بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 2 of 2 hadith
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مروان بن حکم اور حضرت مِسوَر بن مخرمہؓ سے سنا کہ وہ دونوں اس واقعہ کی خبر بیان کرتے تھے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عمرہ حدیبیہ میں پیش آیا تھا۔ عروہ نے ان دونوں سے روایت کرتے ہوئے مجھے جو بتایا اس میں یہ بھی تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے غزوہ حدیبیہ میں سہیل بن عمرو سے قضیہ معیادی کا صلح نامہ لکھوایا اور سہیل بن عمرو نے جو شرطیں کی تھیں ان میں سے اس نے یہ بھی کہا تھا: تمہارے پاس ہم میں سے جو کوئی جائے گا اور وہ تمہارے دین پر بھی ہوا تو تم نے اسے ہماری طرف لوٹا دینا ہوگا اور ہمارے اور اس کے درمیان کوئی دخل نہیں دوگے۔ سہیل نے انکار کردیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے بغیر اس کے صلح کرے۔ مومنوں نے اس شرط کو بُرا مانا اور پیچ و تاب کھانے لگے اور اس کے متعلق باتیں کرنے لگے۔ جب سہیل نے بغیر اس کے رسول اللہ ﷺ سے فیصلہ کرنے سے قطعی انکار کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے یہ شرط لکھنے کے لئے کہا اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوجندل بن سہیلؓ کو (جو مسلمان ہوچکے تھے) انہی ایام میں ان کے باپ سہیل بن عمرو کے پاس لوٹا دیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس جو مرد بھی (قریش سے) آتا تو آپؐ میعادی صلح کے دوران اسے واپس کردیتے گو وہ مسلمان ہی ہوتا اور چند مومن عورتیں بھی ہجرت کرکے آئیں۔ حضرت امّ کلثومؓ بنت عقبہ بن ابی معیط بھی ان لوگوں میں سے تھیں جو رسول اللہ ﷺ کے پاس نکل کر آئے اور وہ ابھی ابھی بالغ ہوئی تھیں۔ ان کے رشتہ دار آئے، رسول اللہ ﷺ سے درخواست کرنے لگے کہ وہ اسے ان کو واپس کردیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کی بابت وحی نازل کی (کہ وہ واپس نہ کی جائیں)۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپؐ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا کہ اس نے بنی اسرائیل میں سے کسی دوسرے شخص سے ایک ہزار اَشرفیاں قرض مانگیں تو اُس نے کہا میرے پاس کوئی گواہ لے آؤ۔ میں ان کو گواہ ٹھہرا ؤں (اور رقم دے دوں) تو اس نے کہا اللہ ہی کافی گواہ ہے۔ اس نے کہا پھر (اپنا) کوئی ضامن پیش کرو۔ اس نے کہا اللہ ہی کافی ضامن ہے۔ اس نے کہا تم نے سچ کہا اور اُس کو ایک مقررہ میعاد کے لئے (اشرفیاں) دے دیں۔ (جس نے قرض لیا تھا) اس نے سمندر کا سفر کیا اور اپنا کام سرانجام دیا اور اس کے بعد جہاز کی تلاش کی کہ جس پر وہ سوار ہو کر اُس کے پاس اس میعاد پر پہنچے جو اس نے مقرر کی تھی۔ مگر اس نے کوئی جہاز نہ پایا۔ آخر اس نے ایک لکڑی لی اور اسے کریدا اور اس میں ایک ہزار اشرفیاں اور اپنا ایک خط اپنے دوست کے نام رکھ دئیے۔ پھر اس کا منہ بند کردیا اور پھر اسے لے کر سمندر پر آیا اور کہا اے میرے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار اشرفیاں قرض لی تھیں اور اس نے مجھ سے ضامن مانگا تھا اور میں نے کہا تھا: اللہ تعالیٰ ہی کافی ضامن ہے اور وہ تیرا نام سن کر راضی ہوگیا اور اُس نے مجھ سے گواہ مانگا تھا اور میں نے کہا تھا: اللہ ہی کافی گواہ ہے اور وہ تیرا نام سن کر راضی ہو گیا تھا۔ اور میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی جہاز پا ؤں کہ تا اس کا مال اس کو بھیج دوں مگر مَیں نہ کر سکا اور اَب میں یہ مال تیرے سپرد کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر اُس نے وہ لکڑی سمندر میں ڈال دی، یہاں تک کہ وہ سمندر میں آگے چلی گئی۔ پھر اس کے بعد وہ واپس (گھر کو) لوٹا اور جہاز کی تلاش میں رہا۔ تا اپنے ملک کو واپس آجائے۔ وہ شخص جس نے اس کو قرض دیا ہوا تھا، ایک دن باہر نکلا کہ دیکھے شائد کوئی جہاز اس کا مال (روپیہ) لے کر آیا ہو تو اُس کی نظر اُس لکڑی پر پڑی جس کے اندر مال رکھا ہوا تھا۔ وہ اسے اپنے گھروالوں کے لئے ایندھن سمجھ کر لے گیا۔ جب اس نے اس کو چیرا، اس میں مال اور خط پایا۔ پھر کچھ مدت کے بعد وہ شخص بھی آپہنچا جس کو اس نے مال قرض دیا تھا۔ وہ ایک ہزار دینار اپنے ساتھ لایا اور کہا اللہ کی قسم! میں نے جہاز کی انتہائی تلاش کی تا تمہارا مال تمہیں واپس کروں۔ مگر جس جہاز میں مَیں آیا ہوں، اس سے پہلے میں نے کوئی جہاز نہیں پایا تو قرض خواہ نے کہا کیا تو نے کوئی (رقم) میرے لئے بھیجی تھی؟ اس نے کہا کہ میں تجھے بتاتا ہوں کہ مجھے اس جہاز کے سوا جس میں اب آیا ہوں کوئی جہاز نہیں ملا۔ قرض خواہ نے کہا اللہ نے تیری طرف سے وہ مال مجھے پہنچا دیا ہے جو تو نے لکڑی میں بند کرکے بھیجا تھا۔ پس تو اطمینان سے ہزار اشرفیاں لے کر واپس لوٹ جا۔