بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 66 hadith
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کے زمانہ میں اپنی بیوی کو طلاق دی جبکہ وہ حائضہ تھیں۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے اس بارہ میں رسول اللہﷺ سے پوچھا تو رسول اللہﷺ نے انہیں فرمایا اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرے پھر اسے رہنے دے یہانتک کہ وہ پاک ہوجائے۔ پھر وہ حائضہ ہو پھرپاک ہوجائے۔ پھر اس کے بعد اگر وہ چاہے تو اسے روک لے اور چاہے تو تعلق قائم کرنے سے پہلے طلاق دے دے۔ پس یہی وہ عدت ہے جس کے مطابق اللہ عزّ وجل نے عورتوں کی طلاق کی اجازت دی ہے۔
حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی اور وہ حائضہ تھیں۔ تو رسول اللہﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رجوع کرے پھر اسے اپنے پاس رکھے۔ یہانتک کہ وہ پاک ہوجائے۔ پھر ان کے پاس ہی وہ دوسری مرتبہ حائضہ ہو۔ پھر وہ اسے مہلت دے یہانتک کہ وہ اپنے حیض سے پاک ہوجائے۔ پھر اگر وہ اسے طلاق دینا چاہے تو جب وہ پاک ہوجائے تو اس سے مجامعت کرنے سے قبل اسے طلاق دے دے۔ پس یہ وہ عدت ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ عورتوں کو طلاق دی جائے۔ ابن رُمح نے اپنی روایت میں یہ مزید کہا کہ عبد اللہؓ سے جب اس بارہ میں پوچھاجاتا تو وہ کہتے کہ تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں؟ رسول اللہﷺ نے مجھے اس کا حکم دیا تھااور اگر تم نے اسے تیسری طلاق دی ہوتی تو وہ تم پر حرام ہوجاتی یہاں تک کہ وہ تمہارے علاوہ کسی اور سے شادی کرتی تو تم اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بارہ میں جو حکم اللہ نے دیا ہے اس کی نافرمانی کرنے والے ٹھہرتے۔ مسلم نے کہا ہے کہ لیث نے اپنے قول میں بہت عمدہ کہا ہے کہ یہ ایک طلاق ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کے زمانہ میں اپنی بیوی کو طلاق دی اور وہ حائضہ تھیں۔ حضرت عمرؓ نے اس کا ذکر رسول اللہﷺ سے کیا تو آپؐ نے فرمایا اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرے پھر اسے رہنے دے یہانتک کہ وہ پاک ہوجائے۔ پھر وہ دوسری مرتبہ حائضہ ہو پھر جب پاک ہوجائے تو اُ س سے جماع کرنے سے پہلے طلاق دے یا اسے روک لے کیونکہ یہی وہ عدت ہے جس کے بارہ میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ عورتوں کو طلاق دی جائے۔ عبید اللہ کہتے ہیں میں نے نافع سے کہا اس طلاق کا کیا ہوا؟ انہوں نے کہا ایک شمار ہوگی۔ ایک اور روایت میں (فَلْیُرَاجِعْھَاکی بجائے) فَلْیَرْجِعْھَا کے الفاظ ہیں۔
نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓ نے اپنی بیوی کوطلاق دی اور وہ حائضہ تھیں۔ اس پر حضرت عمرؓ نے نبیﷺ سے پوچھا تو آپؐ نے انہیں حکم دیا کہ اس سے رجوع کرے وہ پھر اُسے مہلت دے یہانتک کہ وہ ایک دفعہ پھر حائضہ ہو جائے پھر اسے مہلت دے یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے پھر اس سے تعلق قائم کرنے سے پہلے طلاق دے۔ پس یہ وہ عدت ہے جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کی اجازت دی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمرؓ سے ایسے شخص کے بارہ میں سوال کیا جاتا کہ جب کوئی اپنی بیوی کو حائضہ ہونے کی حالت میں طلاق دیتا ہے۔ تو کہتے کہ خواہ تونے ایک طلاق دی یا دو۔ یقینا رسول اللہﷺ نے اس کے بارہ میں ہے حکم دیا ہے کہ وہ رجوع کرے۔ پھر اسے مہلت دے یہاں تک کہ وہ دوسری مرتبہ حائضہ ہوجائے۔ پھر اسے مہلت دے کہ وہ پاک ہوجائے۔ پھر اس سے تعلق قائم کرنے سے پہلے طلاق دے اور اگر تم نے اسے تین بار طلاق دی تو تم نے اپنے رب کے اپنی بیوی کو طلاق کے بارہ میں حکم کی نافرمانی کی اور (اب) وہ تجھ سے علیحدہ ہوچکی۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور وہ حائضہ تھی۔ حضرت عمرؓ نے نبیﷺ سے اس کا ذکر کیا تو رسول اللہﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرے یہانتک کہ اسے دوسرا حیض آجائے اس حیض کے علاوہ جس میں اس نے اسے طلاق دی ہے۔ پھر اگر اس کا ارادہ اسے طلاق دینے کا ہو تو وہ اسے حیض سے پاک ہونے کی حالت میں طلاق دے قبل اس کے کہ وہ اس سے تعلق قائم کرے۔ یہ طلاق اس عدت کے بارہ میں ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے اور حضرت عبد اللہؓ نے اسے ایک طلاق دی تھی اور حضرت عبد اللہؓ نے رجوع کرلیا جیسا کہ رسول اللہﷺ نے انہیں حکم دیا تھا۔ پس اس کی ایک طلاق شمار کی گئی۔ ایک اور روایت میں اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ حضرت ابن عمرؓ نے کہا کہ میں نے رجوع کرلیا تھا اور جو میں نے اس کو طلاق دی تھی اس کو ایک طلاق شمار کیا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کوطلاق دی اور وہ حائضہ تھی۔ اس بات کا ذکر حضرت عمرؓ نے نبیﷺ سے کیا تو آپؐ نے فرمایا اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرے پھر اسے پاک ہونے یا حاملہ ہونے کی حالت میں طلاق دے۔ ٭
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کوطلاق دی اور وہ حائضہ تھی۔ اس پر حضرت عمرؓ نے اس بارہ میں رسول اللہﷺ سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرے حتّٰی کہ وہ پاک ہوجائے پھر وہ دوسری مرتبہ حائضہ ہو پھر پاک ہو، پھر اس کے بعد وہ طلاق دے یا روک لے۔
ابن سیرین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھ سے ایک ایسا شخص جس پر میں کوئی تہمت نہیں لگاتا بیس سال تک بیان کرتا رہا کہ حضرت ابن عمرؓ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں اور وہ حائضہ تھیں تو انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا گیا۔ میں نہ تو(اس روایت کے) راویوں پر تہمت لگاتا تھا اور نہ ہی مجھے اس روایت کی معرفت تھی یہانتک کہ میں ابو غلاب یونس بن جبیر الباہلی سے ملا اور وہ قابلِ اعتماد آدمی تھے۔ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ابنِ عمرؓ سے پوچھا تھا تو انہوں نے مجھے(ابو غلاب کو) بتایا کہ انہوں نے حا لتِ حیض میں اپنی عورت کو طلاق دی تو انہیں حکم دیا گیا کہ وہ رجوع کریں۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا کیا وہ طلاق اس کی طرف سے شمار کی گئی؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں اگرچہ(طلاق دینے والا) عاجز آجاتا یا حواس کھو بیٹھتا (تو کیا طلاق شمار نہ ہوتی)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے نبیﷺ سے اس بارہ میں پوچھا تو آپؐ نے انہیں حکم دیا ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے اس بارہ میں نبیﷺ سے پوچھا تو آپؐ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رجوع کرے حتّٰی کہ وہ طہر کی حالت میں بغیر ازدواجی تعلق طلاق دے اور فرمایا وہ اسے عدت کے آغاز میں طلاق دے۔
یونس بن جبیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمرؓ سے کہا: ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور وہ حائضہ تھی۔ انہوں نے کہا کیا تم عبد اللہ بن عمرؓ کو جانتے ہو؟ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی اور وہ حائضہ تھی۔ اس پر حضرت عمرؓ نبیﷺ کے پاس آئے اور آپؐ سے پوچھا۔ آپؐ نے حکم دیا کہ اس سے رجوع کرے اور پھر نئے سرے سے اس کی عدّت شمار کرے۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان سے کہا جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے اور وہ حائضہ ہو کیا آپ وہ طلاق شمار کریں گے؟ انہوں نے کہا تو اور کیا؟ ہاں اگر (طلاق دینے والا) عاجز آتا یا حواس کھو بیٹھتا (تو کیا طلاق شمار نہ ہوتی)؟
یونس بن جبیر کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمرؓ کو کہتے سنا میں نے اپنی بیوی کو حائضہ ہونے کی حالت میں طلاق دی تھی۔ حضرت عمرؓ نبیﷺ کے پاس آئے اور آپؐ سے اس بات کا ذکر کیا نبیﷺ نے فرمایا اسے چاہئے کہ وہ رجوع کرے پس جب وہ پاک ہوجائے تو پھر اگر وہ چاہے تو اسے طلاق دے دے۔ راوی کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمرؓ سے کہا کیا آپ نے اس طلاق کو شمار کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ کونسی چیز اس میں روک ہے؟ تمہارا کیا خیال ہے کیا (طلاق دینے والا) عاجز آ جائے یا حواس باختہ ہو جائے (تو کیا طلاق شمار نہ ہوگی)؟