حضرت عوف بن مالک ؓ اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ تمہارے بہترین امام وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔ تم ان کے لئے دعا کرتے ہو اور وہ تمہارے لئے دعا کرتے ہیں اور تمہارے بُرے آئمہ وہ ہیں جن سے تم نفرت کرتے ہو اور وہ تم سے نفرت کرتے ہیں تم ان پر لعنت ڈالتے ہو اور وہ تم پر لعنت ڈالتے ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم اس صورت میں ان کا مقابلہ نہ کریں ؟ آپؐ نے فرمایا نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں، نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں۔ غور سے سنو! وہ جس کا کوئی والی ہو اور وہ دیکھے کہ وہ اللہ کی نافرمانی کی بات کرتا ہے تو اس بات کو ناپسند کرے جو وہ خدا کی نافرمانی کی بات کرتا ہے لیکن اپنا ہاتھ اطاعت سے ہرگز باہر نہ نکالے۔
نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو لوگوں میں سے زیادہ محبوب اور اس کے زیادہ قریب انصاف پسند حاکم ہو گا۔ اور سخت ناپسندیدہ اور سب سے زیادہ دور ظالم حاکم ہو گا۔
(ترمذی کتاب الاحکام باب ما جاء فی امام الرعیۃ 1332)
ابوالحسن بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن مرہؓ نے حضرت معاویہؓ سے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو امام حاجتمندوں، ناداروں اور غریبوں کے لئے اپنا دروازہ بند رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی اس کی ضروریات وغیرہ کے لئے آسمان کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔ (حضور علیہ السلام کے اس ارشاد کو سننے کے بعد) حضرت معاویہؓ نے ایک شخص کو مقرر کر دیا کہ وہ لوگوں کی ضروریات اور مشکلات کا مداوا کیا کرے اور ان کی ضرورتیں پوری کرے۔
(ابوداؤد کتاب الدیات باب القود من الضربۃ و قص الامیر من نفسہ 4537)
حضرت ابو فراسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ایک تقریر میں کہا کہ میں نے اپنے عمال کو تمہارے پاس اس لئے نہیں بھیجا کہ وہ تمہیں ماریں پیٹیں اور تمہارا مال و اسباب چھین لیں۔ اگر کسی حاکم نے ایسا کیا ہے تو مجھے بتاؤ میں اس سے بدلہ دلاؤں۔ عمرو بن عاصؓ کہنے لگے اگر کوئی حاکم رعیت کے کسی فرد کو تادیب کی غرض سے سزا دے تو کیا آپ اس سے بھی بدلہ لیں گے۔ حضرت عمرؓ فرمانے لگے خدا کی قسم میں اس سے بھی بدلہ لوں گا۔ پھر آپﷺ نے فرمایا میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ نے خود اپنے آپ کو بدلہ کے لئے پیش کیا۔ (مقصد یہ ہے کہ ثبوت اور باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بغیر انتظامیہ کے کسی فرد کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کسی کو من مانی سزا دے)۔
(ابوداؤد کتاب الدیات باب القود من الضربۃ و قص الامیر من نفسہ 4536)
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص آپﷺ پر جھک گیا۔ آپﷺ نے اسے اپنی سوٹی چبھو کر پرے کیا۔ جس کی وجہ سے اس کا چہرہ کچھ زخمی ہو گیا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے اس شخص سے کہا کہ مجھ سے بدلہ لے لو اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے معاف کیا۔