بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 16 hadith
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ آپؐ کے صحابہؓ نے عرض کیا (یا رسول اللہ!) کیا آپؐ نے بھی (چرائی ہیں؟) آپؐ نے فرمایا ہاں، میں بھی چند قیراطوں کے بدلے مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ فرائض کی طرح محنت کی کمائی بھی فرض ہے۔
حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ فرائض کی طرح محنت کی کمائی بھی فرض ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پاکیزہ خوراک وہ ہے جو تم خود کما کر کھاؤ۔ اور تمہاری اولاد بھی تمہاری عمدہ کمائی میں شامل ہے۔
حضرت مقدام (بن معدی کرب) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ انسان کا اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھانا کھانے سے بڑھ کر کوئی کھانا نہیں اور اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داود علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی ہی کھایا کرتے تھے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ انصار کا ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس مانگنے آیا آپؐ نے فرمایا تمہارے گھر میں کوئی چیز نہیں۔ اس نے کہا ہاں کیوں نہیں۔ ایک کمبل ہے جس کا ایک حصہ ہم اوڑھتے ہیں اور ایک بچھاتے ہیں اور ایک بڑا پیالہ ہے جس سے ہم پانی پیتے ہیں۔ فرمایا وہ دونوں میرے پاس لاؤ۔ کہتے ہیں وہ آپ کے پاس لائے تو رسول اللہ ﷺ نے وہ اپنے ہاتھ میں لیے اور فرمایا یہ دونوں کون خریدے گا؟ ایک شخص نے کہا میں یہ ایک درہم میں خریدتا ہوں۔ آپ نے دو یا تین دفعہ فرمایا ایک درہم سے زیادہ کون بڑھاتا ہے؟ ایک شخص نے کہا میں دو درہم میں لیتا ہوں۔ آپؐ نے اُسے وہ دے دیا اور دو درہم لیے اور اس انصاری کو وہ دیئے اور فرمایا اس ایک سے اپنے گھر والوں کے لئے کھانا خرید لو اور دوسرے سے ایک کلہاڑا خریدو اور اسے میرے پاس لاؤ۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس میں دستہ ڈالا اور فرمایا جاؤ ایندھن جمع کرو اور بیچو اور میں تمہیں پندرہ دن تک نہ دیکھوں۔ تو وہ آدمی لکڑیاں جمع کرنے اور بیچنے لگا اور جب آیا تو دس 10 درہم کما چکا تھا کچھ کے اس نے کپڑے خریدے کچھ کا اناج۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ تمہارے لئے اس سے بہتر ہے کہ تم مانگو اور قیامت کے دن تمہارے چہرے پر داغ ہو۔ مانگنا جائز نہیں سوائے تین آدمیوں کے، ایسے فقر والے کے جو ہلاکت تک پہنچانے والا ہو یا ایسا قرض جو پریشان کرنے والا انتہائی سخت ہو۔ یا تکلیف دہ خون والا (یعنی جسے قتل دیت دینا ہو )۔
حضرت زبیرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی اپنی رسی لے اور اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا اُٹھا کر لائے اور پھر اُسے بیچے اور اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اس کی آبرو کو بچائے رکھے۔ یہ بات اُس کے لئے بہتر ہے اس بات سے کہ وہ لوگوں سے مانگے، وہ اس کو دیں یا نہ دیں۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ کو تین طلاقیں دی گئی تھیں۔ وہ اپنی کھجوریں کاٹنے کے لئے گئیں۔ راستے میں ان کو ایک شخص ملا۔ اس نے ان کو منع کیا تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور یہ واقعہ عرض کیا۔ آپؐ نے فرمایا نکلو اور اپنی کھجور کے درختوں کا پھل اتارو شاید تم اس میں سے صدقہ دو یا کوئی اور نیک کام کرو۔
ابن اعبد کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے مجھے بتایا کیا میں تمہیں اپنے متعلق اور رسول اللہﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کے متعلق نہ بتاؤں جو آپؐ کو اپنے اہل و عیال میں سب سے زیادہ محبوب تھیں۔ میں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ حضرت فاطمہؓ چکی چلاتی تھیں یہاں تک کہ (اس کام نے) ان کے ہاتھ پر نشان ڈال دیے اور مشکیزہ کے ذریعہ پانی لاتی تھیں یہاں تک کہ اس نے ان کے سینہ پر نشان ڈال دیا اور وہ گھر میں جھاڑو دیتیں یہاں تک کہ ان کے کپڑے غبار آلود ہو جاتے۔ نبیﷺ کے پاس کچھ خادم آئے۔ میں نے کہا تم اگر اپنے ابّا کے پاس جاؤ اور اُن سے خادم مانگو۔ وہ آپؐ کے پاس گئیں اور آپؐ کے پاس متعدد بات چیت کرنے والے پائے تو وہ واپس آ گئیں۔ آپؐ دوسرے دن ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارا کیا کام تھا؟ وہ خاموش رہیں۔ تو میں نے کہا میں بتاتا ہوں یا رسول اللہ!۔ وہ چکی چلاتی ہیں یہاں تک کہ اس نے ان کے ہاتھ پر نشان ڈال دیا ہے اور مشکیزہ اٹھاتی ہیں یہاں تک کہ اُس نے ان کے سینہ پر نشان ڈال دیا ہے۔ پس جب آپؐ کے پاس خادم آئے تو میں نے ان کو کہا کہ آپ کے پاس جائیں اور آپؐ سے ایک خادم چاہیں جو ان کو اس مشقت سے بچائے جس میں وہ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اے فاطمہ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنے رب کا فریضہ ادا کرو اور اپنے گھر والوں کا کام کرو۔ جب تم بستر پر جاؤ تو تینتیس دفعہ تسبیح کرو اور تینتیس دفعہ حمد کرو اور چونتیس دفعہ اللہ اکبر کہو۔ یہ سو 100 ہوئے وہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا میں اللہ اور اُس کے رسولﷺ پر راضی ہوں۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر جبکہ آپؐ صدقہ اور سوال سے بچنے کا ذکر کر رہے تھے فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔