بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 4 of 4 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص بھی کسی کی بے چینی اور اس کے کرب کو دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے کرب اور اس کی بے چینی کو دور کرے گا۔ اور جو شخص کسی تنگ دست کے لئے آسانی مہیا کرتا ہے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے لئے آسانی اور آرام کا سامان بہم پہنچائے گا۔ اور جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کے لئے کوشاں رہتا ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے میری امت میں سے ہر ایک کو معاف کر دیا جائے گا مگر ان کو نہیں جو کھلم کھلا گناہ کریں اور یہ بھی بے حیائی ہے کہ آدھی رات کو کوئی کام کرے اور پھر صبح کو ایسی حالت میں اٹھے کہ اللہ نے اس پر پردہ پوشی کی ہوئی ہے تو پھر وہ کہے کہ میں نے گزشتہ رات یہ یہ کیا حالانکہ رات اس نے ایسی حالت میں گزاری کہ اس کے رب نے اس کی پردہ پوشی کئے رکھی اور وہ صبح کو اٹھتا ہے اور اپنے سے اللہ کے پردے کو کھول دیتا ہے۔
حضرت عقبہ بن عامرؓ کے مولیٰ جن کا نام ابو کثیر تھا بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے آقا عقبہ بن عامرؓ کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ ہمارے پڑوسی شراب پی رہے ہیں۔ عقبہؓ نے فرمایا جانے دو۔ پھر میں ان کے پاس دوبارہ گیا اور کہا کیا میں پولیس کو نہ بلا لاؤں؟ عقبہؓ نے فرمایا تیرا برا ہو! کہا جو ہے جانے دو کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔ جس نے کسی کی کمزوری دیکھی اور پردہ پوشی سے کام لیا یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی زندہ درگور لڑکی کو اس کی قبر سے نکالا اور اسے زندگی بخشی۔
ابو الھیثم کہتے ہیں کہ کچھ لوگ حضرت عقبہ بن عامرؓ کے پاس آئے اور کہا ہمارے ہمسائے شراب پیتے ہیں اور دوسرے افعال کرتے ہیں کیا ہم ان کا معاملہ امیر تک پہنچائیں؟ انہوں نے کہا نہیں، میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے کسی کی کمزوری دیکھی اور پردہ پوشی سے کام لیا یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی زندہ درگور لڑکی کو اس کی قبر سے نکالا اور اسے زندگی بخشی۔