے زمانے میں مسیلمہ کذاب مدینہ میں آیا اور کہنے لگا اگر مجھے محمدﷺ اپنے بعد امیر مقرر فرمائیں تو میں ان کی پیروی کروں گا۔ وہ اپنی قوم کے بہت سے لوگوں کے ساتھ وہاں آیا تھا۔ نبی ﷺ اس کے پاس گئے آپؐ کے ساتھ حضرت ثابتؓ بن قیس بن شماس تھے اور نبی ﷺ کے ہاتھ میں کھجور کی شاخ کا ایک ٹکڑا تھا۔ آپؐ وہاں کھڑے ہوئے جہاں مسیلمہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا اور فرمایا اگر تم مجھ سے یہ ٹکڑا مانگو تو میں تمہیں یہ بھی نہیں دوں گا اور اللہ تعالیٰ کا جو حکم تیرے بارہ میں ہو چکا ہے اس سے تجاوز نہ کروں گا اور اگر تو پیٹھ پھیر کر چلا جائے گا تو اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کر دے گا اور میں تجھے (اس طرح) دیکھ رہا ہوں جو مجھے خواب میں تیرے بارے میں دکھایا گیا تھا جو دکھایا گیا تھا۔ اور یہ ثابتؓ ہے وہ تجھے میری طرف سے جواب دے گا۔ پھر آپؐ اس کے پاس سے تشریف لے آئے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں میں نے نبی ﷺ کے اس قول کے بارہ میں پوچھا کہ میں تجھے وہی دیکھ رہا ہوں جو مجھے تیرے بارہ میں خواب میں دکھایا گیا ہے تو مجھے حضرت ابوہریرؓہ نے بتایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے سوتے ہوئے اپنے ہاتھ میں دو سونے کے کنگن دیکھے تو مجھ پر گراں گذرے تو مجھے خواب میں وحی ہوئی کہ ان پر پھونک مارو۔ میں نے ان سے دو کذاب مراد لئے جو میرے بعد خروج کریں گے۔ ان میں سے ایک تو صنعاء کا عنسی ہے اور دوسرا یمامہ کا مسیلمہ ہے۔