ابن عون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے نافع کی طرف لڑائی سے پہلے دعوتِ(اسلام) کے بارہ میں پوچھنے کے لئے لکھا۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے مجھے لکھا یہ تو محض آغاز اسلام میں تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے بنو مصطلق پر حملہ کیا اور وہ غافل تھے اور ان کے جانور وںکو پانی پلایا جارہا تھا ۔ آپؐ نے ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا اور قیدیوں کو قید کیا اور اس دن _ یحيٰ کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے کہاجویریہ کوپایا _ یحيٰ کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے کہا تھا جویریہ یا یقینا کہا تھاحارث کی بیٹی اور مجھ سے یہ حدیث حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے بیان کی اور وہ اس لشکر میں شامل تھے ۔ ایک اور روایت میں جویریہ بنت حارث کا ذکر ہے اورا س میں راوی نے شک نہیں کیا ۔
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب لشکر یا مہم پر کوئی امیر مقرر فرماتے تو خاص اسے اللہ کا تقوٰ ی اختیار کرنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کی تاکید فرماتے۔ پھر آپؐ فرماتے اللہ کے نام کے ساتھ اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ کا انکار کرتے ہیں ۔ جنگ کرو اور خیانت نہ کرنا، بدعہدی نہ کرنا اور مثلہ٭ نہ کرنا اور کسی بچہ کو قتل نہ کرنا۔ اور جب تمہارا اپنے مشرک دشمنوں سے مقابلہ ہو تو اُنہیں تین باتوں کی دعوت دو۔ پس ان میں سے جو بھی وہ تمہاری طرف سے قبول کریں وہ اُن سے قبول کرلو اور ان سے رُک جاؤ۔ انہیں اسلام کی طرف بُلاؤ اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان سے قبول کرلو اور اُن سے رُک جاؤ۔ ان سے اپنے علاقہ سے مہاجرین کے علاقہ کی طرف منتقل ہونے کا مطالبہ کرو اور انہیں بتاؤ کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لئے بھی (وہی حقوق ہوں گے) جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر بھی وہی (فرائض) ہونگے جو مہاجرین کے ہیں اور اگر وہ ان سے منتقل ہونے سے انکار کریں تو انہیں بتاؤ کہ ان کا معاملہ بدوی مسلمانوں کا سا ہوگا۔ ان پر بھی اللہ کا حکم ویسے ہی جاری ہوگا جیسے مومنوں پر نافذ ہے اور انہیں غنیمت اورفئے سے کچھ نہیں ملے گا سوائے اس کے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔ اگر وہ (اس سے )بھی انکا ر کریں تو ان سے جزیہ طلب کرو اور اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان سے قبول کرو اور ان سے رُک جاؤ اور اگر وہ انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے لڑائی کرو اور اگر تم قلعہ والوں کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے اللہ اور اس کے نبی ؐ کی ذمہ داری مانگیں تو تم انہیں اللہ اور اس کے نبیؐ کی ذمہ داری نہ دو بلکہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی ذمہ داری دو کیونکہ اگر تم اپنی یا اپنے ساتھیوں کی ذمہ داری کو پورا نہ کر سکو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول ؐ کی ذمہ داری پوری نہ کرو۔ اور جب تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے اللہ کے حکم پر اترنے کی اجازت مانگیں تو تم انہیں اللہ کے حکم پر نہ نکالو بلکہ اپنے حکم کے تحت نکالو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تم ان کے متعلق اللہ کا حکم ادا کرسکتے ہو یا نہیں ۔راوی عبدالرحمان کہتے ہیں یہی فرمایا تھا یا اس جیسا۔ حضرت نعمان بن مقرن ؓ سے بھی اس جیسی روایت مروی ہے۔ ایک اور روایت میں( اِذَا اَمَّرَ اَمِیْرًا عَلٰی جَیشٍ اَوْ سَرِیَّۃ ٍ اَوْصَاہُ کی بجائے) اِذْ بَعَثَ اَمِیْرًا اَوْ سَرِیَّۃً دَعَاہُ فَاوْصَاہُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب اپنے صحابہؓ میں سے کسی کو اپنے کسی کام کے لئے بھیجتے تو فرماتے خوشخبری دو اور متنفر نہ کرو اور آسانی پیدا کرو اور مشکل پیدا نہ کرو۔
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . نَحْوَ حَدِيثِ
شُعْبَةَ
وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ
زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ
وَتَطَاوَعَا وَلاَ تَخْتَلِفَا
.
حضرت سعید بن ابی بردہؓ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے انہیں اور حضرت معاذ ؓ کو یمن بھیجا اور فرمایا تم دونوںآسانی پیدا کرنا اور مشکل پیدا نہ کرنااور خوشخبری سنانا اور متنفر نہ کرناایک دوسرے سے تعاون کرنا اور اختلاف نہ کرنا۔ ایک اور روایت میں تَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا کے الفاظ نہیں ہیں۔
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
حضرت ا بن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ پہلوں اور پچھلوں کو قیامت کے دن جمع کرے گا توہر عہد شکن کا جھنڈا بلند کیا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا ۔ یہ فلاں ابن فلاں کی عہد شکنی ہے ۔
عبد اللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقینا اللہ تعالیٰ غدار کے لئے جھنڈا نصب فرمائے گا اور کہا جائے گا دیکھو یہ فلاں کی غداری ہے۔
حضرت عبد اللہ ؓ کے دو بیٹوں حمزہ اور سالم سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا قیامت کے دن ہر غدار کے لئے جھنڈا ہوگا۔
حضرت عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر غدار کے لئے ایک جھنڈا ہوگا اور اعلان کیا جائے گا کہ یہ فلاں کی غداری ہے۔ عبدالرحمان کی روایت میں یُقَالُ ھٰذِہ غَدْرَۃُ فُلَانٍ کے الفاظ نہیں ہیں ۔