بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 10 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو باتیں لوگوں میں ہیں جو کفر کا موجب ہیں۔ نسب میں طعن کرنا اور میّت پر نوحہ کرنا۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ وفات کے وقت میری گود کا سہارا لے کر لیٹے ہوئے تھے اور یہ دعا کرتے تھے ’’اے اللہ! مجھے بخش، مجھ پر رحم کر اور مجھے اعلیٰ ساتھی سے ملا دے‘‘ (یعنی اپنا قرب خاص عطا کر )۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے بچہ کو وفات دیتا ہے تو اپنے ملائکہ سے کہتا ہے کیا تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی، اس پر فرشتے جواب دیتے ہیں ہاں ہمارے اللہ! پھر فرماتا ہے تم نے اس کے دل کی کلی توڑ لی۔ فرشتے جواب دیتے ہیں ہاں، ہمارے اللہ! پھر وہ پوچھتا ہے۔ اس پر میرے بندے نے کیا کہا؟ فرشتے کہتے ہیں۔ اس نے تیری حمد کی اور انا للٰہ و انا الیہ راجعون پڑھا اس پر اللہ تعالیٰ کہتا ہے تم میرے اس صابر و شاکر بندے کے لئے جنت میں ایک گھر تعمیر کرو اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔
حضرت ابو سلمہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی پر مصیبت آئے تو وہ انا للٰہ و انا الیہ راجعون پڑھے اور دعا مانگے کہ میرے اللہ! میں تیرے حضور اپنی مصیبت کو پیش کرتا ہوں مجھے اس کا بہتر اجر دے اور اس کے بدلہ میں خیر اور برکت مجھے عطا کر۔ پس جب ابو سلمہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے دعا کی۔ اے میرے اللہ! میرے اہل کو میرے بدلہ میں اچھا قائم مقام عطا کرنا۔ جب ان کی وفات ہو گئی تو حضرت ام سلمہؓ نے انا للٰہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور دعا کی کہ میں اپنی مصیبت تیرے حضور پیش کرتی ہوں تو مجھے اس کا بہتر اجر دے (چنانچہ ایسا ہوا کہ حضرت ام سلمہؓ کی شادی آنحضرتﷺ سے ہو گئی اور اس طرح بہترین بدلہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا)۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ابو سیف لوہار کے پاس گئے اور وہ ابراہیم علیہ السلام کی انّا کے شوہر تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ابراہیم کو لیا۔ ان کو بوسہ دیا اور پیار کیا۔ پھر اس کے بعد ہم (ابو سیف) کے پاس گئے اور ابراہیمؑ نزع کی حالت میں تھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آپؐ سے کہا یا رسول اللہ! آپؐ بھی؟ آپؐ نے فرمایا عوفؓ کے بیٹے یہ تو رحمت ہے۔ پھر آپؐ نے آنسو بہائے اور آپ ﷺ نے فرمایا آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہے اور ہم کچھ نہیں کہتے مگر وہی جو ہمارے ربّ کو پسند ہو اور ہم اے ابراہیم! تیری جدائی سے یقینا غمگین ہیں۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ کی صاحبزادی نے حضورﷺ کے پاس پیغام بھیجا کہ میرا لڑکا قریب المرگ ہے آپ ذرا جلدی تشریف لاویں۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ اس سے میرا جا کر سلام کہو اور کہو کہ صبر کرے۔ اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے اور وہی لے لیتا ہے اور اس نے ہر چیز کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ آپ کی صاحبزادی نے پھر پیغام بھیجا کہ آپ کو قسم ہے۔ خدا کے واسطے آپ ضرور تشریف لاویں۔ حضورﷺ چلنے کے لئے کھڑے ہوئے آپ کے ہمراہ سعد بن عبادہؓ، معاذ بن جبلؓ، ابی بن کعبؓ، زید بن ثابتؓ اور کئی اور لوگ تھے جب آپﷺ وہاں پہنچے تو بچے کو آپ کی گود میں دے دیا گیا بچہ جان کنی کی حالت میں تھا یہ دیکھ کر حضورﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ حضرت سعد بن عبادہؓ کہنے لگے۔ حضور یہ کیا! آپ رو رہے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا یہ رحم کے آنسو ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ہر بندے کے دل میں فطرۃ ودیعت کیا ہے اور اللہ تعالیٰ رحم کرنے والوں پر ہی رحم کرتا ہے۔
اسید بن ابی اسید نے ایک عورت سے روایت کی جو بیعت کرنے والیوں میں سے تھی اس نے کہا جن معروف باتوں پر رسول اللہ ﷺ نے ہم سے عہد لیا ان میں یہ عہد بھی شامل تھا کہ ہم اس (معروف بات) میں آپؐ کی نافرمانی نہیں کریں گی، (غم میں) چہرہ نہیں نوچیں گی اور نہ ہی ہلاکت کو بلائیں گی اور نہ گریبان پھاڑیں گی اور نہ اپنے بال بکھیریں گی۔
حضرت زینب بنت ابی سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں حضرت ام المومنین ام حبیبہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئی ان دنوں آپ کے والد حضرت ابو سفیانؓ فوت ہوئے تھے حضرت ام حبیبہؓ نے میری موجودگی میں زرد رنگ کی خوشبو منگوائی پہلے اپنی لونڈی کو لگائی پھر اپنا ہاتھ اپنے رخساروں پر ملا اور ساتھ ہی فرمایا خدا کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی خواہش نہیں مگر میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے آپﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا اللہ تعالیٰ اور آخری دن پر ایمان لانے والی کسی عورت کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی مرنے والے کا سوگ کرے البتہ بیوی اپنے خاوند کے مرنے پر چار ماہ دس دن سوگ میں گزارتی ہے اس حدیث کی راویہ زینب کہتی ہیں کہ اس کے بعد میں ام المومنین حضرت زینبؓ کی خدمت میں افسوس کے لئے حاضر ہوئی آپﷺ کے بھائی فوت ہو گئے تھے میری موجودگی میں انہوں نے بھی خوشبو منگوا کر لگائی اور فرمایا مجھے خوشبو لگانے کی کوئی خواہش نہیں صرف رسول اللہﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں ایسا کر رہی ہوں آپﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا تھا اللہ تعالیٰ اور یوم آخر پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مرنے والے کا تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اس بیوی کے جو اپنے خاوند کے مرنے پر چار ماہ دس دن سوگ میں رہتی ہے۔
قاسم بن محمدؒ بیان کرتے ہیں کہ میری بیوی فوت ہو گئی تو تعزیت کے لئے میرے پاس محمد بن کعب قرظیؒ تشریف لائے اور بسلسلہ تعزیت و تسلی یہ حکایت سنانے لگے کہ بنی اسرائیل میں ایک بڑا فقیہہ عالم اور عبادت گزار بزرگ شخص تھا، اس کی بیوی فوت ہو گئی جو بہت خوبصورت تھی اور اس کو بہت پیاری تھی۔ بیوی کے مرنے کی وجہ سے اس عالم کو بہت غم ہوا اور اس قدر افسوس ہوا کہ اس نے لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا اور گھر میں بند ہو کر بیٹھ گیا تاکہ اس کے پاس کوئی بھی نہ آ سکے۔ ایک عورت کو جب اس بات کا علم ہوا تو وہ آئی اور کہا کہ میں ایک اہم فتویٰ پوچھنے کے لئے اس سے ملنا چاہتی ہوں۔ آئے ہوئے تمام لوگ تو ملے بغیر چلے گئے لیکن یہ عورت جم کر بیٹھ گئی اور کہا کہ میں تو ملے بغیر نہیں جاؤں گی۔ اس عالم کو گھر والوں میں سے کسی نے جا کر بتایا کہ سب لوگ چلے گئے ہیں لیکن یہاں پر ایک عورت آئی ہوئی ہے وہ جانے کا نام نہیں لیتی، کہتی ہے کہ میں نے بالمشافہ ایک مسئلہ پوچھنا ہے۔ اس عالم نے کہا اچھا اس کو اندر آنے دو۔ اس عورت نے اندر جا کر اس عالم سے کہا کہ میں تم سے ایک فتویٰ پوچھنے آئی ہوں۔ عالم نے کہا پوچھو۔ عورت نے کہا میں نے اپنے پڑوسی سے کچھ زیور عاریتاً لیا تھا، میں اس زیور کو کافی عرصہ پہنتی رہی اب انہوں نے یہ زیور واپس مانگ بھیجا ہے، کیا مجھے یہ زیور جو مجھے بہت پسند ہے واپس کرنا ہو گا؟ دل تو اس کے واپس کرنے کو نہیں چاہتا۔ اس فقیہہ اور عالم نے کہا کیوں نہیں، اس زیور کا واپس کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ ان کا ہے۔ عورت کہنے لگی جی تو نہیں چاہتا۔ عالم نے جواب دیا دل کی بات نہیں جن کا مال ہے وہ واپس مانگنے کے حقدار ہیں اور تجھے یہ واپس کرنا ہی پڑے گا۔ یہ جواب سن کر وہ عورت کہنے لگی میاں! اللہ تجھ پر رحم کرے کیا تو ایسی چیز پر اتنا غم اور سوگ کر رہا ہے جو اللہ نے تجھے عاریتاً دی تھی اور پھر اپنی چیز واپس لے لی کیونکہ یہ اس کی امانت تھی اور اس نے اپنا ہی حق واپس لیا ہے۔ اس دانا عورت کی یہ بات سن کر اس عالم کی آنکھیں کھل گئیں، اسے صبر کی توفیق ملی اور معمول کی زندگی شروع کر دی۔