بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 8 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم پر مشکل اور سہولت اور بشاشت اور ناپسندیدگی اور اپنے پر ترجیح دیئے جانے پر (بھی) سننا اور اطاعت کرنا فرض ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سنو اور مانو، اگر تم پر ایک ایسا حبشی غلام ہی حاکم مقرر کیا گیا ہو کہ جس کا سر گویا ایک منقہ ہے۔
عبادہ بن ولید بن عبادہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی تنگی اور سہولت، بشاشت اور نا پسندیدگی اور اپنے پرترجیح (کی صورت) میں اور اس بات پر کہ اختیارات کے بارہ میں ذمہ دار لوگوں سے نزاع نہیں کریں گے اور اس بات پر کہ ہم جہاں بھی ہوں سچ کہیں گے اور اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اس نے یقینا اللہ کی اطاعت کی اور جو میری نافرمانی کرتا ہے وہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور جو امیر کی اطاعت کرتا ہے اس نے میری اطاعت کی اور جو امیر کی نافرمانی کرتا ہے اس نے یقینا میری نافرمانی کی۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سننا اور ماننا مسلمان مرد پر واجب ہے اس میں جو وہ پسند کرے اور (اس میں بھی) جو وہ ناپسند کرے اور یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک کہ معصیت کا حکم نہ دیا جائے۔ جب معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر نہ سننا ہے اور نہ اطاعت ہے۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا امام کی اطاعت اور فرمانبرداری ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے خواہ وہ امر اس کے لئے پسندیدہ ہو یا ناپسندیدہ۔ جب تک وہ امر معصیت نہ ہو لیکن جب امام (کھلی) معصیت کا حکم دے تو اس وقت اس کی اطاعت اور فرمانبرداری نہ کی جائے۔
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک شخص کو اس کا امیر بنا دیا اور لوگوں کو اس کی اطاعت کا حکم دیا کہ اس کی سنیں اور اطاعت کریں۔ پس اس نے آگ جلائی اور ان کو کہا اس میں داخل ہو جاؤ۔ پس کچھ لوگوں نے اس کی یہ بات ماننے سے انکار کیا اور کہا ہم تو آگ سے بھاگ کر آئے ہیں اور بعض لوگوں نے ارادہ کیا کہ اس میں داخل ہو جائیں۔ یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپؐ نے فرمایا کہ اگر وہ لوگ آگ میں داخل ہو جاتے تو وہ اسی میں رہتے۔ پھر آپؐ نے فرمایا اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت تو صرف معروف میں ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص اپنے امیر میں کوئی ناگوار یا بظاہر نظر بری بات دیکھے تو وہ صبر کرے یعنی جماعت سے وابستہ رہے۔ کیونکہ جو شخص تھوڑا سا بھی جماعت سے الگ ہو جاتا ہے اور تعلق توڑ لیتا ہے وہ جہالت کی موت مرتا ہے۔