بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت جابرؓ نے اپنے کانوں سے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو دوزخ سے نکال لے گا اور انہیں جنت میں داخل کرے گا۔ : 272 حماد بن زید کہتے ہیں کہ کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا کیا آپ نے حضرت جابرؓ بن عبداللہ کو رسول اللہﷺ سے یہ روایت کرتے ہوئے سنا ہے کہ یقینا اللہ شفاعت کی وجہ سے ایک (بڑی)قوم کو آگ سے نکالے گا؟ انہوں نے کہا ہاں۔
حماد بن زید کہتے ہیں کہ کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا کیا آپ نے حضرت جابرؓ بن عبداللہ کو رسول اللہﷺ سے یہ روایت کرتے ہوئے سنا ہے کہ یقینا اللہ شفاعت کی وجہ سے ایک (بڑی)قوم کو آگ سے نکالے گا؟ انہوں نے کہا ہاں۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا ایک قوم کو آگ سے نکالا جائے گا وہ اس(آگ) میں جل جائیں گے سوائے ان کے چہروں کی گولائی کے یہانتک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
یزید الفقیر کہتے ہیں کہ خوارج کی ایک رائے میرے دل میں کھُب گئی۔ ٭ ہم ایک بڑی جماعت کے ساتھ نکلے۔ ہمارا ارادہ تھا کہ حج کریں گے پھر لوگوں کے خلاف خروج کریں گے۔ جب ہم مدینہ سے گزرے تو حضرت جابر بن عبداللہؓ ایک ستون کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو رسول اللہﷺ کی احادیث سنا رہے تھے۔ اسی اثناء میں انہوں نے جہنمیوں کا ذکر کیا تو مَیں نے ان سے کہا اے صحابی رسول اللہﷺ ! آپ کیا روایتیں سنا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے {اِنَّکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَہُ }(آلِ عمران: 193)یعنی جس کو تو نے آگ میں داخل کر دیا اسے رسوا کر دیا اور {کُلَّمَا اَرَادُوْا اَنْ یَخْرُجُوْا مِنْھَا اُعِیْدُوا فِیْھَا} (السجدہ: 21) یعنی وہ جب بھی نکلنے کا ارادہ کریں گے اس میں لوٹا دئیے جائیں گے۔ یہ آپ کیا باتیں کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ مَیں نے کہا ہاں۔ انہوں نے کہا کیا تم نے محمد علیہ السلام کے مقام کے بارہ میں کچھ سنا ہے؟ جس پر اللہ انہیں (قیامت کے دن) فائز فرمائے گا؟ میں نے کہا ہاں۔ انہوں نے کہا محمدﷺ کا مقام تو مقامِ محمود ہے جس کی بدولت اللہ اس کو نکالے گا جس کو نکالے گا۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے پلِ صراط کے رکھے جانے کا اور لوگوں کا اس پر سے گزرنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا مجھے ڈر ہے کہ مجھے وہ سب کچھ یادنہیں رہا۔ ہاں یہ ضرور کہا کہ لوگ آگ میں سے نکلیں گے بعد اس کے کہ وہ اس میں تھے۔ راوی کہتے ہیں وہ اس حال میں نکلیں گے کہ گویا وہ تِلوں کے پودوں کی لکڑیاں ہیں ٭۔ پھر وہ جنت کے ایک دریا میں داخل ہوں گے اور اس میں غسل کریں گے اور جب نکلیں گے تو گویا کہ وہ (سفید)کاغذ ہیں۔ یہ سُن کر ہم لوٹے اور کہنے لگے تمہارا بُرا ہو۔ کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ بزرگ رسول اللہﷺ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ پھر ہم لوٹ گئے اور خدا کی قسم! ہم میں سے سوائے ایک شخص کے کوئی (لوگوں پر حملہ کے لئے) نہ نکلا۔
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا اور لوگ اس وجہ سے فکر مند ہوں گے۔ ابن عبید کہتے ہیں اس لئے ان کے دلوں میں ڈالا جائے گا تو وہ کہیں گے کیوں نہ ہم اپنے رب کے پاس کسی کی شفاعت لے کر جائیں تاکہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دلائے۔ فرمایاچنانچہ وہ آدمﷺ کے پاس جائیں گے اور کہیں گے آپ آدم ہیں ابو البشر ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا اور انہوں نے آپ کی خاطر سجدہ کیا آپ اپنے رب کے پاس ہماری شفاعت کریں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے۔ آدم کہیں گے میں تو اس مقام پر نہیں ہوں اور اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جو ان سے سرزد ہوئی تھی اور جس کی وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے اور (کہیں گے) نوح ؑ کی طرف جاؤ جو پہلے رسول تھے جنہیں خدا نے مبعوث فرمایا۔ پھر لوگ نوحﷺ کے پاس جائیں گے۔ وہ کہیں گے میں تو اس مقام پر نہیں ہوں اور اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جو اُن سے ہوئی اور وہ اس وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے اور (کہیں گے) ابراہیمﷺ کے پاس جاؤ جن کو خدا نے گہرا دوست بنایا تھا۔ اس پر لوگ ابراہیمﷺ کے پاس جائیں گے تو وہ کہیں گے میں اس مقام پر نہیں ہوں اور اپنی اس غلطی کا ذکر کریں گے اور جو ان سے ہوئی تھی اور اس وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے (اور کہیں گے) موسیٰﷺ کے پاس جاؤ جن سے خدا نے خوب کلام کیا اور انہیں تورات دی۔ فرمایا تو لوگ موسٰیﷺ کے پاس جائیں گے مگر وہ کہیں گے میں اس مقام پر نہیں ہوں۔ وہ اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جو ان سے ہوئی تھی اور اس کی وجہ سے اپنے رب (کے پاس جانے) سے شرمائیں گے(اور کہیں گے) عیسیٰؑ کے پاس جاؤ جو روح اللہ اور اس کا کلمہ ہے۔ چنانچہ وہ عیسیٰؑ کے پاس جو روح اللہ اور اس کا کلمہ ہے جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ میں اس مقام پر نہیں ہوں لیکن تم محمدﷺ کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے عبد ہیں جنہیں خدا نے اگلے پچھلے گناہوں سے منزہ کیا ہوا ہے۔ ٭ ر اوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا تب وہ میرے پاس آئیں گے۔ میں اپنے رب کے پاس آنے کی اجازت چاہوں گا تو مجھے اجازت دی جائے گی۔ جب میں اس کو دیکھوں گا تو سجدہ میں گر جاؤں گا۔ اللہ مجھے(اس حالت میں ) رہنے دے گا جب تک وہ چاہے گا پھر کہا جائے گا اے محمدؐ !اپنا سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری سنی جائے گی، مانگو تمہیں دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر میں اپناسر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی وہ حمد کروں گا جومیرا رب مجھے سکھائے گا پھر میں شفاعت کروں گا اور میرے لئے وہ ایک حد مقرر کر دے گا۔ میں ان کو جہنم سے نکال لوں گا پھر میں دوبارہ واپس آؤں گا اور سجدہ میں گروں گا اور جب تک اللہ چاہے گا مجھے سجدہ میں رہنے دے گا پھر کہا جائے گا اے محمدؐ ! اپناسر اٹھاؤ، کہو تمہاری سنی جائے گی مانگو تمہیں دیا جائے گا شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ تب میں اپناسر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی وہ حمد کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں شفاعت کروں گا وہ میرے لئے حد مقرر کر دے گا۔ میں ان کو جہنم سے نکال لوں گااور جنت میں داخل کردوں گا۔ راوی کہتے ہیں مجھے یادنہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ آپؐ نے فرمایا میں کہوں گا اے میرے رب اب جہنم میں صرف وہ رہ گئے ہیں جن کو قرآن نے روک رکھا ہے یعنی جن پرلمبا عرصہ رہنا واجب ہے۔ ابن عبید کی روایت میں ہے کہ قتادہ نے کہا یعنی وَجَبَ عَلَیْہِ الْخُلُوْدُ۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ قیامت کے دن مومن جمع ہوں گے اور اس وجہ سے وہ فکرمند ہوں گے یا یہ کہ ان کے دلوں میں ڈالا جائے گا۔ ابوعوانہ کی روایت کے مطابق پھر میں اس کے پاس چوتھی دفعہ آؤں گا یا چوتھی دفعہ لوٹوں گا اور میں کہوں گا اے میرے رب! (جہنم میں ) سوائے اس کے کوئی نہیں جسے قرآن نے روک رکھا ہو۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کہ اللہ قیامت کے دن مؤمنوں کو جمع کرے گاپھر ان کے دل میں ڈالا جائے گا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ چوتھی مرتبہ مَیں عرض کروں گا اے میرے رب! اب آگ میں سوائے اس کے کوئی نہیں جسے قرآن نے روک رکھا ہو یعنی جس پر لمبا عرصہ رہنا واجب ہو گیا ہو۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا وہ شخص آگ سے نکل آے گاجس نے لا الٰہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں جو کے وزن کے برابر خیر ہے۔ پھر وہ دوزخ سے نکل آئے گاجس نے لا الٰہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں گندم کے دانہ کے برابر خیر ہے۔ پھر وہ دوزخ سے نکل آئے گاجس نے لا الٰہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں چیونٹی کے وزن کے برابر خیر ہے۔شعبہ نے لفظ اَلْذَّرَّۃُ کی بجائے ذُرَۃً (مکئی) کا لفظ بولا ہے۔ یزید کہتے ہیں کہ ابو بسطام نے اس کے لکھنے میں غلطی کی ہے۔
معبد بن ہلال العنزی ّ سے روایت ہے کہ ہم حضرت انس بن مالکؓ کے پاس چلے اور ثابت کو ان کے پاس بطور سفارشی لے گئے۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ثابت نے ہماری اجازت طلب کی تو ہم ان کے پاس گئے۔ انہوں نے ثابت کو اپنے ساتھ اپنے تخت پر بٹھایا۔ پھر انہوں نے ان سے کہا اے ابو حمزہ! ا ہلِ بصرہ میں سے آپ کے بھائی آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان سے شفاعت کی حدیث بیان کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں محمدﷺ نے بتایا جب قیامت کا دن ہوگا لوگ باہم متلاطم ہوں گے پھر آدمؑ کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اپنی ذریت کے لئے شفاعت کریں، تب وہ کہیں گے میں اس قابل نہیں ہوں لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ خلیل اللہ ہیں۔ پھر وہ ابراہیمؑ کے پاس جائیں گے تو وہ بھی (یہی)کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ کلیم اللہ ہیں۔ جب وہ موسیٰ ؑ کے پاس جائیں گے تو وہ کہیں گے میں اس قابل نہیں ہوں لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ روح اللہ اور اس کا کلمہ ہے۔ پھر وہ عیسیٰ ؑ کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں لیکن تم محمدﷺ کے پاس جاؤ پھر وہ میرے پاس آئیں گے تو میں کہوں گا یہ میرا ہی کام ہے۔ پھر میں جاؤں گا اور اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا اور مجھے اجازت دی جائے گی۔ پھر میں اس کے سامنے کھڑا ہوں گااورمیں اس کے ایسے محامد بیان کروں گا جو میں اب نہیں کر سکتاجو اللہ مجھ پر الہام فرمائے گا۔ پھر میں اس کے حضور سجدہ میں گر جاؤں گا پھر مجھ سے کہا جائے گا اے محمدؐ !اپنا سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری سنی جائے گی۔ مانگوتمہیں عطا کیا جائے گا اور شفاعت کر و، تمہاری شفاعت قبول کر لی جائے گی۔ تب میں عرض کروں گا اے میرے رب! میری امت، میری امت۔ تب کہا جائے گا جاؤ اور جس کے دل میں ایک دانہ گندم یا جو کے برابر بھی ایمان ہے اسے اس (جہنم)میں سے نکال لو۔ پس میں جاؤں گااور (ویساہی) کروں گا پھر میں اپنے رب کے پاس واپس جاؤں گا اور ان محامد کے ساتھ اس کی حمد کروں گا اور پھر اس کے حضور سجدہ میں گر جاؤں گا۔ تو مجھ سے کہا جائے گا اے محمدؐ ! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری سنی جائے گی اور مانگو، تمہیں دیا جائے گا اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا میری امت، میری امت۔ مجھے کہا جائے گا جاؤ، جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر (بھی) ایمان ہے اسے (آگ) سے باہر نکال دو۔ چنانچہ میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا۔ پھر میں اپنے رب کے پاس واپس جاؤں گا اور ان محامد کے ساتھ اس کی حمد کروں گا اور پھر اس کے حضور سجدہ میں گر جاؤں گا۔ تو مجھ سے کہا جائے گا اے محمدؐ ! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری سنی جائے گی اور مانگو، تمہیں دیا جائے گا اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا میری امت، میری امت۔ مجھے کہا جائے گا جاؤ، جس کے دل میں رائی کے دانہ کے وزن سے کم، کم، کم، ایمان ہے اسے آگ سے نکال دیں۔ چنانچہ میں جاؤں گا اور (ایسا ہی) کروں گا۔ یہ حضرت انسؓ کی روایت ہے جو انہوں نے ہم سے بیان کی۔ پس ہم ان کے پاس سے نکلے۔ جب ہم جبان کی چوٹی پر پہنچے تو ہم نے کہا کیوں نہ ہم حسن (بصری) کی طرف جائیں اور انہیں سلام کہیں۔ جبکہ وہ ابو خلیفہ کے گھر میں چھپے ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں پھر ہم ان کے پاس گئے اور ا نہیں سلام کیا اور ہم نے کہا اے ابو سعید! ہم آپ کے بھائی ابو حمزہ کے پاس سے آپ کے پاس آئے ہیں۔ شفاعت کے بارہ میں جو روایت انہوں نے ہمیں بتائی ہے اس جیسی روایت ہم نے (پہلے) کبھی نہیں سنی تھی۔ انہوں نے کہا بیان کرو۔ پھر ہم نے انہیں وہ روایت بتائی تو انہوں نے کہا اور بتاؤ، ہم نے کہا اس سے زیادہ انہوں نے نہیں بتائی۔ انہوں نے کہا ہمیں انہوں نے یہ حدیث بیس برس پہلے بتائی تھی ان دنوں وہ خوب صحت مند تھے۔ یقینا وہ کچھ چھوڑ گئے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ شیخ بھول گئے ہیں یا انہوں نے تمہیں بتانا پسندنہیں کیا کہ تم اس پر تکیہ کر بیٹھوگے۔ ہم نے ان سے کہا ہمیں بتائیے۔ اس پر وہ ہنس پڑے اور کہا انسان میں جلد بازی کا مادہ رکھا گیا ہے۔ میں نے صرف اس لئے ہی اس کا ذکر کیا ہے تاکہ میں تمہیں اس کے بارہ میں بتاؤں (کہ حضورؐ نے فرمایا تھا) پھر میں چوتھی مرتبہ اپنے رب کی طرف لوٹوں گا اور انہی محامد کے ساتھ اس کی حمد کروں گا۔ پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو مجھ سے کہا جائے گا اے محمدؐ !اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری سنی جائے گی اور مانگو تمہیں دیاجائے گا اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر میں عرض کروں گا اے میرے رب! ان کے بارہ میں جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا مجھے اجازت عطاء فرما۔ وہ فرمائے گا یہ تیرے لئے نہیں ہے یا فرمایا یہ تیرے سپردنہیں ہے لیکن میری عزّت، میری کبریائی، میری عظمت اور میری جبروت کی قسم ہے۔ میں ضرور اسے (دوزخ سے) نکال لوں گا جس نے لا الہ الا اللہ کہا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ حسن نے اس حدیث کے بارہ میں ہمیں بتایا جو انہوں نے حضرت انسؓ بن مالکؓ سے سنی۔ میرا خیال ہے انہوں نے کہاتھا کہ یہ بیس برس پہلے کی بات ہے جب وہ خوب صحت مند تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہﷺ کے پاس گوشت لایا گیا اور دستی آپؐ کی خدمت میں پیش کی گئی اور یہ آپؐ کو پسند تھی۔ آپؐ نے اس میں سے کچھ منہ سے کاٹا اور فر مایا قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار ہوں گا۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیونکر ہوگا؟ قیامت کے دن اللہ اولین اور آخرین کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ اور ایک بلانے والا انہیں آواز سنائے گا اور نظرکی رسائی ان سب تک ہو گی اور سورج قریب آجائے گا اور لوگوں کو ایسا غم اور ایسی تکلیف پہنچے گی جس کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں گے اور نہ اس کے متحمّل ہوں گے۔ اس وقت لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ تم کس حال میں ہو؟ کیا تمہیں پتہ نہیں کہ تمہاری حالت کہاں تک پہنچ گئی ہے؟کیا تمہیں کوئی ایسا نظر نہیں آرہا جو تمہارے رب کے حضور تمہاری شفاعت کرے؟ تب لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے آدمؑ کے پاس جاؤ۔ پھر وہ آدم ؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے آدمؑ آپ ابو البشر ہیں۔ اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیااورآپ میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو اس نے حکم دیاتو انہوں نے آپ کے لئے سجدہ کیا۔ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کر یں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا تکلیف پہنچی ہے۔ پھرحضرت آدم ؑ کہیں گے کہ یقینا آج میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے قبل اتنا غضبناک کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی اس جیسا غضبناک کبھی اس کے بعد ہوگا اس نے مجھے درخت سے منع کیا تھامگرمیں نے اس کی نافرمانی کی۔ مجھے تواپنی فکر ہے۔ کسی اور کے پاس جاؤ۔ نوح ؑ کے پاس جاؤ۔ پھر وہ نوح ؑ کے پاس جائیں گے اور عرض کریں گے اے نوحؑ ! آپ زمین کی طرف سب سے پہلے رسول ہیں اور اللہ نے آپ کو عبد شکور کا نام دیا ہے۔ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کر یں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا تکلیف پہنچی ہے۔ پھر وہ ان سے کہیں گے کہ یقینا آج میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے قبل اتنا غضبناک کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی اس جیسا غضبناک کبھی اسکے بعد ہوگا۔ میری ایک دعا تھی جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کی تھی۔ پس مجھے تو اپنی فکر ہے۔ تم ابراہیمﷺ کے پاس جاؤ۔ پھر وہ ابراہیمؑ کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے آپ اللہ کے نبی اور زمین والوں میں سے اس کے دوست ہیں۔ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کریں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا تکلیف پہنچی ہے۔ پھرحضرت ابراہیمؑ کہیں گے کہ یقینا آج میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے قبل اتنا غضبناک کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی آئندہ کبھی اتناغضبناک ہوگا نیز انہوں نے اپنی غلطیوں کا بھی ذکر کیا٭(اورکہا کہ) مجھے تو اپنی فکر ہے تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ موسیٰ ؑ کے پاس جاؤ۔ پھر وہ موسیﷺ کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے موسٰیؑ ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کواپنی رسالت اور بکثرت کلام کے ذریعہ لوگوں پر فضیلت دی ہے۔ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کر یں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا تکلیف پہنچی ہے۔ پھرحضرت موسیٰ ؑ کہیں گے کہ یقینا آج میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اس سے قبل اتنا غضبناک کبھی نہیں ہوا اور نہ آئندہ اتنا غضبناک کبھی ہوگا اور یقینا میں نے ایک جان کو قتل کیا تھا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا۔ مجھے تو اپنی فکر ہے۔ تم عیسیٰﷺ کی طرف جاؤ پھر وہ عیسیٰ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسٰیؑ آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ نے لوگوں سے چھوٹی عمر میں کلام کیا او رآپ اس کی طرف سے ایک کلمہ ہیں جو اس نے مریم کی طرف القاء کیا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں۔ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کریں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا تکلیف پہنچی ہے۔ پھر عیسیٰﷺ ان سے فرمائیں گے یقینا آج میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ نہ اس سے قبل کبھی اتنا غضبناک ہوا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا۔ انہوں نے اپنے کسی گناہ کا ذکر نہیں کیا۔ مجھے تو اپنی فکر ہے۔ کسی اور کے پاس جاؤ۔ محمدﷺ کے پاس جاؤ۔ پھر وہ میرے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے اے محمدؐ ! آپؐ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء ہیں اور اللہ نے آپؐ کو ہر سابقہ اور آئندہ لغزش سے منزہ کر دیاہوا ہے۔ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کریں۔ کیا آپؐ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں۔ کیا آپؐ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا تکلیف پہنچی ہے۔ پس میں جاؤں گا اور عرش کے نیچے آکر اپنے رب کے حضور سجدہ میں گر جاؤں گا۔ پھر اللہ مجھ پر الہامًا اپنے محامد اور ایسی خوبصورت ثناء کھولے گا۔ جو اس نے مجھ سے پہلے کسی پر نہ کھولے ہوں گے پھر کہا جائے گا۔ اے محمدؐ ! اپنا سر اٹھاؤ، مانگوتمہیں دیا جائے گا، شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا۔ اے میرے رب! میری امت، میری امت۔ پھر کہا جائے گا۔ اے محمدؐ ! اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جن کے ذمہ کوئی حساب نہیں جنت کے دروازوں میں سے دائیں دروازہ سے جنت میں داخل کر دے اور وہ باقی دروازوں میں بھی لوگوں کے برابر کے شریک ہوں گے۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے جنت کے دروازے کے دونوں کواڑوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور ہجرکے درمیان ہے یا جتنا مکہ اور بُصریٰ کے درمیان میں ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے سامنے ثرید کا پیالہ اور گوشت پیش کیا گیاتو آپؐ نے دستی لی اور آپؐ کوبکری (کے گوشت) میں سے دستی سب سے زیادہ پسند تھی۔ آپؐ نے منہ سے (گوشت) کاٹا اور فرمایا قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار ہوں گا۔ پھر آپؐ نے دوسری مرتبہ (گوشت) کاٹااور فرمایا میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا۔ جب آپؐ نے اپنے صحابہؓ کو دیکھا کہ وہ آپؐ سے کوئی سوال نہیں کر رہے تو آپؐ نے فرمایاتم لوگ کہتے کیوں نہیں کہ کیونکر؟ انہوں نے کہاکیوں کر؟ آپؐ نے فرمایالوگ تمام جہانوں کے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ آگے راوی نے ابو زرعہ سے ہم معنیٰ روایت بیان کی اور یہ کہ انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کے قصّہ میں کچھ اضافہ کیا۔ اور ستارے کے بارہ میں آپ کے اس قول کاذکر کیا ’’ھٰذَا رَبِّی‘‘کہ یہ میرا رب ہے اور معبودوں کے بارہ میں آپ کے اس قول کا’’بَلْ فَعَلَہُ کَبِیْرُہُمْ ہٰذَا‘‘ (بلکہ ان کے اس سردار نے یہ کام کیا ہے)۔ نیز آپ کا یہ قول ’’اِنِّیْ سَقِیْمٌ‘‘ (یقینا میں بیمار ہونے والاہوں ) آپؐ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے یقینا جنت کے دروازوں کے دونوں کواڑوں اور دروازہ کی دہلیز میں مکہ اور ھجریا ھجر اور مکہ جتنا فاصلہ ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نہیں جانتا انہوں نے کیا کہا۔
حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گااور مؤمن کھڑے ہوں گے یہانتک کہ جنت ان کے قریب کر دی جائے گی۔ وہ آدمؑ کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے ہمارے باپ! ہمارے لئے جنت کا دروازہ کھلوا دیں۔ وہ کہیں گے تمہارے باپ آدم کی خطا کے سوا کس چیز نے تمہیں جنت سے نکالاہے۔ میرے بیٹے ابراہیمؑ خلیل اللہ کے پاس جاؤ۔ ابراہیمؑ کہیں گے میں تو اس (کام) کا اہل نہیں۔ میں اللہ کا خلیل ہوں مگر (اس منصب سے) پرے موسیٰﷺ کا قصد کرو جن سے خدا نے خوب کلام کیا پھر لوگ موسیٰﷺ کے پاس جائیں گے تو وہ کہیں گے یہ میرے بس سے باہر ہے۔ عیسیٰ ؑ کے پاس جاؤ جو کلمۃ اللہ اور اس کی روح ہے۔ عیسیٰﷺ کہیں گے میں تو اس کا اہل نہیں ہوں پس وہ محمدﷺ کے پاس جائیں گے۔ چنانچہ آپؐ کھڑے ہوں گے۔ آپؐ کو اجازت دی جائے گی اور امانت٭اوررحم بھیجاجائے گا۔ وہ (پلِ) صراط کے دائیں بائیں کھڑے ہو جائیں گے۔ تم میں سے پہلے بجلی کی طرح گزر جائیں گے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں کون سی چیز بجلی کے گزرنے کی طرح ہے؟ آپؐ نے فرمایا تم نے بجلی کو نہیں دیکھا کہ وہ کیسے گزرتی ہے اور پلک جھپکنے میں لوٹتی ہے۔ پھر دوسرے ہوا کے چلنے کی طرح۔ پھرتیسرے پرندہ کے گزرنے کی طرح اور آدمیوں کے دوڑنے کی طرح۔ ان کے اعمال ان کوتیزی سے لے کر چلیں گے۔ اور تمہارا نبیؐ پلِ صراط پر کھڑا ہوگا۔ وہ کہے گا اے میرے رب! سلامتی نازل فرما، سلامتی نازل فرما یہانتک کہ بندوں کے اعمال تھک کر رہ جائیں گے یہانتک کہ ایسا آدمی آئے گا جو چل نہ سکے گا مگر گھسٹ کر۔ فرمایا (پلِ) صراط کے دونوں جانب آنکڑے لٹک رہے ہوں گے جس کے متعلق حکم ہوگا اس کو پکڑنے پر مامور ہوں گے۔ خراشیں لگنے والے (بھی) ناجی ہیں وہ نجات پا جائیں گے۔ بعض الٹ کر جہنم میں جا گریں گے اور اس کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہؓ کی جان ہے جہنم کی گہرائی ستر برس کی ہے۔