بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 22 hadith
نبی کریمﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں بریرہؓ کا تین سنتوں سے تعلق ہے۔ جب وہ آزاد ہوئی تو اسے اپنے خاوند کے بارہ میں اختیار دیا گیا۔ اسے گوشت کا تحفہ دیا گیا۔ رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے اور ہنڈیا آگ پر تھی۔ آپؐ نے کھانا طلب فرمایا تو آپؐ کے پاس روٹی اور گھر کا سالن لایا گیا۔ آپؐ نے فرمایا کیا میں نے آگ پر ہنڈیا نہیں دیکھی تھی جس میں گوشت تھا؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یارسولؐ اللہ! یہ گوشت بریرہؓ کو صدقہ دیا گیا تھا۔ ہم نے نا پسند کیا کہ اس میں سے آپ کو کھلائیں۔ آپؐ نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہے اور وہ اس کی طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہے۔ اور نبیﷺ نے اس کے بارہ میں فرمایا ولاء اس کے لئے ہے جو آزاد کرے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جواپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر اور لوگوں کی طرف منسوب کرے اس پر اللہ اور فرشتوں کی لعنت ہے۔ اس سے کوئی معاوضہ یامال وصول نہیں کیا جائے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عائشہؓ نے ارادہ کیا کہ وہ ایک لونڈی خرید کر آزاد کریں مگراس کے مالکوں نے(فروخت کرنے سے) انکار کیا سوائے اس کے کہ ولاء ان کے لئے ہو۔ انہوں (حضرت عائشہؓ ) نے اس بات کا ذکر رسول اللہﷺ سے کیا آپؐ نے فرمایا یہ بات تمہیں نہ روکے۔ ولاء اس کے لئے ہے جوآزاد کرے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ولاء کو بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ مسلم کہتے ہیں کہ لوگ سب کے سب اس حدیث کے لئے عبد اللہ بن دینارؓ کے محتاج ہیں ایک اور روایت میں بیع کاذکر ہے ہبہ کا نہیں۔
ابو زبیر بیان کرتے ہیں انہوں نے حضرت جابرؓ بن عبد اللہؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے تحریر فرمایا کہ ہر قبیلہ پر اس کی دیت ہوگی۔ پھر تحریر فرمایا کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ کسی مسلمان شخص کا آزاد کردہ (کسی اور کی طرف) اس کی اجازت کے بغیر منسوب کیا جائے۔ پھر مجھے بتایا گیا کہ آپؐ نے اپنے خط میں اس شخص پر لعنت کی ہے جو ایسا کرے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جو اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر اپنے آپ کو اور لوگوں کی طرف منسوب کرے۔ اس پر اللہ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اس سے قیامت کے دن کوئی معاوضہ یا مال قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایک اور روایت میں (مَنْ تَوَلَّی قَوْمًا بِغَیْرِ اِذْنِ مَوَالِیْہِ کی بجائے) مَنْ وَالَی غَیرِ مَوَالِیْہِ بِغَیْرِ اِذْنِھِمْ کے الفاظ ہیں۔
ابراہیم التیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا حضرت علیؓ بن ابی طالب نے ہم سے خطاب کیا اور کہا جو شخص خیال کرتا ہے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور اس تحریر کے علاوہ کچھ ہے جو ہم پڑھتے ہیں تو وہ غلط کہتا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ تحریر آپؓ (حضرت علیؓ ) کی تلوار کی میان سے لٹکی ہوئی تھی۔ اس میں اونٹوں کی عمروں اور زخموں کی (دیت) کا بیان تھا اور اس میں لکھا تھا نبیﷺ نے فرمایا عیر سے لے کر ثور تک مدینہ حرم ہے۔ جو کوئی اس میں نئی بات پیدا کرے یا کسی نئی بات پیدا کرنے والے کو پناہ دے تو اس پر اللہ اور اس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اس سے اللہ قیامت کے دن کوئی مال یا معاوضہ قبول نہیں کرے گا اور مسلمانوں کی ذمہ داری ایک ہے۔ جس کی کوشش ان کا ادنیٰ بھی کر سکتا ہے جو اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور طرف منسوب کرے یا اپنے مالک کے سوا کسی اور کو مالک بنائے تو اس پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ قیامت کے دن اس سے کوئی معاوضہ یا مال قبول نہیں کرے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے کسی گردن کو آزاد کیا اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلہ (آزاد کرنے والے کے) ہر عضو کو آگ سے آزاد کرے گا یہانتک کہ اس کے اندامِ نہانی اس کے اندامِ نہانی کے بدلے۔