بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 17 hadith
عبداللہ بن شداد کہتے ہیں حضرت ابن عباسؓ کے سامنے دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا گیا۔ ابن شداد نے کہا کیا یہ دونوں وہ ہیں جن کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو بغیر دلیل کے سنگسار کرتا تو اس(عورت) کو سنگسار کرتا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا نہیں، (وہ) تووہ عورت تھی جو علانیہ (بدکار) تھی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت سعد ؓ بن عبادہ انصاری نے کہا یا رسولؐ اللہ! فرمائیے آپؐ کا کیا خیال ہے ایک شخص اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پاتا ہے ، کیا وہ اس(آدمی) کو قتل کردے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ حضرت سعدؓ نے کہا کیوں نہیں۔اس کی قسم جس نے آپؐ کو سچائی کے ساتھ معزز کیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سنو! تمہارا سردار کیاکہہ رہا ہے ۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت سعدؓ بن عبادہؓ نے کہا یا رسول ؐاللہ! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پاؤں تو اس کو ہاتھ نہ لگاؤں یہانتک کہ میں چار گواہ لے آؤں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا ہر گز نہیں۔ اس کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر میںہوں تو اس سے پہلے ہی جلدی سے تلوار کے ساتھ اس کا (فیصلہ) کر دوں رسول اللہ ﷺنے فرمایاسنو! تمہارا سردار کیا کہتا ہے۔ وہ بہت غیور ہے !اور میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت سعد بن عبادہؓ نے کہا اگر میں کسی شخص کو اپنی بیوی کے پاس دیکھوں تو اُسے تلوار سے قتل کردوںاورتلوار بھی چوڑے رخ سے نہیں (دھارکے رُخ سے۔) یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپؐ نے فرمایا کیا تم سعدؓ کی غیرت پر تعجب کرتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔ اللہ نے اپنی غیرت ہی کی وجہ سے بے حیائیوں کو منع فرمایا ہے جو ان میں سے ظاہر ہوں اور جو پوشیدہ ہوں اور کوئی شخص بھی اللہ سے زیادہ غیرت مند نہیں اور اللہ سے بڑھ کر کوئی شخص معذرت کرنے کو پسند نہیں کرتا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر مبعوث فرمایا ہے اور کوئی شخص اللہ سے بڑھ کر مدح کو پسند نہیں کرتا۔اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔ ایک اور روایت میں غَیْرَ مُصْفِحٍ کے بعد عَنْہُ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بنی فزارہ میں سے ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا میری بیوی نے سیاہ (رنگ کے ) بچے کو جنم دیا ہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا ان کے رنگ کیا ہیں؟ اس نے کہا سرخ۔ آپؐنے فرمایا کیا ان میں کوئی خاکستری بھی ہیں؟اس نے کہا ان میں خاکستری بھی ہے۔ آپؐ نے فرمایا وہ(رنگ) کہاں سے آیا؟ اس نے کہا شاید وہ کسی رگ کی وجہ سے ہو۔ آپؐ نے فرمایا ممکن ہے کہ یہ ( بھی)کسی رگ کی وجہ سے ہو۔ ایک اور روایت میں ہے اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! میری بیوی نے سیاہ (رنگ کے )بچے کو جنم دیا ہے اور اس کے بارہ میں وہ یہ اشارہ کر رہا تھا کہ اس کے (اپنے نسب سے ہونے کا) انکار کردے۔ اور روایت کے آخر میں اضافہ ہے کہ آپؐ نے اسے اس سے انکار کی اجازت نہیں دی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! میری بیوی نے سیاہ رنگ کے بچے کو جنم دیا ہے ۔اور مجھے یہ بات بالکل اوپری لگی ہے۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا ان کے رنگ کیا ہیں؟ اس نے کہا سرخ۔ آپؐ نے فرمایا کیا ان میں کوئی خاکستری بھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ کیسے ؟ اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! شاید وہ کسی رگ کی وجہ سے ہو تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایاتو شاید یہ بھی اس کی کسی رگ کی وجہ سے ہو۔