بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 5 of 5 hadith
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کی حالت اس شخص کی حالت کی مانند ہے جس نے کچھ لوگ مزدوری پر لگائے کہ وہ اس کے لئے رات تک کام کریں تو انہوں نے آدھا دن کام کیا اور کہا ہمیں تیری مزدوری کی ضرورت نہیں۔ اس نے اَوروں کو مزدوری پر لگایا اور کہا کہ تم اپنا بقیہ دن پورا کرو اور تمہیں وہی مزدوری ملے گی جس کی میں نے شرط کی ہے۔ یہاں تک کہ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے کہا یہ لو سنبھالو جو ہم نے کیا ہے۔ اِس پر اُس نے کچھ اَور لوگ مزدوری پر لگائے اور وہ بقیہ دن کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور انہوں نے دونوں گروہوں کی مزدوری پوری کی پوری لے لی۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارا زمانہ ان امتوں کے زمانے کے مقابل میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں صرف اتنا ہی ہے جتنا کہ عصر کی نماز اور سورج کے غروب ہونے کے درمیان ہوتا ہے اور تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے کچھ مزدور کام پر لگائے اور اس نے کہا کون میرے لئے آدھے دن تک ایک ایک قیراط کی مزدوری پر کام کرے گا؟ یہ سن کر یہود نے ایک ایک قیراط پر آدھے دن تک کام کیا۔ پھر اس نے کہا کون میرے لئے دوپہر سے عصر کی نماز تک ایک ایک قیراط پر کام کرے گا۔ یہ سن کر نصاریٰ نے دوپہر سے عصر کی نماز تک ایک ایک قیراط پر کام کیا۔ پھر اس نے کہا کون میرے لئے عصر کی نماز سے سورج کے غروب ہونے تک دو دو قیراط پر کام کرے گا۔ سنو! ہوشیار رہو کہ تم وہ لوگ ہو جو عصر کی نماز سے سورج کے غروب ہونے تک دو دو قیراط پر کام کر رہے ہو۔ اچھی طرح سن لو۔ تمہارے لئے دوگنا اجر ہے جس سے یہود و نصاریٰ ناراض ہوگئے اور کہنے لگے: ہم نے کام زیادہ کیا اور دیا گیا تھوڑا۔ اللہ نے کہا کیا میں نے تمہارے حق سے کچھ کم دیا ہے۔ انہوں نے کہا نہیں۔ اللہ نے فرمایا پھر یہ میرا انعام ہے، جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں۔
حضرت عدی بن حاتمؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں نبی ﷺ کے پاس تھا۔ اتنے میں ایک شخص آپؐ کے پاس آیا تو اس نے آپؐ سے بھوک کا شکوہ کیا۔ پھر آپؐ کے پاس ایک اور شخص آیا اور اس نے آپؐ سے رہزنی کا شکوہ کیا۔ آپؐ نے فرمایا عدی! کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے؟ (یہ بستی کوفہ کے پاس ہے) میں نے کہا اسے میں نے نہیں دیکھا مگر مجھے اس کی نسبت بتایا گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم اکیلی سوار عورت کو دیکھ لو گے کہ وہ حیرہ سے چل کر آئے گی اور کعبہ کا طواف کرے گی۔ سوا اللہ کے کسی سے نہ ڈرے گی۔ میں نے اپنے دل میں کہا طی (قبیلہ) کے وہ ڈاکو کہاں چلے جائیں گے جنہوں نے شہروں میں آگ بھڑکائی ہے۔ (آپؐ نے فرمایا) اگر زندگی تمہاری لمبی ہوئی تو کسرٰی کے خزانے ضرور فتح کیے جائیں گے۔ میں نے کہا کسرٰی بن ہرمز کے؟ آپؐ نے فرمایا کسرٰی بن ہرمز کے، اور اگر زندگی تمہاری لمبی ہوئی تو تم یہ بھی دیکھ لو گے کہ ایک آدمی اپنی مٹھی بھر سونا یا چاندی نکالے گا اور ایسے شخص کو تلاش کر رہا ہوگا جو اس سے وہ قبول کرے اور وہ کسی کو بھی نہ پائے گا جو اُس سے اس کو لے اور تم میں سے ایک اللہ سے اس روز ضرور ملے گا جس روز کہ وہ اس سے ملے گا۔ حالت یہ ہوگی کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا جو اس کے لئے ترجمانی کرے اور وہ فرمائے گا: کیا میں نے تیرے پاس رسول نہیں بھیجا جو تجھے میرا حکم پہنچائے؟ تو وہ کہے گا: کیوں نہیں، ضرور بھیجا ہے اور وہ فرمائے گا: کیا میں نے تجھے مال نہیں دیا تھا اور تجھ پر فضل نہیں کیا تھا۔ وہ کہے گا: کیوں نہیں، ضرور کیا تھا۔ پھر وہ اپنی دائیں طرف دیکھے گا تو جہنم ہی دیکھے گا اور اپنی بائیں طرف دیکھے گا تو جہنم ہی دیکھے گا۔ عدیؓ کہتے تھے میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے آگ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر، اور جو کھجور کا ایک ٹکڑا نہ پائے تو وہ اچھی بات سے ہی۔ عدیؓ کہتے تھے چنانچہ میں نے عورت سوار دیکھی جو حیرہ سے چل کر آئی اور کعبہ کا طواف کرتی۔ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتی اور میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے کسرٰی بن ہرمز کے خزانے فتح کئے اور اگر زندگی تمہاری لمبی ہوئی تو تم بھی ضرور ان باتوں کو پورا ہوتے دیکھ لو گے جو اس نبی ابو القاسم ﷺ نے فرمائی ہیں، یعنی یہ کہ ایک آدمی مٹھی بھر (سونا چاندی) لے کر نکلے گا (اور کوئی اس کو قبول نہ کرے گا)۔
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا۔ اتنے میں دو شخص آپؐ کے پاس آئے۔ ان میں سے ایک اپنی محتاجی کا شکوہ کرتا تھا اور دوسرا رہزنی کا شکوہ کرتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رہزنی جو ہے تو اس کے متعلق یاد رکھو کہ تھوڑی دیر گزرے گی کہ جب قافلہ بغیر کسی محافظ کے مکہ کو جایا کرے گا اور جو محتاجی ہے تو وہ گھڑی اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تم میں سے کوئی اپنے صدقہ کو لئے گھومتا نہ پھرے اور وہ کسی کو نہ پائے جو اس سے صدقہ قبول کرے۔ پھر اس کے بعد تم میں سے ایک ضرور اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوگا۔ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان نہ کوئی پردہ ہوگا اور نہ کوئی ترجمان جو اس کے لئے ترجمانی کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے کہے گا کیا میں نے تجھ کو مال نہیں دیا تھا؟ تو وہ جواب دے گا: کیوں نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: کیا میں نے تیرے پاس رسول نہیں بھیجا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں۔ پھر وہ اپنی دائیں طرف نظر کرے گا تو آگ ہی آگ دیکھے گا اور پھر بائیں طرف نظر کرے گا تو آگ ہی آگ دیکھے گا۔ اس لئے چاہیے کہ تم میں سے ہر ایک آگ سے بچاؤ کا سامان کرے۔ خواہ کھجور کے ایک ٹکڑہ ہی سے ہو۔ اگر یہ بھی نہ پائے تو اچھی بات سے ہی۔