بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 16 hadith
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا۔ آپؐ نے مجھے دیا۔ پھر میں نے آپؐ سے مانگا۔ پھر آپؐ نے دیا۔ پھر میں نے آپؐ سے مانگا۔ پھر آپؐ نے دیا۔ پھر فرمایا حکیم! یہ مال تو ہرا بھرا میٹھا ہے۔ جس نے اس کو سخاوتِ نفس (یعنی استغناء) سے لیا تو اس کے لئے اس (مال) میں برکت دی جائے گی اور جس نے نفس کے لالچ سے لیا، اُس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جائے گی اور وہ اسی شخص کی مانند ہوگا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ حضرت حکیمؓ کہتے تھے کہ میں نے کہا یا رسول اللہ! اُسی کی قسم جس نے آپؐ کو سچائی دے کر بھیجا ہے، میں آپؐ کے سوا کسی سے بھی کچھ نہیں لوں گا یہاں تک کہ دنیا سے چلا جا ؤں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت حکیمؓ کو وظیفہ دینے کے لئے بلاتے تو وہ اُن سے وظیفہ لینے سے انکار کر دیتے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں بلایا کہ انہیں وظیفہ دیں تو بھی انہوں نے انکار کر دیا کہ اُن سے کچھ لیں۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا اے مسلمانوں کی جماعت! میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں حکیم کو میں (بیت المال کی) آمدنی سے اُن کا حق پیش کرتا ہوں اور وہ انکار کرتے ہیں۔ اُسے نہیں لیتے۔ چنانچہ حضرت حکیمؓ نے رسول اللہ ﷺ کے سوا لوگوں میں سے کسی سے کچھ نہیں لیا، یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے۔
حضرت ابو امامہ بن باہلیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک موقع پر فرمایا مجھ سے کون عہد باندھتا ہے۔ رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں عہد باندھنے کے لئے تیار ہوں۔ آپؐ نے فرمایا تو عہد کرو کہ تم کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگو گے۔ اس پر ثوبان نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس عہد کا اجر کیا ہو گا؟ آپؐ نے فرمایا اس کے بدلہ میں جنت ملے گی۔ اس پر ثوبان نے آپؐ کے اس عہد پر عمل کرنے کا اقرار کیا۔ ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ثوبان کو مکہ میں دیکھا کہ سخت بھیڑ کے باوجود سواری کی حالت میں اگر آپؓ کے ہاتھ سے چابک بھی گر جاتا تو خود اتر کر زمین پر سے اٹھاتے اور اگر کوئی شخص خود ہی انہیں چابک پکڑانا چاہتا تو نہ لیتے بلکہ خود اتر کر اٹھاتے۔
قبیصہ بن مخارق ہلالی ؓ کہتے ہیں میں نے ایک مالی ذمہ داری قبول کرلی تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس بارہ میں سوال کے لئے گیا۔ آپؐ نے فرمایا ٹھہرو یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ کا مال آجائے۔ پھر ہم تمہارے لئے اس کے بارہ میں حکم دیں گے۔ وہ کہتے ہیں آپؐ نے فرمایا اے قبیصہ سوال کرنے کی تین میں سے ایک کو اجازت ہے۔ وہ شخص جو مال کی ذمہ داری اٹھائے اس کے لئے مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ اس کو حاصل کرلے پھر وہ (سوال سے) رک جائے ایک وہ شخص جس پر کوئی ایسی مصیبت آئے جو اس کے مال کو ضائع کر دے اس کے لئے سوال کرنا جائز ہے۔ یہاں تک کہ اس کی معیشت کے لئے سہارا مل جائے یا معیشت کا رخنہ بھر جائے اور ایک وہ شخص جسے فاقے کا سامنا ہو۔ یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھدار لوگ گواہی دیں کہ فلاں شخص کو فاقہ نے آ لیا ہے تو اس کے لئے سوال جائز ہے یہاں تک کہ اس کی معیشت کے لئے سہارا مل جائے یا معیشت کا رخنہ بھر جائے۔ اس کے سوا سوال کرنا اے قبیصہ حرام ہے۔ اس کا مرتکب حرام کھاتا ہے۔
حضرت ابو کبشہ انماری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تین باتوں کے مؤثر ہونے کے بارہ میں میں قسم کھا سکتا ہوں تم ان باتوں کو یاد رکھو۔ اول یہ کہ صدقہ سے کسی کا مال کم نہیں ہوتا۔ دوسرے کوئی مظلوم جب ظلم پر صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کو عزت دیتا ہے۔ تیسرے جب کوئی انسان اپنے لئے سوال اور مانگنے کا دروازہ کھول لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ غربت اور احتیاج کا دروازہ اس پر کھول دیتا ہے۔ یاد رکھو دنیا میں رہنے والے چار قسم کے انسان ہو سکتے ہیں ایک وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال اور علم دیا اور وہ اس نعمت کی وجہ سے اپنے رب سے ڈرتا ہے، رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے۔ یہ تو سب سے اعلیٰ درجہ کا انسان ہے۔ دوسرا وہ انسان جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا لیکن مال نہیں دیا اور سچی نیت سے کہتا ہے کہ اگر مجھے مال بھی ملتا تو میں فلاں سخی کی طرح اپنے مال کو خرچ کرتا۔ ایسے شخص کو اس کی نیت کا ضرور ثواب ملے گا اور پہلے آدمی کے برابر اس کا درجہ ہو گا۔ تیسرا وہ انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال تو دیا ہے لیکن علم نہیں دیا۔ چنانچہ وہ اپنے مال کو سوچے سمجھے بغیر بے جا خرچ کرتا ہے اور اس خرچ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا۔ صلہ رحمی اور رشتہ داروں سے حسن سلوک نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کے حق کو نہیں پہچانتا۔ یہ انسان بڑا بدقسمت اور بدکردار ہے۔ چوتھے وہ انسان جس کو اللہ تعالیٰ نے نہ مال دیا ہے اور نہ علم، لیکن آرزو رکھتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں بھی اس بدکردار شخص کی طرح اسے خرچ کروں اور عیش و عشرت میں زندگی بسر کروں۔ پس ایسے بدنہاد شخص کو بھی اس کی نیت کا بدلہ ملے گا اور اس کا انجام اس تیسرے شخص کی طرح بلکہ اس سے بھی بدتر ہو گا۔
عطاء بن یسار اور عبدالرحمن بن ابی عمرہ انصاری دونوں نے کہا کہ ہم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسکین وہ نہیں جس کو ایک کھجور یا دو کھجوریں لوٹا دیں اور نہ وہ جس کو ایک لقمہ یا دو لقمے لوٹا دیں بلکہ مسکین تو وہ شخص ہے جو سوال کرنے سے بچتا رہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کے پاس گھومتا پھرے۔ ایک دو لقمے اور ایک دو کھجوریں اُس کو دَر بدر لے جائیں۔ بلکہ مسکین وہ ہے جو اتنا مال نہیں پاتا کہ اس کی ضرورتوں کو پورا کر دے اور نہ اُس کا حال کسی کو معلوم ہو کہ اس کو صدقہ دے اور نہ وہ اُٹھ کر لوگوں سے سوال کرتا پھرتا ہو۔