بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 6 hadith
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم بیمار کی عیادت کریں، جنازے کے ساتھ جائیں، چھینک مارنے والے کی چھینک کا جواب دیں، اور دعوت کے لئے بلانے والے کی دعوت قبول کریں اور سلام کا جواب دیں اور مظلوم کی مدد کریں اور قسم کھانے والے کو اس کی قسم پورا کرنے میں مدد دیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ عزّوجل فرمائے گا اے ابن آدم! میں بیمار ہوا لیکن تو نے میری عیادت نہ کی وہ کہے گا اے میرے رب! میں کس طرح تیری عیادت کرتا جبکہ تو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اللہ فرمائے گا کیا تجھے علم نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا لیکن تو نے اس کی عیادت نہ کی۔ کیا تجھے علم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا وہ کہے گا اے میرے رب میں تجھے کس طرح کھلا سکتا ہوں جبکہ تُو سب جہانوں کا رب ہے۔ وہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندہ نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا کیا تو جانتا نہیں کہ اگر تو اسے کھانا کھلا دیتا تو اسے میرے پاس پاتا۔ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا وہ کہے گا اے میرے رب میں تجھے کس طرح پانی پلا سکتا ہوں جبکہ تو ُتمام جہانوں کا رب ہے۔ وہ فرمائے گا کہ تجھ سے میرے فلاں بندہ نے پانی مانگا لیکن تو نے اسے پانی نہیں پلایا اگر تو اسے پانی پلا دیتا تو اسے ضرور میرے پاس موجود پاتا۔
حضرت ام علاءؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میری عیادت کی اور میں بیمار تھی۔ آپؐ نے فرمایا اے ام العلاء خوش ہو جاؤ کیونکہ مسلمان کی بیماری کے ذریعے اللہ اس کی خطائیں دور کر دیتا ہے جس طرح آگ سونے اور چاندی کی میل کچیل دور کر دیتی ہے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی مریض کی عیادت فرماتے تو دعا کرتے اے لوگوں کے رب! تو بیماری کو دور کر دے۔ تو اسے شفاء دے کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفاء نہیں ہے۔ ایسی شفاء دے جو کوئی بیماری نہ چھوڑے۔
حضرت انس (بن مالک) رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی لڑکا تھا۔ نبی ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہوگیا۔ نبی ﷺ اس کی بیمار پرسی کے لئے اس کے پاس آئے۔ آپؐ اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور اس سے کہا اسلام قبول کر لو۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور وہ اس کے پاس ہی تھا۔ تو اس نے اسے کہا ابو القاسم کی بات مانو۔ سو اس نے اسلام قبول کیا۔ پھر نبی ﷺ باہر آئے اور آپؐ یہ کہہ رہے تھے اللہ ہی کی حمد ہے جس نے اس کو آگ سے بچا لیا ہے۔