بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 13 hadith
حضرت زید بن خالد جہنیؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور آپؐ سے گری پڑی چیزجواٹھائی جائے کے بارہ میں پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کی پہچان کرو پھر ایک سال تک اس کااعلان کرو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو(ٹھیک)ورنہ تمہیں اس پر اختیار ہے۔ پھر اس نے گم شدہ بکری کے بارہ میں پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی یا پھر بھیڑئے کی ہے۔ اس نے عرض کیا کہ گمشدہ اونٹ؟ آپؐ نے فرمایا تمہیں اس سے کیا؟ اس کا مشکیزہ اور اس کا جوتااس کے ساتھ ہے۔ وہ پانی پر اترے گا اور درخت (کے پتے) کھائے گا یہانتک کہ اس کا مالک اسے پالے۔
حضرت زید بن خالد جہنیؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے گری پڑی چیز کے متعلق سوال کیا۔ آپؐ نے فرمایا اس کا ایک سال تک اعلان کرو۔ اس کے بندھن اور تھیلی کو پہچان لو۔ اس کے بعد اسے خرچ کرلو اور اگر اس کا مالک آئے تو اسے اس کی ادائیگی کرو۔ پھر اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! گم شدہ بکری کے بارہ میں؟آپؐ نے فرمایا اسے لے لو کیونکہ وہ تمہاری یا تمہارے بھائی کی یا پھر بھیڑئے کی ہے۔ اُس نے کہا یا رسولؐ اللہ !گم شدہ اونٹ۔ ۔ ۔ ؟ راوی کہتے ہیں اس پر رسول اللہﷺ ناراض ہوئے یہانتک کہ آپؐ کے دونوں رخسار سرخ ہوگئے یا(کہا) آپؐ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ پھر آپؐ نے فرمایاتمہیں اس سے کیا؟اس کے ساتھ اس کا جوتا اوراس کا مشکیزہ ہے یہانتک کہ اس کا مالک اسے پالے۔ ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور میں آپؐ کے پاس تھا۔ اس نے آپؐ سے گری پڑی چیز کے بارہ میں پوچھا.... فرمایا اگر کوئی اس کا مطالبہ کرنے والا تمہارے پاس نہ آئے تو اسے خرچ کرلو۔ ایک روایت میں (اِنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ کی بجائے) اَ تَی رَجُلًا رَسُولَ اللّٰہِﷺ کے الفاظ ہیں اور اس روایت میں (اِحْمَرَّتْ وَجْنَتَاہُ اَوْ اِحْمَرَّ وَجْھُہُ کی بجائے) فَاحْمَارَّ وَجْھُہُ وَجَبِیْنُہُ وَغَضِبَ کے الفاظ ہیں۔ اور اس کے بعد اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اس کا ایک سال اعلان کرو۔ اگر اس کا مالک نہ آئے تو وہ تمہارے پاس امانت ہے۔
منبعث کے آزاد کردہ غلام یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کے صحابی حضرت زید بن خالدؓ جہنی کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ سے گرے پڑے سونے یا چاندی کے بارہ میں پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا اس کے بندھن اور اس کی تھیلی کی پہچان کر لو۔ پھر اس کا ایک سال اعلان کرو۔ اگر تمہیں پتہ نہ لگے تو اسے خرچ کرلو لیکن وہ تمہارے پاس امانت ہے پھر اگر کسی دن اس کا طالب آجائے تو وہ اسے ادا کر دو۔ اس نے گمشدہ اونٹ کے بارہ میں پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا تجھے اس سے کیا؟ اسے چھوڑ دو کیونکہ اس کا جوتا اور اس کا مشکیزہ اس کے ساتھ ہے وہ پانی پئے گا اور درخت (سے) کھائے گا یہانتک کہ اس کا مالک اس کو پالے گا۔ اس نے بکری کے بارہ میں پوچھا تو آپؐ نے فرمایا اسے لے لو کیونکہ وہ تمہارے لئے یا تمہارے بھائی کے لئے یا بھیڑئیے کے لئے ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شخص نے نبیﷺ سے گم شدہ اونٹ کے متعلق سوال کیا مگر اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپؐ اس قدر ناراض ہوئے کہ آپؐ کے دونوں رخسار سرخ ہوگئے۔ پھریہ روایت باقی روایت کی طرح بیان کی اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر اس کا مالک آجائے اور وہ اس کی تھیلی اور تعداد اور بندھن کو پہچانے تویہ اسے دے دو ورنہ وہ تمہارے لئے ہے۔
حضرت زید بن خالد جہنیؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے گری پڑی چیز کے بارہ میں پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایاایک سال تک اس کا اعلان کردو۔ اگر تم اسے کوئی پہچاننے والا نہ پاؤ تو اس کے بندھن اور اس کی تھیلی کی پہچان رکھو پھر اسے استعمال کرو۔ پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اسے وہ ادا کرو۔ ایک اور روایت میں (فَاِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَھَاوَوِکَائَ ھَا کی بجائے) فَاِنْ اعْتُرِفَتْ فَاَدِّھَا وَاِلَّافَاعْرِفْ عِفَاصَھَاوَ وِکَائَ ھَا وَعَدَدَھَا کے الفاظ ہیں۔
سلمہ بن کُہیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے سوید بن غفلہ سے سنا۔ وہ کہتے ہیں میں اور زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ غزوئہ کے لئے نکلے۔ میں نے ایک چابک پایا۔ میں نے وہ لے لیا۔ ان دونوں نے مجھے کہا اسے رہنے دو۔ میں نے کہا نہیں بلکہ میں اس کا اعلان کروں گا۔ اگر اس کا مالک آئے گا (تو اسے دے دوں گا) ورنہ میں اس سے فائدہ اُٹھاؤں گا۔ وہ کہتے ہیں میں نے ان دونوں کی بات کا انکار کردیا۔ جب ہم اپنے غزوئہ سے لوٹے تو میرے لئے مقدر ہوا میں نے حج کیا اور پھر میں مدینہ آیا اور حضرت ابی بن کعبؓ سے ملا اور انہیں چابک اور ان دونوں کی بات بتائی۔ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ کے زمانہ میں مجھے ایک تھیلی ملی جس میں سو دینار تھے۔ میں وہ رسول اللہﷺ کے پاس لایا۔ آپؐ نے فرمایا اس کا ایک سال تک اعلان کرو۔ وہ کہتے ہیں میں نے اس کا اعلان کیا لیکن میں نے کوئی شخص اسے پہچاننے والا نہ پایا پھر میں آپؐ کے پاس آیا۔ آپؐ نے فرمایا ایک سال (اور) اعلان کرو۔ میں نے پھر ایک سال اعلان کیا مگر کوئی اسے پہچاننے والا نہ پایا۔ میں پھر آپؐ کے پاس آیا۔ آپؐ نے فرمایا ایک سال اور اعلان کرو۔ میں نے ایک سال اور اعلان کیا لیکن کسی کو اسے پہچاننے والا نہ پایا۔ آپؐ نے فرمایا اس کی گنتی کر لواور اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کو یاد رکھو۔ اگر اس کا مالک آجائے (تو ٹھیک) ورنہ تم اس سے فائدہ اُٹھاؤ۔ میں نے اُس سے فائدہ اُٹھایا۔ راوی کہتے ہیں پھر اس کے بعد میں اُن(سلمہ بن کہیل) سے مکہ میں ملا۔ انہوں نے کہا مجھے یادنہیں کہ انہوں (ابی بن کعبؓ )نے تین سال کہا تھا یا ایک سال۔ ایک اور روایت میں (حَدَّّثَّنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنَ کُھَیْلٍ کی بجائے) حَدَّّثَّنَا شُعْبَۃُ اَخْبَرَنِی سَلَمَۃُ بْنُ کُھَیْلٍ اَوْ اَخْبَرَ الْقَوْمَ وَاَنَا فِیْھِمْ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں راوی شعبہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے ان سے دس سال بعد یہ کہتے سنا کہ عَرَّفَھَا عَامًا وَاحِدًا۔ ایک اور روایت میں عَامَیْنِ اَوْ ثَلَاثَۃً کے الفاظ ہیں اور باقی سب روایتوں میں ثَلاثَۃَ اَحْوَالٍ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں فَاِنْ جَآئَ اَحََدٌ یُخْبِرُکَ بِعَدَدِھا وَوِِعَائِھَا وَوِکَائِھَافَاَعْطِھَا اِیَّاہُ۔
حضرت زید بن خالد جہنیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی گمشدہ (جانور) کو اپنے پاس سنبھال لیا تو جب تک وہ (خود) اس کا اعلان نہ کرے تو وہ گمراہ ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص کسی کے جانور کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے۔ کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ اس کے چوبارہ میں کوئی آئے اور اس کاگودام توڑا جائے اور اس کا غلہ منتقل کیا جائے۔ لوگوں کے جانوروں کے تھن، ان کی خوراک محفوظ کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔ پس کوئی کسی کے جانوروں کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے۔ ایک روایت میں (یَنْتَقِلُ طَعَامَہُ کی بجائے) یُنْتَثَل (نکال لیا جائے) کے الفاظ ہیں۔
ابی شریح العدوی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا جب رسول اللہﷺ نے کلام کیاتو آپؐ نے فرمایا جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ اس کے جائزہ کا۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اس کے جائزہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا اس کے ایک دن اور اس کی ایک رات کا اور ضیافت تین دن ہے۔ اور جو اس سے زائد ہے وہ اس سے نیکی ہے۔ فرمایا جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔
ابو شریح خزاعی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا مہمان نوازی تین دن تک ہے۔ اور اس کی خصوصی خاطر داری ایک دن اور رات ہے اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پاس اتنا ٹھہرے کہ اسے گناہ گار کردے۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ !وہ اسے گناہ میں کیسے مبتلاء کرے گا آپؐ نے فرمایا وہ اس کے پاس اتنا ٹھہرا رہے کہ اس کے پاس کچھ نہ ہو جس سے وہ اس کی ضیافت کرسکے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو شریح خزاعی بیان کرتے ہیں میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھ نے دیکھا اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا جب رسول اللہﷺ نے یہ فرمایا باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں (لِرَجُلٍ مُسْلِمٍ کی بجائے) لِاَحَدِکُمْ کے الفاظ ہیں۔