بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 473 hadith
عباد بن تمیم اپنے چچا حضرت عبداللہؓ بن زید بن عاصم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیمؑ نے مکہ کی حرمت قائم کی تھی اور اس کے رہنے والوں کے لئے دعا کی تھی اور میں نے مدینہ کی حرمت قائم کی ہے جیسے ابراہیمؑ نے مکہ کی حرمت قائم کی تھی اور میں نے اس کے صاع اور مدّ کے لئے حضرت ابراہیمؑ سے دو گنی دعا کی ہے جتنی دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اہلِ مکّہ کے لئے کی تھی۔ ایک روایت میں (مِثْلَیْ کی بجائے) مِثْلَ کے الفاظ ہیں۔
عاصم الاحول کہتے ہیں میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا کیا رسول اللہﷺ نے مدینہ کی حُرمت قائم کی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں، یہ حُرمت والاہے۔ اس کی گھاس(تک) نہ کاٹی جائے اور جو ایسا کرے اس پر اللہ اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے کہا اے اللہ! ان کے ماپنے کے پیمانوں میں برکت ڈال اور ان کے صاع میں ان کے لئے برکت رکھ دے اور ان کے مدّ میں (بھی) ان کے لئے برکت ڈال۔
حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی حُرمت قائم کی تھی اور میں اس کے لاوے کے دو میدانوں کے درمیانی علاقہ کی حُرمت قائم کرتا ہوں۔ آپؐ کی مراد مدینہ سے تھی۔
نافع بن جُبیر سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے لوگوں سے خطاب کیا اور مکہ اور اس کے رہنے والوں اور اس(مکہ) کی حُرمت کا ذکر کیا اور اس نے مدینہ اور اس کے رہنے والوں اور اس کی حُرمت کا ذکر نہ کیا۔ حضرت رافع بن خدیج ؓ نے اس کو آواز دی اور کہامجھے کیا ہوا ہے میں تمہیں سنتا ہوں کہ تم نے مکہ اور اس کے رہنے والو ں اور اس کی حُرمت کا ذکر کیا ہے مگرتم نے مدینہ اور اس کے رہنے والوں اور اس کی حُرمت کا ذکر نہیں کیا حالانکہ رسول اللہﷺ نے اس کے دو لاوے کے میدانوں کے درمیان جو ہے اس کی حُرمت قائم فرمائی تھی اور یہ ہمارے پاس ایک خولانی٭ چمڑے میں لکھا ہوا ہے اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں یہ پڑھ کر سنادیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں مروان خاموش رہا اور اس نے کہا میں نے کچھ ایسی بات سنی ہے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نبیﷺ نے فرمایاحضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی حُرمت قائم کی تھی اور میں نے مدینہ کی حُرمت قائم کی ہے جو اِن دو لاوے کے میدانوں کے درمیان ہے۔ اس کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں اور اس میں شکار نہ کیا جائے۔
عا مر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا میں مدینہ کے لاوے کے دو میدانوں کے درمیان جو بھی ہے اس کی حرمت قائم کرتاہوں۔ اس کے کانٹے دار درخت بھی نہ کاٹے جائیں نہ ہی اس کا شکار مارا جائے اور فرمایا مدینہ ان کے لئے بہتر ہے اگر وہ جانتے اور کوئی شخص اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے اسے نہیں چھوڑے گا مگر اللہ تعالیٰ اس سے بہتر شخص مدینہ میں لائے گا اور کوئی بھی شخص یہاں کی بھوک اور مشقت برداشت نہیں کرے گامگر میں قیامت کے دن اس کا شفیع یا اس پر گواہ ہوں گا۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کوئی شخص اہلِ مدینہ سے بُرائی کا ارادہ نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح آگ میں پگھلا دے گا جس طرح سیسہ پگھلتا ہے یا نمک پانی میں پگھلتا ہے۔
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ حضرت سعدؓ، عقیق میں واقع اپنے محل کی طرف سوار ہوکر روانہ ہوئے تو انہوں نے ایک شخص کو درخت کاٹتے یا اس کے پتے جھاڑتے دیکھا۔ آپؓ نے اس سے وہ چھین لئے۔ جب سعدؓ واپس آئے تو اس غلام کا مالک اُن کے پاس آیا اور اُن سے بات کی کہ ان کے غلام کو یا ان کو واپس کردیں جو ان کے غلام سے انہوں نے لیا ہے۔ انہوں نے کہا اللہ کی پناہ! کہ میں وہ چیزیں واپس کروں جو رسول اللہﷺ نے مجھے دی ہیں اور انہیں واپس دینے سے انکار کردیا٭۔
عبداللہ بن حنطب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے حضرت ابو طلحہؓ سے فرمایا اپنے لڑکوں میں سے میرے لئے کوئی ایک تلاش کرو جو میری خدمت کرے۔ حضرت ابو طلحہؓ مجھے اپنے پیچھے بٹھا کر لے چلے تومیں رسول اللہﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا جب بھی آپؐ (سفر میں )پڑاؤ کرتے۔ اور روایت میں انہوں نے یہ بھی بتایا پھرآپؐ واپس تشریف لائے یہانتک کہ احد پہاڑ آپؐ کے سامنے آیا تو آپؐ نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمیں اس سے محبت ہے پھر جب آپؐ نے مدینہ کو بلندی سے جھانکا تو کہا اے اللہ! میں نے ان دو پہاڑوں کے درمیان جو کچھ ہے اس کی حرمت قائم کی ہے جیسے ابراہیم ؑ نے مکہ کی حُرمت قائم کی تھی۔ اے اللہ!ان کے مدّمیں اور صاع میں برکت دے۔ ایک اور روایت میں جَبَلَیْھَا کی بجائے لَابَتَیَْھَا کے الفاظ ہیں۔
عاصم بیان کرتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے پوچھا کیا رسول اللہﷺ نے مدینہ کی حُرمت قائم کی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں، فلاں جگہ سے فلاں جگہ کے درمیان اور جو شخص اس میں کوئی نئی بات پیدا کرے۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے مجھ سے کہا یہ بڑی سخت بات ہے۔ جو اس میں کوئی نئی بات پیدا کرے۔ تو اس پر اللہ کی اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کوئی سونااور کوئی معاوضہ قبول نہیں کرے گا۔ راوی کہتے ہیں ابن انسؓ کی روایت میں وَآوَی مُحْدِثًا کے الفاظ ہیں یعنی اس نے کسی بدعتی کو پناہ دی۔