بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 14 hadith
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اخراجات میں میانہ روی اور اعتدال نصف معیشت ہے اور لوگوں سے محبت سے پیش آنا نصف عقل ہے اور سوال کو بہتر رنگ میں پیش کرنا نصف علم ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا اپنے دوست سے اعتدال کے اندر رہ کر محبت کرو کیونکہ عین ممکن ہے کہ کل کلاں وہی شخص تیرا دشمن بن جائے اور اسی طرح اپنے دشمن سے بھی حد کے اندر رہ کر دشمنی رکھ کیونکہ ممکن ہے کہ وہی کل تیرا دوست بن جائے (اور پھر کی ہوئی زیادتیوں پر تو شرمندہ ہوتا پھرے)۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تین اخلاق ایمان کا تقاضا ہیں۔ اول یہ کہ جب کسی مومن کو غصہ آئے تو غصہ اسے باطل اور گناہ میں مبتلا نہیں کر سکتا اور جب وہ خوش ہو تو اس کی خوشی اسے حق سے باہر نکلنے نہیں دیتی (وہ خوشی میں بھی اعتدال کو نہیں چھوڑتا) اور جب اسے قدرت اور اقتدار ملتا ہے تو (اس وقت بھی) وہ اپنے حق سے زیادہ نہیں لیتا (یعنی جو اس کا نہیں اس کو لینے کے لئے کوشش نہیں کرتا)۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان فرماتے تھے کہ تین شخص نبی ﷺ کی ازاوج مطہرات کے گھروں میں آئے اور پوچھنے لگے کہ نبی ﷺ کس طرح عبادت کیا کرتے تھے۔ جب انہیں بتلایا گیا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے اسے کم خیال کیا۔ وہ کہنے لگے۔ نبی ﷺ سے ہمیں کیا نسبت؟ اللہ نے انہیں جو بھی ان سے پہلے قصور ہوچکے یا بعد میں ہونے والے تھے سب معاف کر دئیے۔ ان میں سے ایک نے کہا میں رات بھر نماز پڑھتا رہتا ہوں گا اور دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھتا ہوں گا اور افطار نہیں کروں گا اور تیسرے نے کہا میں عورت سے الگ رہوں گا اور کبھی شادی نہ کروں گا۔ رسول ﷺ آئے آپؐ نے فرمایا کیا تم وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسا ایسا کہا ہے؟ سنو اللہ کی قسم! میں تم سے زیادہ اللہ کے حضور عاجزی کرتا ہوں اور تم سے زیادہ اس (کی ناراضگی) سے ڈرتا ہوں مگر میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ سو جس نے میرے طریقے کو ناپسند کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی تھیں کہ رسول اللہﷺ جب کبھی صحابہؓ کو کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے تو آپؐ صرف اُنہیں ایسے کاموں کا حکم دیتے جن کو وہ کر سکتے۔ صحابہؓ کہتے: یا رسول اللہ! ہم تو آپؐ جیسے نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی پہلی اور پچھلی کوتاہیاں معاف کر دی ہیں۔ اس بات پر آپؐ کو اتنا رنج ہوا کہ آپؐ کے چہرہ سے ظاہر ہونے لگا۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے والا اور سب سے زیادہ عارف باللہ میں ہوں۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی کام کیا اور اس میں رخصت پر عمل کیا۔ آپؐ کے صحابہؓ میں سے بعض لوگوں کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے گویا اسے ناپسند کیا اور اس سے بچنا چاہا۔ حضورﷺ کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپؐ خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اُن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہیں میری طرف سے بات پہنچی جس میں میں نے رخصت پر عمل کیا لیکن انہوں نے اسے ناپسند کیا اور اس حکم سے بچنا چاہا۔ اللہ کی قسم! میں اللہ کے بارہ میں ان سے زیادہ علم رکھتا ہوں اور اس کی خشیت بھی ان سے زیادہ رکھتا ہوں۔
حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت بیٹھی تھی اور نبی ﷺ گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا یہ فلاں (اپنی نماز کا ذکر کرتی ہے) جو سوتی نہیں۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا بس۔ تم پر وہ لازم ہے جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔ بخدا اللہ نہیں اکتاتا مگر تم اکتا جاؤ گے۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : آپؐ کو سب سے زیادہ پیارا دین وہ تھا جس کو کرنے والا اس پر باقاعدگی اختیار کرے۔
عون بن ابی جُحَیفہ اپنے باپ (وہب بن عبداللہ سوائی) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا نبی ﷺ نے حضرت سلمانؓ اور حضرت ابودرداءؓ کو آپس میں بھائی بھائی بنایا۔ حضرت سلمانؓ حضرت ابودرداءؓ سے ملنے گئے تو انہوں نے حضرت امّ درداءؓ کو دیکھا کہ انہوں نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اُن سے پوچھا تمہارا یہ کیا حال ہے؟ وہ کہنے لگیں: تمہارے بھائی ابو درداءؓ کو دنیا میں کوئی حاجت نہیں۔ اِتنے میں حضرت ابودرداءؓ آئے تو انہوں نے حضرت سلمانؓ کے لئے کھانا تیار کیا اور اُن سے کہا آپؓ کھائیں (اور) کہا میں تو روزہ دار ہوں۔ حضرت سلمانؓ نے کہا میں اس وقت تک ہرگز نہ کھاؤں گا جب تک آپؓ نہ کھائیں۔ (وہب نے) کہا حضرت ابودرداءؓ نے کھانا کھایا اور جب رات ہوئی تو حضرت ابو درداءؓ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے۔ (حضرت سلمانؓ نے) کہا سوئیں۔ تو وہ سوگئے۔ پھر نماز کے لئے اُٹھنے لگے تو انہوں نے کہا ابھی سوئیں۔ جب رات کا آخری حصہ ہوا تو حضرت سلمانؓ نے کہا اب اُٹھیں اور دونوں نے نماز پڑھی اور حضرت سلمانؓ نے اُن سے کہا تیرے ربّ کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے نفس کا بھی اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔ اس لئے ہر حق والے کو اُس کا حق دے۔ حضرت ابو درداءؓ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ سے اس بات کا ذکر کیا تو نبی ﷺ نے اُن سے فرمایا سلمانؓ نے سچ کہا ہے۔