بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 3 of 13 hadith
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ ہمیں بھیجتے ہیں تو ہم لوگوں کے پاس جاتے ہیں اور وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے۔ آپؐ اس بارہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ رسول اللہﷺ نے ہمیں فرمایا جب تم کسی قوم کے پاس جاؤ اور وہ تمہارے لئے اس انتظام کا کہہ دیں جو مہمان کے لئے مناسب ہے تو اسے قبول کرو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان سے مہمانداری کا حق جو ان کے مناسب حال ہے لے لو٭۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک سفر میں ہم نبیﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک شخص اپنی اونٹنی پر سوار آیا۔ راوی کہتے ہیں اس نے دائیں بائیں دیکھنا شروع کیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس زائد سواری ہے وہ اسے دے دے جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے پاس زائد کھانا ہے، وہ اسے دے دے جس کے پاس کھانا نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے اموال کی بہت سی اقسام کا ذکر فرمایا یہانتک کہ ہم نے خیال کیا کہ ہم میں سے کسی کا زائد مال پر کوئی حق نہیں ہے۔
ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک غزوئہ کے لئے نکلے تو ہمیں (کھانے پینے کی) تکلیف سے دوچار ہونا پڑا یہانتک کہ ہم نے اپنی کچھ سواری کے جانور ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ کے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا اور ہم نے اپنے توشہ دان ایک جگہ جمع کرلئے اور ہم نے اس کے لئے چمڑے کا دستر خوان بچھایا اور لوگوں کے توشے اس چمڑے کے دسترخوان پر اکٹھے ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں میں نے اونچا ہوکر دیکھا تاکہ اندازہ کروں کہ کتنا ہے؟ میں نے اندازہ کیا تو وہ ایک بیٹھی ہوئی بکری کے برابر تھا اور ہم چودہ سو افراد تھے۔ راوی کہتے ہیں ہم نے کھایا یہانتک کہ ہم سب سیر ہو گئے پھر اپنے اپنے تھیلے بھر لئے۔ اس کے بعد اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کیا وضوء کے لئے پانی ہے؟ راوی کہتے ہیں ایک شخص اپنی چھاگل لایا جس میں تھوڑا سا پانی تھا اور اسے ایک پیالہ میں ڈالا اور ہم سب نے وضوء کیا چودہ سو آدمیوں نے پانی کا خوب استعمال کیا۔ راوی کہتے ہیں اس کے بعد پھر آٹھ آدمی آئے۔ انہوں نے کہا کیا وضوء کے لئے پانی ہے؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا پانی ختم ہو چکا ہے۔