حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص مشترکہ غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جوغلام کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس کی منصفانہ قیمت لگائی جائے اور وہ شرکاء کو ان کے حصے دے دے اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا اتنا ہی حصہ آزاد ہوگا جتنا آزادہوا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا اس کے مالکوں نے کہا ہم اس شرط پر اسے آپ کے پاس بیچیں گے کہ اس کی ولاء کا حق ہمارا ہوگا۔ انہوں (حضرت عائشہؓ )نے اس بات کا ذکر رسول اللہ
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے اس غلام کے بارہ میں جو دو آدمیوں میں (مشترک) ہو اور ان میں ایک (اپنا حصہ) آزاد کرے تو آپؐ نے فرمایا وہ ضامن ہوگا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جو شخص غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردے تو اس کی آزادی اس آزاد کرنے والے کے مال سے ہوگی اگر اس کے پاس مال ہے۔ اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو غلام سے کام لیا جائے مگر اس پر مشقت نہ ڈالی جائے۔
ایک اور روایت میں یہ مزید بیان ہے کہ اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو غلام کی منصفانہ قیمت لگائی جائے گی پھر اس سے اس حصہ کے لئے جس میں وہ آزادنہیں ہوا اس سے محنت لی جائے گی لیکن مشقّت نہیں ڈالی جائے گی۔
ایک اور روایت میں (قُوِّم َ عَلَیْہِ الْعَبْدُ قِیْمَۃَ عَدْلٍ کی بجائے) قُوِّم عَلَیْہِ قِیْمَۃَ عَدْلٍکے الفاظ ہیں۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي . فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلاَؤُكِ . فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي . فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ . ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ . حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَىَّ فَقَالَتْ يَا عَائِشَةُ إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ . بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ وَزَادَ فَقَالَ لاَ يَمْنَعُكِ ذَلِكِ مِنْهَا ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي . وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ .]
عروہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا کہ بریرہؓ حضرت عائشہؓ کے پاس اپنی مکاتبت کے سلسلہ میں ان سے مدد مانگنے آئی اور اس نے اپنی مکاتبت میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ حضرت عائشہؓ نے اس سے کہا اپنے مالکوں کے پاس واپس جاؤاگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری طرف سے مکاتبت کی رقم ادا کروں اور تمہاری ولاء میری ہوگی تو میں ایسا کردوں گی۔ بریرہؓ نے اس کا ذکر اپنے مالکوں سے کیا انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ اگر وہ اللہ کے لئے تجھ پر (مہربان) ہو تو ایسا کریں اور تیری ولاء تو ہماری ہوگی (حضرت عائشہؓ ) نے رسول اللہﷺ سے اس کا ذکر کیا تو رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا تم اسے خریدو اور آزاد کردو۔ ولاء تو صرف اسی کے لئے ہے جو اسے آزاد کردے۔ پھر رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسی شرائط باندھتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں جو شخص ایسی شرط کرتا ہے جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہے توایسے شخص کے لئے کچھ نہیں ہے اگرچہ وہ سو مرتبہ شرط باندھے۔ اللہ کی شرط ہی زیادہ حقدار اور مضبوط ہے۔
ایک اور روایت نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے آپؓ فرماتی ہیں بریرہؓ میرے پاس آئی اور اس نے کہا اے عائشہؓ میں نے اپنے مالکوں سے ہر سال نو اوقیہ پر مکاتبت کی ہے۔ اور اس روایت میں یہ بات مزید ہے کہ آپﷺ نے فرمایا یہ بات تمہیں اس (کو خرید کرآزاد کرنے) سے نہ روکے۔ خریدو اور آزاد کرو۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ پھر رسول اللہﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدو ثناء بیان کی پھر اس کے بعد فرمایا بات یہ ہے کہ...۔
حضرت عائشہؓ سے روا یت ہے آپؓ فرماتی ہیں بریرہؓ میرے پاس آئیں اور اس نے کہا میرے مالکوں نے میرے ساتھ سال میں نو اوقیہ پر نو سالوں میں مکاتبت کی ہے۔ ہر سال ایک اوقیہ دینا ہوگا آپ میری مدد کریں۔ میں نے اس سے کہا اگر تمہارے مالک چاہیں کہ میں یکمشت انہیں رقم دے دوں اور تمہیں آزاد کر دوں اور تمہاری ولاء میری ہو تو میں ایسا کردوں گی۔ اس نے اس بات کا ذکر اپنے مالکوں سے کیا مگر انہوں نے انکار کردیا سوائے اس کے کہ ولاء ان کے لئے ہو۔ وہ میرے پاس آئی اور اس بات کا ذکر کیا۔ وہ فرماتی ہیں میں نے اسے ڈانٹا۔ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم ! جب اس نے یہ کہا تو رسول اللہﷺ نے سن لیا اور مجھ سے پوچھا تو میں نے آپؐ کو بتایا۔ آپؐ نے فرمایا اسے خریدو اور آزاد کردو اور ان سے ولاء کی شرط کرلو کیونکہ ولاء اس کے لئے ہے جو آزاد کرے۔ میں نے ایسے ہی کیا۔ آپؓ فرماتی ہیں پھر ایک شام کو رسول اللہﷺ نے خطاب فرمایا آپؐ نے اللہ کی حمدو ثناء کی جس کا وہ اہل ہے پھر فرمایااماّ بعد، اُن لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو ایسی شرطیں کرتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں۔ ایسی شرط جو کتاب اللہ میں نہیں ہے وہ باطل ہے اگرچہ سو 100 شرطیں ہوں اللہ کی کتاب زیادہ حقدار ہے اور اللہ کی شرط زیادہ مضبوط ہے تم میں سے بعض لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ! ان میں سے کوئی کہتا ہے فلاں کو آزاد کرو اور ولاء میرے لئے ہو۔ ولاء تو صرف اس کے لئے ہے جو آزاد کرے۔
ایک اور روایت میں ہے اس کا خاوند غلام تھا تو رسول اللہﷺ نے اس (بریرہؓ )کو اختیار دیا اس نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور اگر وہ آزاد ہوتا تو آپؐ اسے اختیار نہ دیتے۔
اور اس روایت میں امَّا بَعْدُ کے الفاظ نہیں ہیں۔
قَالَتْ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا وَلاَءَهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
. قَالَتْ وَعَتَقَتْ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا . قَالَتْ وَكَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا وَتُهْدِي لَنَا . فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں کہ بریرہؓ کے معاملہ میں تین فیصلے ہوئے۔ اس کے مالکوں نے اسے بیچنا چاہا اور اس کی ولاء کی شرط کرنا چاہی میں نے اس بات کا ذکر نبیﷺ سے کیا آپؐ نے فرمایا اسے خرید و اور آزاد کردو اور ولاء اس کے لئے ہے جو آزاد کرے۔ آپؓ فرماتی ہیں میں نے اسے آزاد کیا تو رسول اللہﷺ نے اسے(اس کے خاوندکا) اختیار دیا۔ اس نے اپنے نفس کو اختیار کیا۔ آپؓ فرماتی ہیں لوگ اسے صدقہ دیتے تھے اور وہ ہمیں ہدیہ دیتی تھیں۔ میں نے اس بات کا ذکر نبیﷺ سے کیا۔ آپؐ نے فرمایا وہ اس کے لئے صدقہ ہے اور تمہارے لئے ہدیہ ہے اور تم اسے کھا سکتے ہو۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہؓ کو انصارؓ کے کچھ لوگوں سے خریدا۔ انہوں نے ولاء کی شرط لگائی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ولاء اس کے لئے ہے جو احسان کرتا ہے اور رسول اللہﷺ نے اسے اختیار دیا اور اس کا خاوند غلام تھا اور اس (بریرہؓ ) نے حضرت عائشہؓ کو گوشت تحفہ دیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم اس گوشت میں سے ہمارے لئے پکاتیں۔ حضرت عائشہؓ نے کہا وہ توبریرہؓ کو صدقہ دیا گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا وہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہؓ کوخرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا۔ انہوں (اس کے مالکوں ) نے اس کے ولاء کی شرط رکھی۔ آپ رضی اللہ عنہا (حضرت عائشہؓ ) نے اس کا ذکر رسول اللہﷺ سے کیا۔ آپؐ نے فرمایا اس کو خریدو اور اسے آزاد کردو ولاء اس کے لئے ہے جو آزاد کرے اور رسول اللہﷺ کوگوشت کاہدیہ دیا گیا انہوں نے نبیﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ تو بریرہؓ کو صدقہ دیا گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے اور اسے اختیار دیا گیا ہے۔ راوی عبد الرحمان کہتے ہیں اس کا خاوند آزاد تھا۔ شعبہ کہتے ہیں پھر میں نے اس سے اس (بریرہؓ ) کے خاوند سے متعلق پوچھا اس نے کہا مجھے معلوم نہیں۔