بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 12 hadith
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا دو نعمتیں ایسی ہیں کہ جن میں بہت سے لوگ گھاٹا کھا رہے ہیں۔ صحت اور فراغت۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا دو نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کی قدر نہ کرکے بہت سے لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔ ایک صحت دوسرے فارغ البالی۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بیماری کی دوا ہے جب بیماری کی دوا مل جائے تو اللہ عزوجل کے اذن سے (مریض) شفاء پاتا ہے۔
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ جبریل نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے محمدﷺ! آپ ﷺ بیمار ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ انہوں نے کہا اللہ کے نام کے ساتھ میں آپ ﷺ کو دَم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ ﷺ کو تکلیف دیتی ہے۔ ہر نفس کے شر سے اور حسد کرنے والے کی آنکھ سے۔ اللہ آپ ﷺ کو شفا دے گا اللہ کے نام کے ساتھ میں آپ ﷺ کو دَم کرتا ہوں۔
حضرت جابرؓ کہتے ہیں میرے ایک ماموں بچھو (کے کاٹے) کا دَم کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے دم سے منع فرما دیا۔ وہ کہتے ہیں وہ (ان کے ماموں) آپؐ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول ﷺ اللہ! آپؐ نے دم سے منع فرما دیا ہے اور میں بچھو (کے کاٹے) کا دم کرتا ہوں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا جو تم میں سے اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو اُسے ایسا کرنا چاہیے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہؓ سفر میں تھے۔ وہ عرب کے قبائل میں سے ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے اور ان سے مہمان نوازی چاہی لیکن انہوں نے ان کی مہمان نوازی نہ کی۔ انہوں نے ان سے پوچھا کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے؟ کیونکہ قبیلہ کے سردار کو کسی چیز (بچھو وغیرہ) نے ڈس لیا ہے یا وہ بیمار ہے۔ ان (صحابہؓ) میں سے ایک نے کہا ہاں۔ وہ اس کے پاس گئے اور انہوں نے اسے سورۃ فاتحہ کا دَم کیا۔ تو وہ شخص تندرست ہوگیا تو اس کو بکریوں کا ایک ریوڑ دیا گیا لیکن اُس (صحابیؓ) نے اسے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں (پہلے) نبی ﷺ کے پاس اس کا ذکر کروں گا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور یہ بات بیان کی اور اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! اللہ کی قسم میں نے صرف سورۃ فاتحہ کا دم کیا ہے۔ آپؐ مسکرائے اور فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ یہ دم ہے؟ پھر فرمایا تم ان سے لے لو اور اپنے ساتھ میرے لئے بھی حصہ رکھنا۔
حضرت ابو سعیدؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مومن کو کوئی تکلیف تھکان بیماری یا غم نہیں پہنچتا یہاں تک کہ اگر کوئی فکر اسے لاحق ہوتی ہے تو اس کے عوض اس کی بعض برائیوں کو دور کر دیا جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ شام کی طرف گئے یہاں تک کہ سرغ مقام پر پہنچے تو آپؓ کو لشکروں کے افسران حضرت ابو عبیدہؓ بن الجراح اور ان کے ساتھی ملے اور انہوں نے آپؓ کو بتایا کہ شام میں طاعون پھوٹ پڑی ہے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے فرمایا ابتدائی مہاجرین کو میرے پاس بلاؤ۔ میں انہیں بلا لایا۔ آپؓ (حضرت عمرؓ) نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں بتایا کہ شام میں طاعون پھوٹ پڑی ہے۔ اس پر انہوں نے مختلف آراء دیں۔ ان میں سے بعض نے کہا آپؓ ایک اہم کام کے لئے نکلے ہیں اور ہم آپؓ کا واپس لوٹنا مناسب نہیں سمجھتے اور ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا آپؓ کے ساتھ بہترین لوگ اور رسول الله ﷺ کے صحابہؓ ہیں اور ہم مناسب خیال نہیں کرتے کہ آپ انہیں اس وباء میں لے جائیں۔ آپؓ نے انہیں فرمایا آپ جا سکتے ہیں۔ پھر آپؓ نے فرمایا میرے پاس انصارؓ کو بلاؤ۔ میں اُنہیں آپؓ کے پاس بلا لایا۔ آپؓ نے ان سے مشورہ کیا انہوں نے بھی مہاجرینؓ کا طریق اختیار کیا اور ان کی طرح مختلف آراء پیش کیں۔ آپؓ نے فرمایا آپ لوگ جا سکتے ہیں۔ پھر آپؓ نے فرمایا میرے پاس قریش کے بزرگان کو بلاؤ جنہوں نے فتح مکہ کے موقع پر ہجرت کی تھی۔ میں انہیں بلا لایا۔ ان میں سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ہماری رائے ہے کہ آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور انہیں اس وبا میں نہ لے جائیں۔ اس پر حضرت عمرؓ نے لوگوں میں اعلان کروادیا کہ میں صبح (واپسی کے لئے) سوار ہوں گا آپ سب لوگ بھی صبح سوار ہو جائیں۔ اس پر حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے کہا کیا اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا اے ابو عبیدہ! کاش تمہارے علاوہ کوئی اور یہ بات کہتا!! ــ اور حضرت عمرؓ بالعموم ان (حضرت ابو عبیدہؓ) سے اختلافِ رائے کو ناپسند فرماتے تھے ــ ہاں، ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں۔ بتائیے اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور وہ ایک ایسی وادی میں ہوں جس کے دو کنارے ہوں ایک کنارہ سرسبز و شاداب ہو اور دوسرا خشک اور ویران ہو تو اگر تم سرسبز کنارے پر انہیں چراؤ تو اللہ کی تقدیر سے ہی انہیں چراؤ گے اور اگر تم انہیں خشک کنارے پر چراؤ تو اللہ کی تقدیر سے انہیں چراؤ گے۔ وہ (حضرت ابن عباسؓ) کہتے ہیں حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ جو اپنے کسی کام کی وجہ سے موجود نہ تھے آئے اور انہوں نے کہا مجھے اس بات کا علم ہے میں نے رسول الله ﷺ کو فرماتے سنا ہے جب تم کسی جگہ اس (وبا) کا سنو تو اس کی طرف نہ جاؤ اور اگر اس جگہ پھوٹ پڑے جہاں تم ہو تو وہاں سے اس سے بھاگنے کے لئے نہ نکلو۔ وہ (حضرت ابن عباسؓ) کہتے ہیں اس پر حضرت عمرؓ نے اللہ کی حمد کی اور واپس لوٹ گئے۔
حضرت اسامہ بن شریکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا اور پوچھا یا رسول اللہ! ہم علاج معالجہ کر سکتے ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا بیمار کا علاج ضرور کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے لئے شفا رکھی ہے۔ کوئی اس کا علاج جانتا ہے اور کوئی نہیں جانتا ہے۔
حضرت علقمہؓ اپنے والد کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں حضرت سوید بن طارقؓ نے نبی ﷺ سے شراب کے متعلق دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے استعمال کرنے سے منع فرمایا اس پر سوید نے کہا کہ ہم اسے بطور دوا پیتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ دوا نہیں ہے بلکہ یہ بیماری ہے۔