بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 19 hadith
حضرت عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے بہترین میری صدی کے لوگ ہیں پھر وہ جو اُن کے قریب ہیں پھر وہ جو اُن کے قریب ہیں۔ پھر وہ جو ان کے قریب ہیں۔ حضرت عمرانؓ کہتے ہیں میں نہیں جانتا آیا رسول اللہ ﷺ نے یہ اپنی صدی کے بعد دو مرتبہ فرمایا یا تین دفعہ پھر فرمایا ان کے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی اور وہ خیانت کریں گے اور انہیں امین نہ سمجھا جائے گا اور وہ نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے اور ان میں فربہی آجائے گی۔
حضرت ام ہانیؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ تمہارا شعار علم اور قرآن کریم ہو (یعنی قرآن اور علم کے ساتھ تمہیں اس قدر محبت ہونی چاہئے کہ اس سے زیادہ قریب اور پیاری چیز تمہیں کوئی نہ ہو۔ شعار اس لباس کو کہتے ہیں جو جسم کے ساتھ لگا رہے۔)
حضرت انسؓ کی ایک روایت میں ہے کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ
حضرت عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے صحابہ کے اختلاف کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی۔ اے محمد! تیرے صحابہ کا میرے نزدیک ایسا مرتبہ ہے جیسے آسمان میں ستارے ہیں۔ بعض بعض سے روشن تر ہیں۔ لیکن نور ہر ایک میں موجود ہے۔ پس جس نے تیرے کسی صحابی کی پیروی کی۔ میرے نزدیک وہ ہدایت یافتہ ہو گا۔ حضرت عمرؓ نے یہ بھی کہا کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں۔ ان میں سے جس کی بھی تم اقتداء کرو گے، ہدایت پا جاؤ گے۔
حضرت عبداللہ بن مغفلؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے کام لینا، انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنانا۔ جو شخص ان سے محبت کرے گا تو وہ دراصل میری محبت کی وجہ سے کرے گا۔ اور جو شخص ان سے بغض رکھے گا دراصل وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا۔ جو شخص ان کو دکھ دے گا اس نے مجھ کو دکھ دیا اور جس نے مجھے دکھ دیا اس نے اللہ کو دکھ دیا۔ اور جس نے اللہ کو دکھ دیا اور ناراض کیا تو ظاہر ہے وہ اللہ کی گرفت میں ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میرے صحابہ کو بُرا مت کہو مجھے اس کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو بھی ان کے ایک مُد یا نصف مُد کو نہیں پہنچے گا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج دو ٹولیوں کی صورت میں تھیں۔ ایک میں عائشہؓ، حفصہؓ، صفیہؓ اور سودہؓ شامل تھیں اور دوسری میں امّ سلمہؓ اور رسول اللہ ﷺ کی باقی ازواج۔ اور مسلمانوں کو یہ علم ہو چکا تھا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہؓ کو زیادہ محبوب رکھتے ہیں، تو جب ان میں سے کسی کے پاس کوئی ایسا ہدیہ ہوتا جسے وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تھا تو وہ اسے پیش کرنے میں اس وقت کا انتظار کرتا جبکہ رسول اللہ ﷺ عائشہؓ کے گھر میں ہوتے۔ امّ سلمہؓ کے فریق نے (امّ سلمہؓ سے) باتیں کیں اور اُن سے کہا رسول اللہ ﷺ سے کہو کہ لوگوں سے یہ فرمائیں کہ جو رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی ہدیہ بھیجنا چاہے تو آپؐ جس بیوی کے گھر میں بھی ہوں، وہ وہاں بھیج دیا کرے۔ جو انہوں نے کہا تھا امّ سلمہؓ نے وہ آپؐ سے کہہ دیا، تو آپؐ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا اور ان ازواج نے (امّ سلمہؓ سے) پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپؐ نے مجھے کچھ جواب نہیں دیا۔ پھر انہوں نے امّ سلمہؓ سے کہا کہ تم آنحضرت (ﷺ) سے پھر کہو۔ امّ سلمہؓ کہتی تھیں: جب آپ میری باری پر میرے ہاں آئے تو میں نے آپ سے پھر کہا، تو آپؐ نے پھر انہیں جواب نہ دیا اور اُن ازواج نے امّ سلمہؓ سے پوچھا، تو انہوں نے کہا آپؐ نے مجھے کچھ جواب نہیں دیا۔ تو ازواج نے پھر اُن سے کہا کہ تم آنحضرت (ﷺ) سے کہتی رہو، یہاں تک کہ آپ کچھ جواب دیں۔ جب آپ امّ سلمہؓ کے پاس باری پر آئے تو انہوں نے پھر کہا۔ آپ نے حضرت امّ سلمہؓ سے فرمایا مجھے عائشہؓ کی وجہ سے تکلیف نہ دو کیونکہ وحی عائشہؓ کے سوا کسی اور بیوی کے بستر پر نہیں ہوئی۔ حضرت امّ سلمہؓ کہتی تھیں: میں نے کہا یا رسول اللہ! آپ کو تکلیف دینے سے اللہ کے حضور توبہ کرتی ہوں۔ پھر اس کے بعد ان ازواج نے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو بلایا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس انہیں بھیجا کہ آپ سے کہیں کہ آپ کی ازواج حضرت ابوبکرؓ کی بیٹی سے متعلق انصاف کرنے کے لئے آپ کو (اللہ کی) قسم دیتی ہیں۔ چنانچہ حضرت فاطمہؓ نے آپ سے کہا۔ آپ نے فرمایا اے میری بیٹی! کیا تم وہ بات پسند نہیں کرتی جو میں پسند کرتا ہوں؟ (حضرت فاطمہؓ نے) کہا کیوں نہیں اور وہ ازواج کے پاس لَوٹ آئیں اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا تم آنحضرتؐ کے پاس پھر جاؤ تو حضرت فاطمہؓ نے پھر جانے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے حضرت زینب بنت جحشؓ کو بھیجا۔ وہ آپؐ کے پاس آئیں اور لب و لہجہ کچھ سخت تھا، یعنی انہوں نے کہا آپ کی ازواج ابن ابی قحافہ کی لڑکی سے متعلق آپ کو انصاف کرنے کیلئے اللہ کی قسم دیتی ہیں اور اونچی آواز سے بولیں یہاں تک کہ حضرت عائشہؓ کو بھی برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور حضرت عائشہؓ بیٹھی ہوئی تھیں۔ حضرت زینبؓ حضرت عائشہؓ کو سخت سُست کہنے لگیں جس پر رسول اللہ ﷺ
حضرت عمر بن ابی سلمہؓ جو کہ نبیﷺ کے ربیب ہیں بیان کرتے ہیں کہ جب آیت کریمہ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ البَيْتِ نازل ہوئی۔ اس وقت آپؐ حضرت ام سلمہؓ کے گھر تھے۔ آپؐ نے حضرت فاطمہؓ، حسنؓ، حسینؓ کو بلوایا اور ان کو ایک چادر سے ڈھانپ دیا اور حضرت علیؓ آپؐ کے پیچھے تھے حضورﷺ نے ان کو بھی چادر کے نیچے لے لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا فرمائی اللَّهُمَّ هَؤُلاَءِ أَهْلُ بَيْتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا یعنی اے میرے اللہ یہ بھی میرے اہل بیت ہیں ان سے بھی ہر طرح کی رجس دور فرما اور انہیں پاک و صاف فرما۔ حضرت ام سلمہؓ نے کہا اے اللہ کے نبی! میں بھی ان کے ساتھ آ جاؤں؟ آپؐ نے فرمایا آپ اپنی جگہ ٹھہری رہیں کیونکہ آپ تو (پہلے ہی) بہتر حال میں ہیں۔
حضرت انسؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ ﷺ کی آل سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہر نیک اور متقی آدمی میری آل میں شامل ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) تلاوت فرمائی کہ إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ اللہ کے دوست تو متقی ہیں۔
حضرت انسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا کہ آپﷺ کی آل سے کیا مراد ہے۔ آپﷺ نے فرمایا ہر نیک اور متقی آدمی میری آل میں شامل ہے۔ اور رسول اللہﷺ نے (یہ آیت) تلاوت فرمائی کہ إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ اللہ کے دوست تو متقی ہیں۔