بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 4 of 14 hadith
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا) نبی ﷺ نے ایک بوڑھے کو دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان سہارا لئے چلا جا رہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اس کی یہ کیا حالت ہے؟ انہوں نے کہا اس نے نذر مانی تھی کہ وہ (حج کیلئے) پیدل جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تو اس بات سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنے تئیں دکھ میں ڈالے اور آپؐ نے اس سے فرمایا سوار ہو جاؤ۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو یہ بات بڑی پسند ہے کہ اس کی طرف سے دی ہوئی رخصت پر عمل کیا جائے اور اس رعایت سے فائدہ اٹھایا جائے جس طرح اسے یہ بات پسند ہے کہ (اگر کوئی عذر نہ ہو تو) عزیمت اور اصل حکم عمل کیا جائے (تعمیل حکم اور رعایت کے موقع پر رعایت سے فائدہ اٹھانا یہی حقیقی فرمانبرداری ہے)۔
حضرت حنظلہ الاُسَیّدِیِّ ؓ جو رسول اللہ ﷺ کے کاتبوں میں سے تھے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکرؓ مجھے ملے اور کہا حنظلہ تم کیسے ہو؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہا سبحان اللہ! یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ حضرت حنظلہ ؓ کہتے ہیں میں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس ہوتے ہیں تو آپؐ ہمیں دوزخ اور جنت یاد کراتے ہیں یہانتک کہ گویا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں لیکن جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے نکلتے ہیں اور بیوی بچوں اور جائیدادوں میں مشغول ہوتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ اس پر حضرت ابو بکرؓ نے کہا کہ اللہ کی قسم! ہم پر بھی یہی گذرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں پھر میں اور حضرت ابو بکرؓ چل پڑے یہانتک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم آپؐ کے پاس ہوتے ہیں تو آپؐ ہمیں دوزخ اور جنت یاد کرادیتے ہیں یہانتک کہ گویا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں لیکن جب ہم آپؐ کے پاس سے جاتے ہیں اور بیوی بچوں اور جائیدادوں میں پڑ جاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو جس میں تم میرے پاس ہوتے ہو اور ذکر میں ہوتے ہو تو ضرور فرشتے تمہارے بچھونوں پر اور تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کرتے لیکن اے حنظلہ! یہ وقت وقت کی بات ہے۔ یہ آپؐ نے تین دفعہ فرمایا۔